دل کو مٹنے کا نشاں رہتا ہے

Abid Ali Abid (1906–1971)

دل کو مٹنے کا نشاں رہتا ہے

آگ بجھنے پہ دھواں رہتا ہے

ہاں سلامت رہو رندو تم پر

کچھ رفاقت کا گماں رہتا ہے

شعلے یوں اٹھتے ہیں گلزاروں سے

کہ بہاراں کا سماں رہتا ہے

عاشقی مہر بلب رہتی ہے

مدعی محو بیاں رہتا ہے

سب خداؤں کی خدائی کا شعور

دل انساں پہ گراں رہتا ہے

تجھ پہ مخفی ہے جو مجھ پر گزری

تو قریب رگ جاں رہتا ہے

تم کہاں رہتے ہو عابدؔ مری جاں

دل تو رہتا ہے جہاں رہتا ہے