Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتاتم نہ ہوتے نہ سہی ذکر تمہارا ہوتاAkhtar Shirani (1905–1948)
  2. کس کو دیکھا ہے یہ ہوا کیا ہےدل دھڑکتا ہے ماجرا کیا ہےAkhtar Shirani (1905–1948)
  3. کس کی آنکھوں کا لیے دل پہ اثر جاتے ہیںمے کدے ہاتھ بڑھاتے ہیں جدھر جاتے ہیںAkhtar Shirani (1905–1948)
  4. کیا کہہ گئی کسی کی نظر کچھ نہ پوچھئےکیا کچھ ہوا ہے دل پہ اثر کچھ نہ پوچھئےAkhtar Shirani (1905–1948)
  5. گلزار جہاں میں گل کی طرح گو شاد ہیں ہم شاداب ہیں ہمکہتی ہے یہ ہنس کر صبح خزاں سب ناز عبث اک خواب ہیں ہمAkhtar Shirani (1905–1948)
  6. لا پلا ساقی شراب ارغوانی پھر کہاںزندگانی پھر کہاں ناداں جوانی پھر کہاںAkhtar Shirani (1905–1948)
  7. مجھے اپنی پستی کی شرم ہے تری رفعتوں کا خیال ہےمگر اپنے دل کو میں کیا کروں اسے پھر بھی شوق وصال ہےAkhtar Shirani (1905–1948)
  8. محبت کی دنیا میں مشہور کر دوںمری سادہ دل تجھ کو مغرور کر دوںAkhtar Shirani (1905–1948)
  9. مری آنکھوں سے ظاہر خوں فشانی اب بھی ہوتی ہےنگاہوں سے بیاں دل کی کہانی اب بھی ہوتی ہےAkhtar Shirani (1905–1948)
  10. میں آرزوئے جاں لکھوں یا جان آرزو!تو ہی بتا دے ناز سے ایمان آرزو!Akhtar Shirani (1905–1948)
  11. نذر وطنAkhtar Shirani (1905–1948)
  12. نکہت زلف سے نیندوں کو بسا دے آ کرمیری جاگی ہوئی راتوں کو سلا دے آ کرAkhtar Shirani (1905–1948)
  13. نہ بھول کر بھی تمنائے رنگ و بو کرتےچمن کے پھول اگر تیری آرزو کرتےAkhtar Shirani (1905–1948)
  14. نہ تمہارا حسن جواں رہا نہ ہمارا عشق جواں رہانہ وہ تم رہے نہ وہ ہم رہے جو رہا تو غم کا سماں رہاAkhtar Shirani (1905–1948)
  15. نہ چھیڑ زاہد ناداں شراب پینے دےشراب پینے دے خانہ خراب پینے دےAkhtar Shirani (1905–1948)
  16. نہ ساز و مطرب نہ جام و ساقی نہ وہ بہار چمن ہے باقینگاہ شمع سحر کے پردے یہ نقشۂ انجمن ہے باقیAkhtar Shirani (1905–1948)
  17. نہ وہ خزاں رہی باقی نہ وہ بہار رہیرہی تو میری کہانی ہی یادگار رہیAkhtar Shirani (1905–1948)
  18. وعدہ اس ماہرو کے آنے کایہ نصیبہ سیاہ خانے کاAkhtar Shirani (1905–1948)
  19. وہ کہتے ہیں رنجش کی باتیں بھلا دیںمحبت کریں خوش رہیں مسکرا دیںAkhtar Shirani (1905–1948)
  20. ہر ایک جلوۂ رنگیں مری نگاہ میں ہےغم فراق کی دنیا دل تباہ میں ہےAkhtar Shirani (1905–1948)
  21. ہمارے ہاتھ میں کب ساغر شراب نہیںہمارے قدموں پہ کس روز ماہتاب نہیںAkhtar Shirani (1905–1948)
  22. یاد آؤ مجھے للہ نہ تم یاد کرواپنی اور میری جوانی کو نہ برباد کروAkhtar Shirani (1905–1948)
  23. یارو کوئے یار کی باتیں کریںپھر گل و گلزار کی باتیں کریںAkhtar Shirani (1905–1948)
  24. یقین وعدہ نہیں تاب انتظار نہیںکسی طرح بھی دل زار کو قرار نہیںAkhtar Shirani (1905–1948)
  25. یوں تو کس پھول سے رنگت نہ گئی بو نہ گئیاے محبت مرے پہلو سے مگر تو نہ گئیAkhtar Shirani (1905–1948)
  26. رندوں کو بہشت کی خبر دے ساقیاک جام پلا کے مست کر دے ساقیAkhtar Shirani (1905–1948)
  27. عید آئی ہے عیش و نوش کا ساماں کراک ساقیٔ گلعذار کو مہماں کرAkhtar Shirani (1905–1948)
  28. جنت کا سماں دکھا دیا ہے مجھ کوکونین کا غم بھلا دیا ہے مجھ کوAkhtar Shirani (1905–1948)
  29. مے خانہ بہ دوش ہیں گھٹائیں ساقیپیمانہ فروش ہیں فضائیں ساقیAkhtar Shirani (1905–1948)
  30. گجرات کی راتAkhtar Shirani (1905–1948)
  31. جھولاAkhtar Shirani (1905–1948)
  32. او دیس سے آنے والا ہے بتااو دیس سے آنے والے بتاAkhtar Shirani (1905–1948)
  33. بی مینڈکیAkhtar Shirani (1905–1948)
  34. بجھا سا رہتا ہے دل جب سے ہیں وطن سے جداوہ صحن باغ نہیں سیر ماہتاب نہیںAkhtar Shirani (1905–1948)
  35. ننھا قاصدAkhtar Shirani (1905–1948)
  36. ایک شاعرہ کی شادی پرAkhtar Shirani (1905–1948)
  37. کشمیرAkhtar Shirani (1905–1948)
  38. ایک لڑکی کا گیتAkhtar Shirani (1905–1948)
  39. جھوم کر بدلی اٹھی اور چھا گئیساری دنیا پر جوانی آ گئیAkhtar Shirani (1905–1948)
  40. چڑیوں کی شکایتAkhtar Shirani (1905–1948)
  41. انگوٹھیAkhtar Shirani (1905–1948)
  42. لکھنؤ (اختر شیرانی)Akhtar Shirani (1905–1948)
  43. وقت کی قدرAkhtar Shirani (1905–1948)
  44. سورج کی کرنوں کا گیتAkhtar Shirani (1905–1948)
  45. سولن کی چوٹیوں سےجھنڈی ہلا رہی ہےAkhtar Shirani (1905–1948)
  46. فریادئی جفائے ایام ہو رہا ہوںپامال جور بخت ناکام ہو رہا ہوںAkhtar Shirani (1905–1948)
  47. جگنوAkhtar Shirani (1905–1948)
  48. دریا کنارے چاندنیAkhtar Shirani (1905–1948)
  49. شملہAkhtar Shirani (1905–1948)
  50. ایک حسن فروش سےAkhtar Shirani (1905–1948)