Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. مری بے قراری مری آہ و زاری یہ وحشت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہےپریشاں تو رہنا مگر کچھ نہ کہنا محبت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہےDavarka Das Shola (1910–1983)
  2. میری منزل کہاں ہے کیا معلومانتہا غم ہے ابتدا معلومDavarka Das Shola (1910–1983)
  3. نہیں کہتے کسی سے حال دل خاموش رہتے ہیںکہ اپنی داستاں میں تیرے افسانے بھی آتے ہیںDavarka Das Shola (1910–1983)
  4. اے بے نیاز شوق فراواں کہاں ہے تواے نگہت شمیم بہاراں کہاں ہے توDavarka Das Shola (1910–1983)
  5. بیچاری کے آرام کی صورت ہی کہاں ہےبیوہ کی جوانی بھی عجب آفت جاں ہےDavarka Das Shola (1910–1983)
  6. ابھی ابھی تھا تبسم ابھی حجاب میں ہےزمانے بھر کا تلون ترے شباب میں ہےFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
  7. اک بادۂ سیمابی برسا مہ و اختر سےنکلے جو تڑپ کر وہ چاک دل مضطر سےFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
  8. جو اشک‌ دل گداز میں شرر نہ ہو لہو نہ ہویہ واقعہ ہے عشق سادہ لوح سرخ رو نہ ہوFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
  9. کچھ مکدر سا سر بالیں تجھے پاتا ہوں میںلے چراغ صبح سے پہلے بجھا جاتا ہوں میںFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
  10. کیا غضب تو نے یہ اے ذوق پشیماں کر دیامیرا آنسو ان کی آنکھوں سے نمایاں کر دیاFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
  11. گل رنگیں مہ کامل کہاں ہےمجھے آواز دے اے دل کہاں ہےFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
  12. مدد اے ضبط شمع زندگی لہرائی جاتی ہےفغاں کے ساتھ کھنچ کر جاں لبوں پر آئی جاتی ہےFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
  13. میں نے آغوش تصور میں تمہیں کیا دیکھاجگنو چمکا تو میں سمجھا ید بیضا دیکھاFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
  14. نشاط روح وجہ گرمئ محفل نہیں ہوتاوہ اک نغمہ جو آواز شکست دل نہیں ہوتاFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
  15. وہ مسکرائیں اسیران رنگ و بو کے لئےشعور چاہئے پھولوں کو آرزو کے لئےFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
  16. ہر سحر رنگیں نوا ہر شام خوش آہنگ ہےیہ جوانی ہے کہ فردوس رباب و چنگ ہےFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
  17. ید بیضا رخ یوسف دل منصور ہوتے ہیںجو تو دیکھے تو ذرے بھی چراغ طور ہوتے ہیںFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
  18. بے نقاب ان کی جفاؤں کو کیا ہے میں نےوقت کے ہاتھ میں آئینہ دیا ہے میں نےQamar Moradabadi (1910–1987)
  19. تم اسی کو وجہ طرب کہو ہم اسی کو باعث غم کہیںوہی اک فسانۂ عشق ہے کبھی تم کہو کبھی ہم کہیںQamar Moradabadi (1910–1987)
  20. ساقیا طنز نہ کر چشم کرم رہنے دےمیرے ساغر میں اگر کم ہے تو کم رہنے دےQamar Moradabadi (1910–1987)
  21. لذت درد جگر یاد آئیپھر تری پہلی نظر یاد آئیQamar Moradabadi (1910–1987)
  22. محبت کا جہاں ہے اور میں ہوںمرا دار الاماں ہے اور میں ہوںQamar Moradabadi (1910–1987)
  23. منزلوں کے نشاں نہیں ملتےتم اگر ناگہاں نہیں ملتےQamar Moradabadi (1910–1987)
  24. میری راہوں میں کئی مرحلے دشوار آئےدیر آیا حرم آیا رسن و دار آئےQamar Moradabadi (1910–1987)
  25. نظر ہے جلوۂ جاناں ہے دیکھیے کیا ہوشکست عشق کا امکاں ہے دیکھیے کیا ہوQamar Moradabadi (1910–1987)
  26. جس قدر جذب محبت کا اثر ہوتا گیاعشق خود ترک و طلب سے بے خبر ہوتا گیاQamar Moradabadi (1910–1987)
  27. غم کی توہین نہ کر غم کی شکایت کر کےدل رہے یا نہ رہے عظمت غم رہنے دےQamar Moradabadi (1910–1987)
  28. ''آپ کی یاد آتی رہی رات بھر''چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھرFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  29. آج یوں موج در موج غم تھم گیا اس طرح غم زدوں کو قرار آ گیاجیسے خوشبوئے زلف بہار آ گئی جیسے پیغام دیدار یار آ گیاFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  30. آئے کچھ ابر کچھ شراب آئےاس کے بعد آئے جو عذاب آئےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  31. اب جو کوئی پوچھے بھی تو اس سے کیا شرح حالات کریںدل ٹھہرے تو درد سنائیں درد تھمے تو بات کریںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  32. اب کے برس دستور ستم میں کیا کیا باب ایزاد ہوئےجو قاتل تھے مقتول ہوئے جو صید تھے اب صیاد ہوئےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  33. اب وہی حرف جنوں سب کی زباں ٹھہری ہےجو بھی چل نکلی ہے وہ بات کہاں ٹھہری ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  34. بات بس سے نکل چلی ہےدل کی حالت سنبھل چلی ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  35. پھر آئینۂ عالم شاید کہ نکھر جائےپھر اپنی نظر شاید تا حد نظر جائےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  36. پھر حریف بہار ہو بیٹھےجانے کس کس کو آج رو بیٹھےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  37. پھر لوٹا ہے خورشید جہاں تاب سفر سےپھر نور سحر دست و گریباں ہے سحر سےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  38. تجھے پکارا ہے بے ارادہجو دل دکھا ہے بہت زیادہFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  39. تری امید ترا انتظار جب سے ہےنہ شب کو دن سے شکایت نہ دن کو شب سے ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  40. ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ترے جاں نثار چلے گئےتری رہ میں کرتے تھے سر طلب سر رہ گزار چلے گئےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  41. تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہےتلاش میں ہے سحر بار بار گزری ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  42. تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیںکسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  43. تیری صورت جو دل نشیں کی ہےآشنا شکل ہر حسیں کی ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  44. جمے گی کیسے بساط یاراں کہ شیشہ و جام بجھ گئے ہیںسجے گی کیسے شب نگاراں کہ دل سر شام بجھ گئے ہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  45. جیسے ہم بزم ہیں پھر یار طرح دار سے ہمرات ملتے رہے اپنے در و دیوار سے ہمFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  46. چاند نکلے کسی جانب تری زیبائی کارنگ بدلے کسی صورت شب تنہائی کاFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  47. چاہتوں کو نت نئے انداز سے دیکھا کرووصل کی راحت میں فرقت کا سماں لکھا کروFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  48. چشم میگوں ذرا ادھر کر دےدست قدرت کو بے اثر کر دےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  49. حسرت دید میں گزراں ہیں زمانے کب سےدشت امید میں گرداں ہیں دوانے کب سےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  50. حسن مرہون جوش بادۂ نازعشق منت کش فسون نیازFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)