Poetry
Poet
Meter
- ارتقاMeeraji (1912–1949)
- جاتریMeeraji (1912–1949)
- رس کی انوکھی لہریںMeeraji (1912–1949)
- عدم کا خلاMeeraji (1912–1949)
- سرسراہٹMeeraji (1912–1949)
- سمندر کا بلاواMeeraji (1912–1949)
- آج انہیں کچھ اس طرح جی کھول کر دیکھا کئےایک ہی لمحے میں جیسے عمر بھر دیکھا کئےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- اب کوئی آرزو نہیں ذوق پیام کے سوااب کوئی جستجو نہیں شوق سلام کے سواHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- اک عمر سے ہم تم آشنا ہیںہم سے مہ و انجم آشنا ہیںHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- ایسی بھی کیا جلدی پیارے جانے ملیں پھر یا نہ ملیں ہمکون کہے گا پھر یہ فسانہ بیٹھ بھی جاؤ سن لو کوئی دمHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- تمام عمر ترا انتظار ہم نے کیااس انتظار میں کس کس سے پیار ہم نے کیاHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- راز سر بستہ محبت کے زباں تک پہنچےبات بڑھ کر یہ خدا جانے کہاں تک پہنچےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- روشنی سی کبھی کبھی دل میںمنزل بے نشاں سے آتی ہےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- غم آفاق ہے رسوا غم دلبر بن کےتہمت عشق لگی ہم پہ سخن ور بن کےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- کچھ اس طرح سے نظر سے گزر گیا کوئیکہ دل کو غم کا سزاوار کر گیا کوئیHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- کہاں کہاں نہ تصور نے دام پھیلائےحدود شام و سحر سے نکل کے دیکھ آئےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- گر اس کا سلسلہ بھی عمر جاوداں سے ملےکسی کو خاک سکوں مرگ ناگہاں سے ملےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- لفظ ابھی ایجاد ہوں گے ہر ضرورت کے لیےشرح راحت کے لیے غم کی صراحت کے لیےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- محبت کرنے والے کم نہ ہوں گےتری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- نرگس پہ تو الزام لگا بے بصری کاارباب گلستاں پہ نہیں کم نظری کاHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- نہ پوچھ کیوں مری آنکھوں میں آ گئے آنسوجو تیرے دل میں ہے اس بات پر نہیں آئےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- ہر قدم پر ہم سمجھتے تھے کہ منزل آ گئیہر قدم پر اک نئی درپیش مشکل آ گئیHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- چاندنی رات ہے جوانی پردست گردوں میں ساغر مہتابHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- اب یہی میرے مشاغل رہ گئےسوچنا اور جانب در دیکھناHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- تری تلاش میں جب ہم کبھی نکلتے ہیںاک اجنبی کی طرح راستے بدلتے ہیںHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- تری تلاش ہے یا تجھ سے اجتناب ہے یہکہ روز ایک نئے راستے پہ چلتے ہیںHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- ترے جاتے ہی یہ عالم ہے جیسےتجھے دیکھے زمانہ ہو گیا ہےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- تمام عمر کیا ہم نے انتظار بہاربہار آئی تو شرمندہ ہیں بہار سے ہمHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- جب کبھی ہم نے کیا عشق پشیمان ہوئےزندگی ہے تو ابھی اور پشیماں ہوں گےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- جلوہ بے باک ادا شوخ تماشا گستاخاٹھ گئے بزم سے آداب نظر میرے بعدHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- دل میں اک شور سا اٹھا تھا کبھیپھر یہ ہنگامہ عمر بھر ہی رہاHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- دنیا میں ہیں کام بہتمجھ کو اتنا یاد نہ آHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- دوستی عام ہے لیکن اے دوستدوست ملتا ہے بڑی مشکل سےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- غم زندگانی کے سب سلسلےبالآخر غم عشق سے جا ملےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- نظر سے حد نظر تک تمام تاریکییہ اہتمام ہے اک وعدۂ سحر کے لیےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- ہم کو منزل نے بھی گمراہ کیاراستے نکلے کئی منزل سےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- یہ بات کہہ کے ہوا ناخدا الگ مجھ سےیہ ہے سفینہ یہ گرداب ہے وہ ہے ساحلHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- یہ تمیز عشق و ہوس نہیں ہے حقیقتوں سے گریز ہےجنہیں عشق سے سروکار ہے وہ ضرور اہل ہوس بھی ہیںHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- یہ دل کشی کہاں مری شام و سحر میں تھیدنیا تری نظر کی بدولت نظر میں ہےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- اشک پر گداز دل حاشیہ چڑھاتا ہےاک ذرا سے قصہ کو داستاں بناتا ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- اضطراب خود نمائی و حیا میں فرق ہےہم سمجھتے ہیں جو ان کی ہر ادا میں فرق ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- ان کے اس کفر بیاں سے کتنے افسانے بنے ہیںآپ دیوانے نہیں ہیں آپ دیوانے بنے ہیںUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- اہتمام رنگ و بو سے گلستاں پیدا کریںآؤ مل جل کر بہار بے خزاں پیدا کریںUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- بند ہیں دل کے دریچے روشنی معدوم ہےاب جو اپنا حشر ہونا ہے ہمیں معلوم ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- بے نیازی کی اک شان بن جائیےمجھ سے دانستہ انجان بن جائیےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- پائے طلب کی منزل اب تک وہی گلی ہےآغاز بھی یہی تھا انجام بھی یہی ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- تکلیف التفات گریزاں کبھی کبھییوں بھی ہوئی ہے پرسش پنہاں کبھی کبھیUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- تلخئ غم مرے احساس کا سرمایا ہےحسن سے میں نے یہ انعام وفا پایا ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- چاند تاروں کا ترے روبرو سجدہ کرناخواب دیکھا ہے تو کیا خواب کا چرچا کرناUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- خواب کا عکس کہاں خواب کی تعبیر میں ہےمجھ کو معلوم ہے جو کچھ مری تقدیر میں ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)