دور رہ کر نہ کرو بات قریب آ جاؤ

Sahir Ludhianvi (1921–1980)

دور رہ کر نہ کرو بات قریب آ جاؤ

یاد رہ جائے گی یہ رات قریب آ جاؤ

ایک مدت سے تمنا تھی تمہیں چھونے کی

آج بس میں نہیں جذبات قریب آ جاؤ

سرد جھونکوں سے بھڑکتے ہیں بدن میں شعلے

جان لے لے گی یہ برسات قریب آ جاؤ

اس قدر ہم سے جھجکنے کی ضرورت کیا ہے

زندگی بھر کا ہے اب ساتھ قریب آ جاؤ