چہرے پہ خوشی چھا جاتی ہے آنکھوں میں سرور آ جاتا ہے

Sahir Ludhianvi (1921–1980)

چہرے پہ خوشی چھا جاتی ہے آنکھوں میں سرور آ جاتا ہے

جب تم مجھے اپنا کہتے ہو اپنے پہ غرور آ جاتا ہے

تم حسن کی خود اک دنیا ہو شاید یہ تمہیں معلوم نہیں

محفل میں تمہارے آنے سے ہر چیز پہ نور آ جاتا ہے

ہم پاس سے تم کو کیا دیکھیں تم جب بھی مقابل ہوتے ہو

بیتاب نگاہوں کے آگے پردہ سا ضرور آ جاتا ہے

جب تم سے محبت کی ہم نے تب جا کے کہیں یہ راز کھلا

مرنے کا سلیقہ آتے ہی جینے کا شعور آ جاتا ہے