مسکرائیں مسکرائیں مسکرائیں میرے ساتھ

Urooj Zaidi Badayuni (1912–1987)

مسکرائیں مسکرائیں مسکرائیں میرے ساتھ

آپ دنیا کو یہ آئینہ دکھائیں میرے ساتھ

لاکھ تنہا ہوں مگر احساس تنہائی نہیں

رات دن ہیں جانی پہچانی صدائیں میرے ساتھ

جن کو رشک آتا ہے میری جرأت پرواز پر

بازوئے ہمت میں وہ بھی پر لگائیں میرے ساتھ

جن دعاؤں سے میں پہنچا تھا حریم ناز تک

کیا کہوں در پر وہ تھیں کس کی دعائیں میرے ساتھ

مضطرب ہیں منتظر ہیں کس قدر بے چین ہیں

یہ ہوائیں یہ گھٹائیں یہ فضائیں میرے ساتھ

ہر نوائے محفل ہستی بنے فردوس گوش

وہ اگر میری ہی لے میں گنگنائیں میرے ساتھ

میں تو اب راہ وفا میں ہو چکا ہوں گامزن

آپ کی مرضی ہے آپ آئیں نہ آئیں میرے ساتھ

خلد میں رہتے ہوئے کتنی فراغت تھی عروج

اب یہ دنیا اور دنیا کی بلائیں میرے ساتھ