Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. کھڑکیاں کس طرح کی ہیں اور در کیسا ہے وہسوچتا ہوں جس میں وہ رہتا ہے گھر کیسا ہے وہZafar Iqbal (b. 1932)
  2. کھڑی ہے شام کہ خواب سفر رکا ہوا ہےیقین کیوں نہیں آتا اگر رکا ہوا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  3. کھینچ لائی ہے یہاں لذت آزار مجھےجہاں پانی نہ ملے آج وہاں مار مجھےZafar Iqbal (b. 1932)
  4. کیسی رکی ہوئی تھی روانی مری طرفٹھہرا ہوا تھا اپنا ہی پانی مری طرفZafar Iqbal (b. 1932)
  5. گرنے کی طرح کا نہ سنبھلنے کی طرح کاسارا وہ سفر خواب میں چلنے کی طرح کاZafar Iqbal (b. 1932)
  6. لب پہ تکریم تمنائے سبک پائی ہےپس دیوار وہی سلسلہ پیمائی ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  7. لرزش پردۂ اظہار کا مطلب کیا ہےہے یہ دیوار تو دیوار کا مطلب کیا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  8. لہر کی طرح کنارے سے اچھل جانا ہےدیکھتے دیکھتے ہاتھوں سے نکل جانا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  9. مرے نشان بہت ہیں جہاں بھی ہوتا ہوںمگر دراصل وہیں بے نشاں بھی ہوتا ہوںZafar Iqbal (b. 1932)
  10. مسترد ہو گیا جب تیرا قبولا ہوا میںیاد کیا آؤں گا اس طرح سے بھولا ہوا میںZafar Iqbal (b. 1932)
  11. مقبول عوام ہو گیا میںگویا کہ تمام ہو گیا میںZafar Iqbal (b. 1932)
  12. ملا تو منزل جاں میں اتارنے نہ دیاوہ کھو گیا تو کسی نے پکارنے نہ دیاZafar Iqbal (b. 1932)
  13. ملوں اس سے تو ملنے کی نشانی مانگ لیتا ہوںتکلف برطرف پیاسا ہوں پانی مانگ لیتا ہوںZafar Iqbal (b. 1932)
  14. موسم کا ہاتھ ہے نہ ہوا ہے خلاؤں میںپھر اس نے کیا طلسم رکھا ہے خلاؤں میںZafar Iqbal (b. 1932)
  15. میرے اندر وہ میرے سوا کون تھامیں تو تھا ہی مگر دوسرا کون تھاZafar Iqbal (b. 1932)
  16. میں بھی شریک مرگ ہوں مر میرے سامنےمیری صدا کے پھول بکھر میرے سامنےZafar Iqbal (b. 1932)
  17. میں زرد آگ نہ پانی کے سرد ڈر میں رہارہا تو سوئی ہوئی خاک کے خطر میں رہاZafar Iqbal (b. 1932)
  18. میں نے کب دعویٰ کیا تھا سر بسر باقی ہوں میںپیش خدمت ہوں تمہارے جس قدر باقی ہوں میںZafar Iqbal (b. 1932)
  19. نہ اس کو بھول پائے ہیں نہ ہم نے یاد رکھا ہےدل برباد کو اس طرح سے آباد رکھا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  20. نہ کوئی بات کہنی ہے نہ کوئی کام کرنا ہےاور اس کے بعد کافی دیر تک آرام کرنا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  21. نہ کوئی زخم لگا ہے نہ کوئی داغ پڑا ہےیہ گھر بہار کی راتوں میں بے چراغ پڑا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  22. نہ گماں رہنے دیا ہے نہ یقیں رہنے دیاراستہ کوئی کھلا ہم نے نہیں رہنے دیاZafar Iqbal (b. 1932)
  23. نہ گھاٹ ہے کوئی اپنا نہ گھر ہمارا ہواقیام اب کے سر رہگزر ہمارا ہواZafar Iqbal (b. 1932)
  24. نہیں کہ تیرے اشارے نہیں سمجھتا ہوںسمجھ تو لیتا ہوں سارے نہیں سمجھتا ہوںZafar Iqbal (b. 1932)
  25. نہیں کہ دل میں ہمیشہ خوشی بہت آئیکبھی ترستے رہے اور کبھی بہت آئیZafar Iqbal (b. 1932)
  26. وہ ایک طرح سے اقرار کرنے آیا تھاجو اتنی دور سے انکار کرنے آیا تھاZafar Iqbal (b. 1932)
  27. وہی مرے خس و خاشاک سے نکلتا ہےجو رنگ سا تری پوشاک سے نکلتا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  28. ویراں تھی رات چاند کا پتھر سیاہ تھایا پردۂ نگاہ سراسر سیاہ تھاZafar Iqbal (b. 1932)
  29. ہزار بندش اوقات سے نکلتا ہےیہ دن نہیں جو مری رات سے نکلتا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  30. ہمارے سر سے وہ طوفاں کہیں گزر گئے ہیںچڑھے ہوئے تھے جو دریا سبھی اتر گئے ہیںZafar Iqbal (b. 1932)
  31. ہم نے آواز نہ دی برگ و نوا ہوتے ہوئےاور ملنے نہ گئے اس کا پتا ہوتے ہوئےZafar Iqbal (b. 1932)
  32. ہمیں بھی مطلب و معنی کی جستجو ہے بہتحریف حرف مگر اب کے دو بہ دو ہے بہتZafar Iqbal (b. 1932)
  33. ہوا بدل گئی اس بے وفا کے ہونے سےوگرنہ خلق تو خوش تھی خدا کے ہونے سےZafar Iqbal (b. 1932)
  34. ہوائے وادئ دشوار سے نہیں رکتامسافر اب ترے انکار سے نہیں رکتاZafar Iqbal (b. 1932)
  35. ہے اور بات بہت میری بات سے آگےزمین ذرہ ہے اس کائنات سے آگےZafar Iqbal (b. 1932)
  36. ہے کوئی اختیار دنیا پرنہ ہمیں اعتبار دنیا پرZafar Iqbal (b. 1932)
  37. یقیں کی خاک اڑاتے گماں بناتے ہیںمگر یہ طرفہ عمارت کہاں بناتے ہیںZafar Iqbal (b. 1932)
  38. یکسو بھی لگ رہا ہوں بکھرنے کے باوجودپوری طرح مرا نہیں مرنے کے باوجودZafar Iqbal (b. 1932)
  39. یوں بھی نہیں کہ شام و سحر انتظار تھاکہتے نہیں تھے منہ سے مگر انتظار تھاZafar Iqbal (b. 1932)
  40. یوں بھی ہوتا ہے کہ یک دم کوئی اچھا لگ جائےبات کچھ بھی نہ ہو اور دل میں تماشا لگ جائےZafar Iqbal (b. 1932)
  41. یوں تو کس چیز کی کمی ہےہر شے لیکن بکھر گئی ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  42. یوں تو ہے زیر نظر ہر ماجرا دیکھا ہواپھر نہیں دیکھا ہے وہ رنگ ہوا دیکھا ہواZafar Iqbal (b. 1932)
  43. یہاں سب سے الگ سب سے جدا ہونا تھا مجھ کومگر کیا ہو گیا ہوں اور کیا ہونا تھا مجھ کوZafar Iqbal (b. 1932)
  44. یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملاکسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تو نہ ملاZafar Iqbal (b. 1932)
  45. یہ بات الگ ہے مرا قاتل بھی وہی تھااس شہر میں تعریف کے قابل بھی وہی تھاZafar Iqbal (b. 1932)
  46. یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہوراس آنے لگے ہم کو تو یہ دنیا ہی نہ ہوZafar Iqbal (b. 1932)
  47. یہ زمین آسمان کا ممکننہیں سارے جہان کا ممکنZafar Iqbal (b. 1932)
  48. یہ نہیں کہتا کہ دوبارہ وہی آواز دےکوئی آسانی تو پیدا کر کوئی آواز دےZafar Iqbal (b. 1932)
  49. اب کے اس بزم میں کچھ اپنا پتہ بھی دیناپاؤں پر پاؤں جو رکھنا تو دبا بھی دیناZafar Iqbal (b. 1932)
  50. پھر پچھلے پہر آئنۂ اشک میں ظفرؔلرزاں رہی وہ سانولی صورت سویر تکZafar Iqbal (b. 1932)