Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. تگ و تاز پیہم ہے میراث آدممرے منتظر کچھ جہاں اور بھی ہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  2. جب کوئی فتنۂ ایام نہیں ہوتا ہےزندگی کا بڑی مشکل سے یقیں ہوتا ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  3. جس کے واسطے برسوں سعئ رائیگاں کی ہےاب اسے بھلانے کی سعئ رائیگاں کر لیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  4. جو کام کرنے ہیں اس میں نہ چاہئے تاخیرکبھی پیام اجل ناگہاں بھی آتا ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  5. چشم صیاد پہ ہر لحظہ نظر رکھتا ہےہائے وہ صید جو کہنے کو تہ دام نہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  6. رعنائی بہار پہ تھے سب فریفتہافسوس کوئی محرم راز خزاں نہ تھاHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  7. عافیت کی امید کیا کہ ابھیدل امیدوار باقی ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  8. فیض ایام بہار اہل قفس کیا جانیںچند تنکے تھے نشیمن کے جو ہم تک پہنچےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  9. کبھی بے کلی کبھی بے دلی ہے عجیب عشق کی زندگیکبھی غنچہ پہ جاں فدا کبھی گلستاں سے غرض نہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  10. کتنے صنم خود ہم نے تراشےذوق پرستش اللہ اکبرHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  11. گلوں سے اتنی بھی وابستگی نہیں اچھیرہے خیال کہ عہد خزاں بھی آتا ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  12. مجھ کو احساس رنگ و بو نہ ہوایوں بھی اکثر بہار آئی ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  13. موت کے بعد بھی مرنے پہ نہ راضی ہونایہی احساس تو سرمایۂ دیں ہوتا ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  14. میرے لئے جینے کا سہارا ہے ابھی تکوہ عہد تمنا کہ تمہیں یاد نہ ہوگاHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  15. نگاہ لطف کو الفت شعار سمجھے تھےذرا سے خندۂ گل کو بہار سمجھتے تھےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  16. نہ ہو کچھ اور تو وہ دل عطا ہوبہل جائے جو سعیٔ رائیگاں سےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  17. وہ بھلا کیسے بتائے کہ غم ہجر ہے کیاجس کو آغوش محبت کبھی حاصل نہ ہواHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  18. وہ کرم ہو کہ ستم ایک تعلق ہے ضرورکوئی تو درد محبت کا امیں ہوتا ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  19. ہائے بیداد محبت کہ یہ ایں بربادیہم کو احساس زیاں بھی تو نہیں ہوتا ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  20. ہر قدم پر ہے احتساب عملاک قیامت پہ انحصار نہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  21. ہزاروں تمناؤں کے خوں سے ہم نےخریدی ہے اک تہمت پارسائیHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  22. ہے نوید بہار ہر لب پرکم نصیبوں کو اعتبار نہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  23. یا دیر ہے یا کعبہ ہے یا کوئے بتاں ہےاے عشق تری فطرت آزاد کہاں ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  24. یہ مہر و ماہ و کواکب کی بزم لا محدودصلائے دعوت پرواز ہے بشر کے لئےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  25. احساس بندگی سے بیگانہ کر دیا ہےافراط بندگی نے دیوانہ کر دیا ہےRaaz Yazdani (1908–1963)
  26. اس در کی سی راحت بھی دو عالم میں کہیں ہےجینا بھی یہیں ہے مجھے مرنا بھی یہیں ہےRaaz Yazdani (1908–1963)
  27. سوچئے ہم سے تغافل بھی بجا ہے کہ نہیںکہ یہی مقصد ارباب فنا ہے کہ نہیںRaaz Yazdani (1908–1963)
  28. نہیں کہ اپنی تباہی کا رازؔ کو غم ہےتمہاری زحمت عہد کرم کا ماتم ہےRaaz Yazdani (1908–1963)
  29. اگر گناہ کے قصے بھی کہہ دیئے تجھ سےگناہ گار کو یا رب ثواب کیا ہوگاRaaz Yazdani (1908–1963)
  30. ٹھہر کے تلووں سے کانٹے نکالنے والےیہ ہوش ہے تو جنوں کامیاب کیا ہوگاRaaz Yazdani (1908–1963)
  31. سزا کے جھیلنے والے یہ سوچنا ہے گناہکوئی قصور بھی تجھ سے کبھی ہوا کہ نہیںRaaz Yazdani (1908–1963)
  32. وہ سامنے سر منزل چراغ جلتے ہیںجواب پاؤں نہ دیتے تو میں کہاں ہوتاRaaz Yazdani (1908–1963)
  33. ترے کرم سے خدائی میں یوں تو کیا نہ ملامگر جو تو نہ ملا زیست کا مزا نہ ملاNoon Meem Rashid (1910–1975)
  34. تو آشنائے جذبۂ الفت نہیں رہادل میں ترے وہ ذوق محبت نہیں رہاNoon Meem Rashid (1910–1975)
  35. جو بے ثبات ہو اس سر خوشی کو کیا کیجےیہ زندگی ہے تو پھر زندگی کو کیا کیجےNoon Meem Rashid (1910–1975)
  36. حسرت انتظار یار نہ پوچھہائے وہ شدت انتظار نہ پوچھNoon Meem Rashid (1910–1975)
  37. آج پھر آ ہی گیاآج پھر روح پہ وہ چھا ہی گیاNoon Meem Rashid (1910–1975)
  38. تیرے بستر پہ مری جان کبھیبے کراں رات کے سناٹے میںNoon Meem Rashid (1910–1975)
  39. جاگ اے شمع شبستان وصالمحفل خواب کے اس فرش طرب ناک سے جاگNoon Meem Rashid (1910–1975)
  40. چھائے ہوئے ہیں چار طرف پارہ ہائے ابرآغوش میں لیے ہوئے دنیائے آب و رنگNoon Meem Rashid (1910–1975)
  41. رقص کی رات کسی غمزۂ عریاں کی کرناس لیے بن نہ سکی راہ تمنا کی دلیلNoon Meem Rashid (1910–1975)
  42. رہی ہے حضرت یزداں سے دوستی میریرہا ہے زہد سے یارانہ استوار مراNoon Meem Rashid (1910–1975)
  43. سوچتا ہوں کہ بہت سادہ و معصوم ہے وہمیں ابھی اس کو شناسائے محبت نہ کروںNoon Meem Rashid (1910–1975)
  44. شب زفاف ابو لہب تھی مگر خدایا وہ کیسی شب تھیابو لہب کی دلہن جب آئی تو سر پہ ایندھن گلے میںNoon Meem Rashid (1910–1975)
  45. شہر کے شہر کا افسانہ وہ خوش فہم مگر سادہ مسافرکہ جنہیں عشق کی للکار کے رہزن نے کہا: آؤ!Noon Meem Rashid (1910–1975)
  46. کیسے میں بھی بھول جاؤںزندگی سے اپنا ربط اولیںNoon Meem Rashid (1910–1975)
  47. گناہ کے تند و تیز شعلوں سے روح میری بھڑک رہی تھیہوس کی سنسان وادیوں میں مری جوانی بھٹک رہی تھیNoon Meem Rashid (1910–1975)
  48. لب بیاباں، بوسے بے جاںکون سی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟Noon Meem Rashid (1910–1975)
  49. مجھے موت آئے گی، مر جاؤں گا میں،تجھے موت آئے گی، مر جائے گی تو،Noon Meem Rashid (1910–1975)
  50. نکل کر جوئے نغمہ خلد زار ماہ و انجم سےفضا کی وسعتوں میں ہے رواں آہستہ آہستہNoon Meem Rashid (1910–1975)