Poetry
Poet
Meter
- ہم تصوف کے خرابوں کے مکیںوقت کے طول المناک کے پروردہ ہیں،Noon Meem Rashid (1910–1975)
- آج، اس ساعت دزدیدہ و نایاب میں بھی،جسم ہے خواب سے لذت کش خمیازہ تراNoon Meem Rashid (1910–1975)
- آج دروازے کھلے رہنے دویاد کی آگ دہک اٹھی ہےNoon Meem Rashid (1910–1975)
- اس کا چہرہ، اس کے خد و خال یاد آتے نہیںاک شبستاں یاد ہےNoon Meem Rashid (1910–1975)
- ایشیا کے دور افتادہ شبستانوں میں بھیمیرے خوابوں کا کوئی روماں نہیں!Noon Meem Rashid (1910–1975)
- اے مری ہم رقص مجھ کو تھام لےزندگی سے بھاگ کر آیا ہوں میںNoon Meem Rashid (1910–1975)
- جسم اور روح میں آہنگ نہیںلذت اندوز دلآویزیٔ موہوم ہے توNoon Meem Rashid (1910–1975)
- ''زمانہ خدا ہے، اسے تم برا مت کہو''مگر تم نہیں دیکھتے زمانہ فقط ریسمان خیالNoon Meem Rashid (1910–1975)
- سمندر کی تہ میںسمندر کی سنگین تہ میںNoon Meem Rashid (1910–1975)
- کر چکا ہوں آج عزم آخریشام سے پہلے ہی کر دیتا تھا میںNoon Meem Rashid (1910–1975)
- گوشۂ زنجیر میںاک نئی جنبش ہویدا ہو چلیNoon Meem Rashid (1910–1975)
- میر ہو مرزا ہو میرا جی ہونارسا ہاتھ کی نمناکی ہےNoon Meem Rashid (1910–1975)
- اجل، ان سے مل،کہ یہ سادہ دلNoon Meem Rashid (1910–1975)
- اے جہاں زاد،نشاط اس شب بے راہ روی کیNoon Meem Rashid (1910–1975)
- اے عشق ازل گیر و ابد تاب میرے بھی ہیں کچھ خوابمیرے بھی ہیں کچھ خوابNoon Meem Rashid (1910–1975)
- بخارا سمرقند اک خال ہندو کے بدلے!بجا ہے بخارا سمرقند باقی کہاں ہیں؟Noon Meem Rashid (1910–1975)
- تو جب سات سو آٹھویں رات آئیتو کہنے لگی شہرزاد:Noon Meem Rashid (1910–1975)
- جہاں زادوہ حلب کی کارواں سرا کا حوض، رات وہ سکوتNoon Meem Rashid (1910–1975)
- جہاں زاد کیسے ہزاروں برس بعداک شہر مدفون کی ہر گلی میںNoon Meem Rashid (1910–1975)
- جہاں زاد نیچے گلی میں ترے در کے آگےیہ میں سوختہ سر حسن کوزہ گر ہوں!Noon Meem Rashid (1910–1975)
- چلا آ رہا ہوں سمندروں کے وصال سےکئی لذتوں کا ستم لیےNoon Meem Rashid (1910–1975)
- خدا حشر میں ہو مددگار میراکہ دیکھی ہیں میں نے مسز سالا مانکا کی آنکھیںNoon Meem Rashid (1910–1975)
- ''خدائے برتریہ دریوش بزرگ کی سرزمیںNoon Meem Rashid (1910–1975)
- خیابان سعدی میںروسی کتابوں کی دکان پر ہم کھڑے تھےNoon Meem Rashid (1910–1975)
- ذہن خالی ہےخلا نور سے یا نغمے سےNoon Meem Rashid (1910–1975)
- زندگی سے ڈرتے ہو؟!زندگی تو تم بھی ہو زندگی تو ہم بھی ہیں!Noon Meem Rashid (1910–1975)
- سلیماں سر بہ زانو اور سبا ویراںسبا ویراں، سبا آسیب کا مسکنNoon Meem Rashid (1910–1975)
- شہر کے گوشوں میں ہیں بکھرے ہوئےپا شکستہ سر بریدہ خوابNoon Meem Rashid (1910–1975)
- کریم سورججو ٹھنڈے پتھر کو اپنی گولائیNoon Meem Rashid (1910–1975)
- کوئی مجھ کو دور زمان و مکاں سے نکلنے کی صورت بتا دوکوئی یہ سجھا دو کہ حاصل ہے کیا ہستئ رائیگاں سےNoon Meem Rashid (1910–1975)
- مرگ اسرافیل پر آنسو بہاؤوہ خداؤں کا مقرب وہ خداوند کلامNoon Meem Rashid (1910–1975)
- مو قلم، ساز گل تازہ تھرکتے پاؤںبات کہنے کے بہانے ہیں بہتNoon Meem Rashid (1910–1975)
- نغمہ در جاں رقص برپا خندہ بر لبدل تمناؤں کے بے پایاں الاؤ کے قریبNoon Meem Rashid (1910–1975)
- ہمارے اعضا جو آسماں کی طرف دعا کے لیے اٹھے ہیںمقام نازک پہ ضرب کاری سے جاں بچانے کا ہے وسیلہNoon Meem Rashid (1910–1975)
- ہم محبت کے خرابوں کے مکیںوقت کے طول المناک کے پروردہ ہیںNoon Meem Rashid (1910–1975)
- یہ قدسیوں کی زمیںجہاں فلسفی نے دیکھا تھا، اپنے خواب سحر گہی میں،Noon Meem Rashid (1910–1975)
- پلا ساقیا مئے جاں پلا کہ میں لاؤں پھر خبر جنوںیہ خرد کی رات چھٹے کہیں نظر آئے پھر سحر جنوںNoon Meem Rashid (1910–1975)
- غم عاشقی میں گرہ کشا نہ خرد ہوئی نہ جنوں ہواوہ ستم سہے کہ ہمیں رہا نہ پئے خرد نہ سر جنوںNoon Meem Rashid (1910–1975)
- وہی منزلیں وہی دشت و در ترے دل زدوں کے ہیں راہ بروہی آرزو وہی جستجو وہی راہ پر خطر جنوںNoon Meem Rashid (1910–1975)
- اپنوں کے ستم یاد نہ غیروں کی جفا یادوہ ہنس کے ذرا بولے تو کچھ بھی نہ رہا یادDavarka Das Shola (1910–1983)
- اپنی بے چارگی پہ رو نہ سکےتیرے کیا ہوتے اپنے ہو نہ سکےDavarka Das Shola (1910–1983)
- انساں بہ یک نگاہ برا بھی بھلا بھی ہےیعنی وہ مشت خاک تو ہے کیمیا بھی ہےDavarka Das Shola (1910–1983)
- ایک رہزن کو امیر کارواں سمجھا تھا میںاپنی بد بختی کو منزل کا نشاں سمجھا تھا میںDavarka Das Shola (1910–1983)
- دل بے مدعا کا مدعا کیااسے یکساں روا کیا ناروا کیاDavarka Das Shola (1910–1983)
- دیکھ جرم و سزا کی بات نہ کرمیکدے میں خدا کی بات نہ کرDavarka Das Shola (1910–1983)
- ذرا نگاہ اٹھاؤ کہ غم کی رات کٹےنظر نظر سے ملاؤ کہ غم کی رات کٹےDavarka Das Shola (1910–1983)
- زندگی کیا ہے ابتلا کے سواشکوۂ درد لا دوا کے سواDavarka Das Shola (1910–1983)
- زیست بے وعدۂ انوار سحر ہے کہ جو تھیظلمت بخت بہ ہر رنگ و نظر ہے کہ جو تھیDavarka Das Shola (1910–1983)
- عشق میں آبرو خراب ہوئیزندگی سر بسر عذاب ہوئیDavarka Das Shola (1910–1983)
- غم کو وجہ حیات کہتے ہیںآپ بھی خوب بات کہتے ہیںDavarka Das Shola (1910–1983)