Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. ہم تصوف کے خرابوں کے مکیںوقت کے طول المناک کے پروردہ ہیں،Noon Meem Rashid (1910–1975)
  2. آج، اس ساعت دزدیدہ و نایاب میں بھی،جسم ہے خواب سے لذت کش خمیازہ تراNoon Meem Rashid (1910–1975)
  3. آج دروازے کھلے رہنے دویاد کی آگ دہک اٹھی ہےNoon Meem Rashid (1910–1975)
  4. اس کا چہرہ، اس کے خد و خال یاد آتے نہیںاک شبستاں یاد ہےNoon Meem Rashid (1910–1975)
  5. ایشیا کے دور افتادہ شبستانوں میں بھیمیرے خوابوں کا کوئی روماں نہیں!Noon Meem Rashid (1910–1975)
  6. اے مری ہم رقص مجھ کو تھام لےزندگی سے بھاگ کر آیا ہوں میںNoon Meem Rashid (1910–1975)
  7. جسم اور روح میں آہنگ نہیںلذت اندوز دلآویزیٔ موہوم ہے توNoon Meem Rashid (1910–1975)
  8. ''زمانہ خدا ہے، اسے تم برا مت کہو''مگر تم نہیں دیکھتے زمانہ فقط ریسمان خیالNoon Meem Rashid (1910–1975)
  9. سمندر کی تہ میںسمندر کی سنگین تہ میںNoon Meem Rashid (1910–1975)
  10. کر چکا ہوں آج عزم آخریشام سے پہلے ہی کر دیتا تھا میںNoon Meem Rashid (1910–1975)
  11. گوشۂ زنجیر میںاک نئی جنبش ہویدا ہو چلیNoon Meem Rashid (1910–1975)
  12. میر ہو مرزا ہو میرا جی ہونارسا ہاتھ کی نمناکی ہےNoon Meem Rashid (1910–1975)
  13. اجل، ان سے مل،کہ یہ سادہ دلNoon Meem Rashid (1910–1975)
  14. اے جہاں زاد،نشاط اس شب بے راہ روی کیNoon Meem Rashid (1910–1975)
  15. اے عشق ازل گیر و ابد تاب میرے بھی ہیں کچھ خوابمیرے بھی ہیں کچھ خوابNoon Meem Rashid (1910–1975)
  16. بخارا سمرقند اک خال ہندو کے بدلے!بجا ہے بخارا سمرقند باقی کہاں ہیں؟Noon Meem Rashid (1910–1975)
  17. تو جب سات سو آٹھویں رات آئیتو کہنے لگی شہرزاد:Noon Meem Rashid (1910–1975)
  18. جہاں زادوہ حلب کی کارواں سرا کا حوض، رات وہ سکوتNoon Meem Rashid (1910–1975)
  19. جہاں زاد کیسے ہزاروں برس بعداک شہر مدفون کی ہر گلی میںNoon Meem Rashid (1910–1975)
  20. جہاں زاد نیچے گلی میں ترے در کے آگےیہ میں سوختہ سر حسن کوزہ گر ہوں!Noon Meem Rashid (1910–1975)
  21. چلا آ رہا ہوں سمندروں کے وصال سےکئی لذتوں کا ستم لیےNoon Meem Rashid (1910–1975)
  22. خدا حشر میں ہو مددگار میراکہ دیکھی ہیں میں نے مسز سالا مانکا کی آنکھیںNoon Meem Rashid (1910–1975)
  23. ''خدائے برتریہ دریوش بزرگ کی سرزمیںNoon Meem Rashid (1910–1975)
  24. خیابان سعدی میںروسی کتابوں کی دکان پر ہم کھڑے تھےNoon Meem Rashid (1910–1975)
  25. ذہن خالی ہےخلا نور سے یا نغمے سےNoon Meem Rashid (1910–1975)
  26. زندگی سے ڈرتے ہو؟!زندگی تو تم بھی ہو زندگی تو ہم بھی ہیں!Noon Meem Rashid (1910–1975)
  27. سلیماں سر بہ زانو اور سبا ویراںسبا ویراں، سبا آسیب کا مسکنNoon Meem Rashid (1910–1975)
  28. شہر کے گوشوں میں ہیں بکھرے ہوئےپا شکستہ سر بریدہ خوابNoon Meem Rashid (1910–1975)
  29. کریم سورججو ٹھنڈے پتھر کو اپنی گولائیNoon Meem Rashid (1910–1975)
  30. کوئی مجھ کو دور زمان و مکاں سے نکلنے کی صورت بتا دوکوئی یہ سجھا دو کہ حاصل ہے کیا ہستئ رائیگاں سےNoon Meem Rashid (1910–1975)
  31. مرگ اسرافیل پر آنسو بہاؤوہ خداؤں کا مقرب وہ خداوند کلامNoon Meem Rashid (1910–1975)
  32. مو قلم، ساز گل تازہ تھرکتے پاؤںبات کہنے کے بہانے ہیں بہتNoon Meem Rashid (1910–1975)
  33. نغمہ در جاں رقص برپا خندہ بر لبدل تمناؤں کے بے پایاں الاؤ کے قریبNoon Meem Rashid (1910–1975)
  34. ہمارے اعضا جو آسماں کی طرف دعا کے لیے اٹھے ہیںمقام نازک پہ ضرب کاری سے جاں بچانے کا ہے وسیلہNoon Meem Rashid (1910–1975)
  35. ہم محبت کے خرابوں کے مکیںوقت کے طول المناک کے پروردہ ہیںNoon Meem Rashid (1910–1975)
  36. یہ قدسیوں کی زمیںجہاں فلسفی نے دیکھا تھا، اپنے خواب سحر گہی میں،Noon Meem Rashid (1910–1975)
  37. پلا ساقیا مئے جاں پلا کہ میں لاؤں پھر خبر جنوںیہ خرد کی رات چھٹے کہیں نظر آئے پھر سحر جنوںNoon Meem Rashid (1910–1975)
  38. غم عاشقی میں گرہ کشا نہ خرد ہوئی نہ جنوں ہواوہ ستم سہے کہ ہمیں رہا نہ پئے خرد نہ سر جنوںNoon Meem Rashid (1910–1975)
  39. وہی منزلیں وہی دشت و در ترے دل زدوں کے ہیں راہ بروہی آرزو وہی جستجو وہی راہ پر خطر جنوںNoon Meem Rashid (1910–1975)
  40. اپنوں کے ستم یاد نہ غیروں کی جفا یادوہ ہنس کے ذرا بولے تو کچھ بھی نہ رہا یادDavarka Das Shola (1910–1983)
  41. اپنی بے چارگی پہ رو نہ سکےتیرے کیا ہوتے اپنے ہو نہ سکےDavarka Das Shola (1910–1983)
  42. انساں بہ یک نگاہ برا بھی بھلا بھی ہےیعنی وہ مشت خاک تو ہے کیمیا بھی ہےDavarka Das Shola (1910–1983)
  43. ایک رہزن کو امیر کارواں سمجھا تھا میںاپنی بد بختی کو منزل کا نشاں سمجھا تھا میںDavarka Das Shola (1910–1983)
  44. دل بے مدعا کا مدعا کیااسے یکساں روا کیا ناروا کیاDavarka Das Shola (1910–1983)
  45. دیکھ جرم و سزا کی بات نہ کرمیکدے میں خدا کی بات نہ کرDavarka Das Shola (1910–1983)
  46. ذرا نگاہ اٹھاؤ کہ غم کی رات کٹےنظر نظر سے ملاؤ کہ غم کی رات کٹےDavarka Das Shola (1910–1983)
  47. زندگی کیا ہے ابتلا کے سواشکوۂ درد لا دوا کے سواDavarka Das Shola (1910–1983)
  48. زیست بے وعدۂ انوار سحر ہے کہ جو تھیظلمت بخت بہ ہر رنگ و نظر ہے کہ جو تھیDavarka Das Shola (1910–1983)
  49. عشق میں آبرو خراب ہوئیزندگی سر بسر عذاب ہوئیDavarka Das Shola (1910–1983)
  50. غم کو وجہ حیات کہتے ہیںآپ بھی خوب بات کہتے ہیںDavarka Das Shola (1910–1983)