Poetry
Poet
Meter
- مری بے قراری مری آہ و زاری یہ وحشت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہےپریشاں تو رہنا مگر کچھ نہ کہنا محبت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہےDavarka Das Shola (1910–1983)
- میری منزل کہاں ہے کیا معلومانتہا غم ہے ابتدا معلومDavarka Das Shola (1910–1983)
- نہیں کہتے کسی سے حال دل خاموش رہتے ہیںکہ اپنی داستاں میں تیرے افسانے بھی آتے ہیںDavarka Das Shola (1910–1983)
- اے بے نیاز شوق فراواں کہاں ہے تواے نگہت شمیم بہاراں کہاں ہے توDavarka Das Shola (1910–1983)
- بیچاری کے آرام کی صورت ہی کہاں ہےبیوہ کی جوانی بھی عجب آفت جاں ہےDavarka Das Shola (1910–1983)
- ابھی ابھی تھا تبسم ابھی حجاب میں ہےزمانے بھر کا تلون ترے شباب میں ہےFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
- اک بادۂ سیمابی برسا مہ و اختر سےنکلے جو تڑپ کر وہ چاک دل مضطر سےFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
- جو اشک دل گداز میں شرر نہ ہو لہو نہ ہویہ واقعہ ہے عشق سادہ لوح سرخ رو نہ ہوFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
- کچھ مکدر سا سر بالیں تجھے پاتا ہوں میںلے چراغ صبح سے پہلے بجھا جاتا ہوں میںFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
- کیا غضب تو نے یہ اے ذوق پشیماں کر دیامیرا آنسو ان کی آنکھوں سے نمایاں کر دیاFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
- گل رنگیں مہ کامل کہاں ہےمجھے آواز دے اے دل کہاں ہےFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
- مدد اے ضبط شمع زندگی لہرائی جاتی ہےفغاں کے ساتھ کھنچ کر جاں لبوں پر آئی جاتی ہےFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
- میں نے آغوش تصور میں تمہیں کیا دیکھاجگنو چمکا تو میں سمجھا ید بیضا دیکھاFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
- نشاط روح وجہ گرمئ محفل نہیں ہوتاوہ اک نغمہ جو آواز شکست دل نہیں ہوتاFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
- وہ مسکرائیں اسیران رنگ و بو کے لئےشعور چاہئے پھولوں کو آرزو کے لئےFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
- ہر سحر رنگیں نوا ہر شام خوش آہنگ ہےیہ جوانی ہے کہ فردوس رباب و چنگ ہےFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
- ید بیضا رخ یوسف دل منصور ہوتے ہیںجو تو دیکھے تو ذرے بھی چراغ طور ہوتے ہیںFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
- بے نقاب ان کی جفاؤں کو کیا ہے میں نےوقت کے ہاتھ میں آئینہ دیا ہے میں نےQamar Moradabadi (1910–1987)
- تم اسی کو وجہ طرب کہو ہم اسی کو باعث غم کہیںوہی اک فسانۂ عشق ہے کبھی تم کہو کبھی ہم کہیںQamar Moradabadi (1910–1987)
- ساقیا طنز نہ کر چشم کرم رہنے دےمیرے ساغر میں اگر کم ہے تو کم رہنے دےQamar Moradabadi (1910–1987)
- لذت درد جگر یاد آئیپھر تری پہلی نظر یاد آئیQamar Moradabadi (1910–1987)
- محبت کا جہاں ہے اور میں ہوںمرا دار الاماں ہے اور میں ہوںQamar Moradabadi (1910–1987)
- منزلوں کے نشاں نہیں ملتےتم اگر ناگہاں نہیں ملتےQamar Moradabadi (1910–1987)
- میری راہوں میں کئی مرحلے دشوار آئےدیر آیا حرم آیا رسن و دار آئےQamar Moradabadi (1910–1987)
- نظر ہے جلوۂ جاناں ہے دیکھیے کیا ہوشکست عشق کا امکاں ہے دیکھیے کیا ہوQamar Moradabadi (1910–1987)
- جس قدر جذب محبت کا اثر ہوتا گیاعشق خود ترک و طلب سے بے خبر ہوتا گیاQamar Moradabadi (1910–1987)
- غم کی توہین نہ کر غم کی شکایت کر کےدل رہے یا نہ رہے عظمت غم رہنے دےQamar Moradabadi (1910–1987)
- ''آپ کی یاد آتی رہی رات بھر''چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھرFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- آج یوں موج در موج غم تھم گیا اس طرح غم زدوں کو قرار آ گیاجیسے خوشبوئے زلف بہار آ گئی جیسے پیغام دیدار یار آ گیاFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- آئے کچھ ابر کچھ شراب آئےاس کے بعد آئے جو عذاب آئےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- اب جو کوئی پوچھے بھی تو اس سے کیا شرح حالات کریںدل ٹھہرے تو درد سنائیں درد تھمے تو بات کریںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- اب کے برس دستور ستم میں کیا کیا باب ایزاد ہوئےجو قاتل تھے مقتول ہوئے جو صید تھے اب صیاد ہوئےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- اب وہی حرف جنوں سب کی زباں ٹھہری ہےجو بھی چل نکلی ہے وہ بات کہاں ٹھہری ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- بات بس سے نکل چلی ہےدل کی حالت سنبھل چلی ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- پھر آئینۂ عالم شاید کہ نکھر جائےپھر اپنی نظر شاید تا حد نظر جائےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- پھر حریف بہار ہو بیٹھےجانے کس کس کو آج رو بیٹھےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- پھر لوٹا ہے خورشید جہاں تاب سفر سےپھر نور سحر دست و گریباں ہے سحر سےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- تجھے پکارا ہے بے ارادہجو دل دکھا ہے بہت زیادہFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- تری امید ترا انتظار جب سے ہےنہ شب کو دن سے شکایت نہ دن کو شب سے ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ترے جاں نثار چلے گئےتری رہ میں کرتے تھے سر طلب سر رہ گزار چلے گئےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہےتلاش میں ہے سحر بار بار گزری ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیںکسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- تیری صورت جو دل نشیں کی ہےآشنا شکل ہر حسیں کی ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- جمے گی کیسے بساط یاراں کہ شیشہ و جام بجھ گئے ہیںسجے گی کیسے شب نگاراں کہ دل سر شام بجھ گئے ہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- جیسے ہم بزم ہیں پھر یار طرح دار سے ہمرات ملتے رہے اپنے در و دیوار سے ہمFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- چاند نکلے کسی جانب تری زیبائی کارنگ بدلے کسی صورت شب تنہائی کاFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- چاہتوں کو نت نئے انداز سے دیکھا کرووصل کی راحت میں فرقت کا سماں لکھا کروFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- چشم میگوں ذرا ادھر کر دےدست قدرت کو بے اثر کر دےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- حسرت دید میں گزراں ہیں زمانے کب سےدشت امید میں گرداں ہیں دوانے کب سےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- حسن مرہون جوش بادۂ نازعشق منت کش فسون نیازFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)