ہمارے اعضا جو آسماں کی طرف دعا کے لیے اٹھے ہیں
Noon Meem Rashid (1910–1975)ہمارے اعضا جو آسماں کی طرف دعا کے لیے اٹھے ہیں
مقام نازک پہ ضرب کاری سے جاں بچانے کا ہے وسیلہ
کہ اپنی محرومیوں سے چھپنے کا ایک حیلہ؟
بزرگ و برتر خدا کبھی تو (بہشت برحق)
ہمیں خدا سے نجات دے گا
کہ ہم ہیں اس سرزمیں پہ جیسے وہ حرف تنہا
جو آرزوئے وصال معنی میں جی رہا ہو
جو حرف معنی کی یک دلی کو ترس گیا ہو
ہمیں معری کے خواب دے دو
ہمیں معری کی روح کا اضطراب دے دو
کہ اس کی بے نور و تار آنکھیں
درون آدم کی تیرہ راتوں
کو چھیدتی تھیں
اسی جہاں میں فراق جاں کاہ حرف و معنی
کو دیکھتی تھیں
بہشت اس کے لیے وہ معصوم سادہ لوحوں کی عافیت تھا
جہاں وہ ننگے بدن پہ جابر کے تازیانوں سے بچ کے
راہ فرار پائیں
وہ کفش پا تھا کہ جس سے غربت کی ریگ بریاں
سے روز فرصت قرار پائیں
کہ صلب آدم کی رحم حوا کی عزلتوں میں
نہایت انتظار پائیں!
بغیر جن کے کوئی مساوات کیا بنے گی
وصال معنی سے حرف کی بات کیا بنے گی؟)
ہم اس زمیں پر ازل سے پیرانہ سر ہیں مانا
مگر ابھی تک ہیں دل توانا
اور اپنی ژولیدہ کاریوں کے طفیل دانا
ہمیں معری کے خواب دے دو
ہو ایک سا جام شہد سب کے لیے تو سم ہے)
کہ ہم ابھی تک ہیں اس جہاں میں وہ حرف تنہا
جسے تمنائے وصل معنیٰ