زہراب ہو عطا کہ مئے لالہ گوں ملے

Abid Ali Abid (1906–1971)

زہراب ہو عطا کہ مئے لالہ گوں ملے

ساقی کسی طرح مرے دل کو سکوں ملے

ہم لوگ ہیں زمین کی زینت وگرنہ یوں

جھک کر زمین سے فلک نیلگوں ملے

جن کی متاع عقل پہ دنیا کو ناز تھا

وہ بھی فریب خوردۂ دنیائے دوں ملے

دانشوروں کو دشت میں دیکھا گریز پا

اہل جنوں شناور دریائے خوں ملے

اے ہم سفر بہار کی منزل قریب ہے

ہر سمت آج راہ میں سیلاب خوں ملے

اب تم کو رنج ہے کہ وہ دیوانہ ہو گیا

ایسا ہی تھا تو عابدؔ وحشی سے کیوں ملے