عشق میں آبرو خراب ہوئی

Davarka Das Shola (1910–1983)

عشق میں آبرو خراب ہوئی

زندگی سر بسر عذاب ہوئی

میرے محبوب تیری خاموشی

میری ہر بات کا جواب ہوئی

تھی نہ آسودگی مقدر میں

مہربانی تو بے حساب ہوئی