Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. دل نے ٹھوکر کھا کے سمجھا حادثا کیا چیز ہےغم کسے کہتے ہیں درد لا دوا کیا چیز ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  2. رفتہ رفتہ دل بے تاب ٹھہر جائے گارفتہ رفتہ تری نظروں کا اثر جائے گاUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  3. عشق کے ہاتھوں میں پرچم کے سوا کچھ بھی نہیںاس کا عالم تیرے عالم کے سوا کچھ بھی نہیںUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  4. فکر بیش و کم نہیں ان کی رضا کے سامنےیہ مجھے تسلیم ہے ارض و سما کے سامنےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  5. کاش اس بت کو بھی ہم وقف تمنا دیکھیںبرف کی سل سے نکلتا ہوا شعلہ دیکھیںUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  6. گو دور ہو چکا ہوں یاران انجمن سےلیکن مفر نہیں ہے احساس کی چبھن سےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  7. مجھ کو مجبور سرکشی کہیےآپ اندھیرے کو روشنی کہیےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  8. مسکرائیں مسکرائیں مسکرائیں میرے ساتھآپ دنیا کو یہ آئینہ دکھائیں میرے ساتھUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  9. ہر قدم پر مجھے لغزش کا گماں ہوتا ہےچشم ساقی کی نوازش کا گماں ہوتا ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  10. یہ مری ایجاد اظہار تمنا دیکھیےشبنمی آنکھوں کا در پردہ تقاضا دیکھیےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  11. اس دلبری کی شان کے قربان جائیےاب دل دہی کو آئے ہیں جب دل نہیں رہاUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  12. قدم قدم پہ میں سنبھلا ہوں ٹھوکریں کھا کریہ ٹھوکروں نے بتایا غلط روی کیا ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  13. گیا قریب جو پروانہ رہ گیا جل کرجمال خاص حدوں تک جمال ہوتا ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  14. جس آئینے میں بھی جھانکا نظر اسی سے ملیمجھے تو اپنی بھی یارو خبر اسی سے ملیUmar Ansari (1912–2005)
  15. کر اپنی بات کہ پیارے کسی کی بات سے کیالیا ہے کام بتا تو نے اس حیات سے کیاUmar Ansari (1912–2005)
  16. لڑ جاتے ہیں سروں پہ مچلتی قضا سے بھیڈرتے نہیں چراغ ہمارے ہوا سے بھیUmar Ansari (1912–2005)
  17. مجھے مہماں ہی جانو رات بھر کادیا ہوں دوستوں میں رہ گزر کاUmar Ansari (1912–2005)
  18. ہر اک کا درد اسی آشفتہ سر میں تنہا تھاوہ ایک شخص جو سارے نگر میں تنہا تھاUmar Ansari (1912–2005)
  19. ہو کے اس کوچے سے آئی تو ستم ڈھا گئی کیاکچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ صبا پا گئی کیاUmar Ansari (1912–2005)
  20. ہیں سارے جرم جب اپنے حساب میں لکھناسوال یہ ہے کہ پھر کیا جواب میں لکھناUmar Ansari (1912–2005)
  21. باہر باہر سناٹا ہے اندر اندر شور بہتدل کی گھنی بستی میں یارو آن بسے ہیں چور بہتUmar Ansari (1912–2005)
  22. طاری ہے ہر طرف جو یہ عالم سکوت کاطوفاں کا پیش خیمہ سمجھ خامشی نہیںUmar Ansari (1912–2005)
  23. مسافروں سے محبت کی بات کر لیکنمسافروں کی محبت کا اعتبار نہ کرUmar Ansari (1912–2005)
  24. وہی دیا کہ تھیں عاجز ہوائیں جن سے عمرؔکسی کے پھر نہ جلائے جلا بجھا ایساUmar Ansari (1912–2005)
  25. بہار آئی ہے عالم میں عجب وحشت کا ساماں ہےبیاباں میں کبھی گھر ہے کبھی گھر میں بیاباں ہےAali Gopalpuri (1912–1980)
  26. تجھ کو دیکھے اک زمانہ ہو گیازہر اب تو آب و دانہ ہو گیاAali Gopalpuri (1912–1980)
  27. زندگی اک درد و غم کا ساز ہےموت جس کی آخری آواز ہےAali Gopalpuri (1912–1980)
  28. کبھی داستان ہستی یہ تمام تک نہ پہنچےنہ فنا سے آشنا ہو تو دوام تک نہ پہنچےAali Gopalpuri (1912–1980)
  29. لگا کے دل کبھی آنسو بھی ہم بہا نہ سکےلگی جو آگ جگر میں اسے بجھا نہ سکےAali Gopalpuri (1912–1980)
  30. مل گئی درد کی دوا دل کورکھے اللہ میرے قاتل کوAali Gopalpuri (1912–1980)
  31. نظر دیکھتے ہیں جگر دیکھتے ہیںتجھے ہر طرف جلوہ گر دیکھتے ہیںAali Gopalpuri (1912–1980)
  32. نہیں مجھ کو حسرت ماسوا پس اب اس کی یاد سے کام ہےنہ وہ اب شباب کے ولولے نہ خیال شیشہ و جام ہےAali Gopalpuri (1912–1980)
  33. ہجوم غم جاوداں ہو رہا ہےمرے صبر کا امتحاں ہو رہا ہےAali Gopalpuri (1912–1980)
  34. آندھیاں چلتی رہیں افلاک تھراتے رہےاپنا پرچم ہم بھی طوفانوں میں لہراتے رہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  35. آئے ہم غالبؔ‌ و اقبالؔ کے نغمات کے بعدمصحفؔ عشق و جنوں حسن کی آیات کے بعدAli Sardar Jafri (1913–2000)
  36. اب آ گیا ہے جہاں میں تو مسکراتا جاچمن کے پھول دلوں کے کنول کھلاتا جاAli Sardar Jafri (1913–2000)
  37. ابھی اور تیز کر لے سر خنجر ادا کومرے خوں کی ہے ضرورت تری شوخئ حنا کوAli Sardar Jafri (1913–2000)
  38. اک صبح ہے جو ہوئی نہیں ہےاک رات ہے جو کٹی نہیں ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  39. الجھے کانٹوں سے کہ کھیلے گل تر سے پہلےفکر یہ ہے کہ صبا آئے کدھر سے پہلےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  40. بیٹھے ہیں جہاں ساقی پیمانۂ زر لے کراس بزم سے اٹھ آئے ہم دیدۂ تر لے کرAli Sardar Jafri (1913–2000)
  41. تخلیق پہ فطرت کی گزرتا ہے گماں اوراس آدم خاکی نے بنایا ہے جہاں اورAli Sardar Jafri (1913–2000)
  42. تمہارے اعجاز حسن کی میرے دل پہ لاکھوں عنایتیں ہیںتمہاری ہی دین میرے ذوق نظر کی ساری لطافتیں ہیںAli Sardar Jafri (1913–2000)
  43. چشم بد مست کو پھر شیوۂ دلداری دےدل آوارہ کو پیغام گرفتاری دےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  44. خرد والو جنوں والوں کے ویرانوں میں آ جاؤدلوں کے باغ زخموں کے گلستانوں میں آ جاؤAli Sardar Jafri (1913–2000)
  45. خوگر روئے خوش جمال ہیں ہمناز پروردۂ وصال ہیں ہمAli Sardar Jafri (1913–2000)
  46. دل کی آگ جوانی کے رخساروں کو دہکائے ہےبہے پسینہ مکھڑے پر یا سورج پگھلا جائے ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  47. ستاروں کے پیام آئے بہاروں کے سلام آئےہزاروں نامہ ہائے شوق اہل دل کے کام آئےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  48. سرد ہیں دل آتش روئے نگاراں چاہئےشعلۂ رنگ بہار گل عذاراں چاہئےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  49. شاخ گل ہے کہ یہ تلوار کھنچی ہے یاروباغ میں کیسی ہوا آج چلی ہے یاروAli Sardar Jafri (1913–2000)
  50. شبوں کی زلف کی روئے سحر کی خیر مناؤنگار‌ شمس عروس قمر کی خیر مناؤAli Sardar Jafri (1913–2000)