Poetry
Poet
Meter
- کہانی کا سماںAkhtar Shirani (1905–1948)
- مجھے لے چلAkhtar Shirani (1905–1948)
- مری شام غم کو وہ بہلا رہے ہیںلکھا ہے یہ خط میں کہ ہم آ رہے ہیںAkhtar Shirani (1905–1948)
- ساون کی گھٹاAkhtar Shirani (1905–1948)
- آنسوAkhtar Shirani (1905–1948)
- وہ کبھی مل جائیں تو کیا کیجئےرات دن صورت کو دیکھا کیجئےAkhtar Shirani (1905–1948)
- بنارسAkhtar Shirani (1905–1948)
- ہماری زبانAkhtar Shirani (1905–1948)
- یہ دنیا کتنی پیاری ہےہر اک بات اس کی نیاری ہےAkhtar Shirani (1905–1948)
- یہ ساری خدائی ہمارے لیے ہےنہیں ہے پرائی ہمارے لیے ہےAkhtar Shirani (1905–1948)
- جہاں ریحانہؔ رہتی تھیAkhtar Shirani (1905–1948)
- برکھا رت (اختر شیرانی)Akhtar Shirani (1905–1948)
- اے عشق کہیں لے چل اس پاپ کی بستی سےنفرت گہہ عالم سے لعنت گہہ ہستی سےAkhtar Shirani (1905–1948)
- اے عشق نہ چھیڑ آ آ کے ہمیں ہم بھولے ہوؤں کو یاد نہ کرپہلے ہی بہت ناشاد ہیں ہم تو اور ہمیں ناشاد نہ کرAkhtar Shirani (1905–1948)
- دعوۂ انسانیت مائلؔ ابھی زیبا نہیںپہلے یہ سوچو کسی کے کام آ سکتا ہوں میںMael Lakhnavi (1905–1968)
- سیلاب عشق غرق کن عقل و ہوش تھااک بحر تھا کہ شام و سحر گرم جوش تھاMael Lakhnavi (1905–1968)
- محبت اور مائلؔ جلد بازی کیا قیامت ہےسکون دل بنے گا اضطراب آہستہ آہستہMael Lakhnavi (1905–1968)
- میں نے دیکھے ہیں دہکتے ہوئے پھولوں کے جگردل بینا میں ہے وہ نور تمہیں کیا معلومMael Lakhnavi (1905–1968)
- نظر اور وسعت نظر معلوماتنی محدود کائنات نہیںMael Lakhnavi (1905–1968)
- نگاہ ناز کی پہلی سی برہمی بھی گئیمیں دوستی کو ہی روتا تھا دشمنی بھی گئیMael Lakhnavi (1905–1968)
- یاد اور ان کی یاد کی اللہ رے محویتجیسے تمام عمر کی فرصت خرید لیMael Lakhnavi (1905–1968)
- ترا وصل ہے مجھے بے خودی ترا ہجر ہے مجھے آگہیترا وصل مجھ کو فراق ہے ترا ہجر مجھ کو وصال ہےJalaluddin Akbar (1905–1940)
- حسن اگر آشکار ہو جائےفتنۂ روزگار ہو جائےJalaluddin Akbar (1905–1940)
- خاموش ہیں لب اور آنکھوں سے آنسو ہیں کہ پیہم بہتے ہیںہم سامنے ان کے بیٹھے ہیں اور قصۂ فرقت کہتے ہیںJalaluddin Akbar (1905–1940)
- ہم سے قائم جنون الفت ہےیعنی سرگشتۂ وفا ہیں ہمJalaluddin Akbar (1905–1940)
- یہ بھول بھی کیا بھول ہے یہ یاد بھی کیا یادتو یاد ہے اور کوئی نہیں تیرے سوا یادJalaluddin Akbar (1905–1940)
- یہ کائنات یہ بزم ظہور کچھ بھی نہیںتری نظر میں نہیں ہے جو نور کچھ بھی نہیںJalaluddin Akbar (1905–1940)
- اپنی تجلیوں سے معمور ہو گئے ہمAbid Ali Abid (1906–1971)
- چاند ستاروں سے کیا پوچھوں کب دن میرے پھرتے ہیںوہ تو بچارے خود ہیں بھکاری ڈیرے ڈیرے پھرتے ہیںAbid Ali Abid (1906–1971)
- چین پڑتا ہے دل کو آج نہ کلوہی الجھن گھڑی گھڑی پل پلAbid Ali Abid (1906–1971)
- دشت ایمن سے چلے کوئے بتاں تک پہنچےتیرے دیوانے رموز دو جہاں تک پہنچےAbid Ali Abid (1906–1971)
- دل کا معاملہ نگۂ آشنا کے ساتھایسے ہے جیسے رابطۂ گل صبا کے ساتھAbid Ali Abid (1906–1971)
- دل کو مٹنے کا نشاں رہتا ہےآگ بجھنے پہ دھواں رہتا ہےAbid Ali Abid (1906–1971)
- دل ہے آئینۂ حیرت سے دو چار آج کی راتغم دوراں میں ہے عکس غم یار آج کی راتAbid Ali Abid (1906–1971)
- دن ڈھلا شام ہوئی پھول کہیں لہرائےسانپ یادوں کے مہکتے ہوئے ڈسنے آئےAbid Ali Abid (1906–1971)
- ریت کی طرح کناروں پہ ہیں ڈرنے والےموج در موج گئے پار اترنے والےAbid Ali Abid (1906–1971)
- زہراب ہو عطا کہ مئے لالہ گوں ملےساقی کسی طرح مرے دل کو سکوں ملےAbid Ali Abid (1906–1971)
- ساز ہستی کی صدا عرش بریں تک پہنچےاے خوشا جنس امانت کہ امیں تک پہنچےAbid Ali Abid (1906–1971)
- سب کے جلوے نظر سے گزرے ہیںوہ نہ جانے کدھر سے گزرے ہیںAbid Ali Abid (1906–1971)
- شوق سے خود جو مرے راہنما ہوتے ہیںمری قسمت کہ وہی آبلہ پا ہوتے ہیںAbid Ali Abid (1906–1971)
- صبح تک رقص کناں بنت عنب دیکھیں گےآج وہ طرفہ تماشا ہے کہ سب دیکھیں گےAbid Ali Abid (1906–1971)
- عام ہو فیض بہاراں تو مزا آ جائےچاک ہوں سب کے گریباں تو مزا آ جائےAbid Ali Abid (1906–1971)
- غم دوراں غم جاناں کا نشاں ہے کہ جو تھاوصف خوباں بہ حدیث دگراں ہے کہ جو تھاAbid Ali Abid (1906–1971)
- کچھ خاک رہ گزار تھے کچھ داغدار تھےمیرے چمن کے پھول شہید بہار تھےAbid Ali Abid (1906–1971)
- کہو بتوں سے کہ ہم طبع سادہ رکھتے ہیںپھر ان سے عرض وفا کا ارادہ رکھتے ہیںAbid Ali Abid (1906–1971)
- گل کی خونیں جگری یاد آئیپھر نسیم سحری یاد آئیAbid Ali Abid (1906–1971)
- مے ہو ساغر میں کہ خوں رات گزر جائے گیدل کو غم ہو کہ سکوں رات گزر جائے گیAbid Ali Abid (1906–1971)
- نشتر کی نوک دل میں اتارے چلے گئےہم یوں عروس غم کو سنوارے چلے گئےAbid Ali Abid (1906–1971)
- نغمہ ایسا بھی مرے سینۂ صد چاک میں ہےخوف سے حشر بپا گنبد افلاک میں ہےAbid Ali Abid (1906–1971)
- واعظ شہر خدا ہے مجھے معلوم نہ تھایہی بندے کی خطا ہے مجھے معلوم نہ تھاAbid Ali Abid (1906–1971)