Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. وہ کسی پر جفا نہیں کرتےاعتبار وفا نہیں کرتےAbid Ali Abid (1906–1971)
  2. ہم بن غم یار بھی جئے ہیںمرنے کے بڑے جتن کئے ہیںAbid Ali Abid (1906–1971)
  3. یہ کیا طلسم ہے دنیا پہ بار گزری ہےوہ زندگی جو سر رہ گزار گزری ہےAbid Ali Abid (1906–1971)
  4. یہی تھا وقف تری محفل طرب کے لئےچراغ دل کہ سلگتا ہے آج سب کے لئےAbid Ali Abid (1906–1971)
  5. اے دل افسردہAbid Ali Abid (1906–1971)
  6. جو بھی منجملۂ آشفتہ سرا ہوتا ہےزینت محفل صاحب نظراں ہوتا ہےAbid Ali Abid (1906–1971)
  7. شام بہارAbid Ali Abid (1906–1971)
  8. فروغ ماہ سے کیا جگمگا رہی ہے بہارگلوں میں نور کی شمعیں جلا رہی ہے بہارAbid Ali Abid (1906–1971)
  9. کسی کی عشوہ گری سے بہ غیر فصل بہارسبھی کا چاک گریباں ہے دیکھیے کیا ہوAbid Ali Abid (1906–1971)
  10. گردش جام نہیں رک سکتیجو بھی اے گردش دوراں گزرےAbid Ali Abid (1906–1971)
  11. گلوں کی خوں شدگی کو شگفتگی نہ سمجھہجوم رنگ سے اندازۂ بہار نہ کرAbid Ali Abid (1906–1971)
  12. محفل فروز جلوۂ جانانہ ہو چکاسیکھے تری نگاہ سے آداب خامشیAbid Ali Abid (1906–1971)
  13. یہ عرض شوق ہے آرائش بیاں بھی تو ہوادا شناس تو ہے آنکھ خونچکاں بھی تو ہوAbid Ali Abid (1906–1971)
  14. آپ جب بھی آ گئے ایسا لگاآسماں قدموں سے میرے آ لگاFaiyaz Gwaliari (1906–1980)
  15. اس چمن میں کبھی ایسے بھی بہار آ جائےبے قراری کے مقدر میں قرار آ جائےFaiyaz Gwaliari (1906–1980)
  16. ٹٹولنے پہ بھی دل کا نشاں نہیں ملتاغضب خدا کا جہاں کا جہاں نہیں ملتاFaiyaz Gwaliari (1906–1980)
  17. جھونکے کی طرح عمر دو روزہ گزر گئیجانے کدھر سے آئی تھی جانے کدھر گئیFaiyaz Gwaliari (1906–1980)
  18. چپ ہو کیوں میں نے کچھ کہا تو نہیںہو ہی جاتا غضب ہوا تو نہیںFaiyaz Gwaliari (1906–1980)
  19. زخم پر زخم لے کے سینے میںلطف ہے مسکرا کے جینے میںFaiyaz Gwaliari (1906–1980)
  20. سبھی کی تھی نظر اس پر گریبانوں پہ کیا گزریکسی نے یہ نہیں دیکھا کہ دیوانوں پہ کیا گزریFaiyaz Gwaliari (1906–1980)
  21. کیا آنکھ ملاؤ گے تم دیکھنے والوں سےرہتے ہو اندھیروں میں ڈرتے ہو اجالوں سےFaiyaz Gwaliari (1906–1980)
  22. نہ سہی خلد جہنم ہی عطا ہو تو سہیکوئی ناکردہ گناہوں کی سزا ہو تو سہیFaiyaz Gwaliari (1906–1980)
  23. سینہ ہے ایک یاس کا صحرا لیے ہوئےدل رنگ گلستان تمنا لئے ہوئےRaabia Pinhan (1906–1972)
  24. سکوت شب کی ہے جلوہ فروشیہے موجودات پر چھائی خموشیRaabia Pinhan (1906–1972)
  25. دیدنی ہے ترے عتاب کا رنگشیشۂ چشم میں شراب کا رنگRaabia Pinhan (1906–1972)
  26. اب سوچتا ہوں جاؤں تو جاؤں کدھر کو میںاے کاش چھوڑتا نہ تری رہ گزر کو میںKaif Moradaabadi (1907–1976)
  27. اہل دل جو بھی بات کہتے ہیںکوئی راز حیات کہتے ہیںKaif Moradaabadi (1907–1976)
  28. ایک اک لمحہ گزارا جا رہا ہے ہوش میںاے زہے قسمت جو ہیں طوفان کی آغوش میںKaif Moradaabadi (1907–1976)
  29. اے جنون بندگیٔ شوق یہ کیا کر دیاان کے دھوکے میں نہ جانے کس کو سجدہ کر دیاKaif Moradaabadi (1907–1976)
  30. بڑھے چلو کہ زمانے کو یہ دکھانا ہےجہاں ہمارے قدم ہیں وہیں زمانہ ہےKaif Moradaabadi (1907–1976)
  31. بقا کی فکر کرو خود ہی زندگی کے لئےزمانہ کچھ نہیں کرتا کبھی کسی کے لئےKaif Moradaabadi (1907–1976)
  32. جلوے ہوں روبرو تو تماشا کرے کوئیجب کچھ نظر نہ آئے تو پھر کیا کرے کوئیKaif Moradaabadi (1907–1976)
  33. جنون شوق کا حاصل نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھےکہاں دونوں کی ہے منزل نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھےKaif Moradaabadi (1907–1976)
  34. جنون عشق کسی کو بھی یوں نہ راس آئےوہ میرے پاس تو آئے مگر اداس آئےKaif Moradaabadi (1907–1976)
  35. جنون عشق یہ کیا رنگ محفل ہے جہاں میں ہوںجو عالم ہے مرا ہی عالم دل ہے جہاں میں ہوںKaif Moradaabadi (1907–1976)
  36. جو اٹھی تھی میری طرف کبھی دل معتبر کی تلاش میںمیری ساری عمر گزر گئی اسی اک نظر کی تلاش میںKaif Moradaabadi (1907–1976)
  37. چمن والوں سے برق بے اماں کچھ اور کہتی ہےمگر میری تو شاخ آشیاں کچھ اور کہتی ہےKaif Moradaabadi (1907–1976)
  38. حالت دل وہی رہی مقصد دل کو پا کے بھیہم تو سکوں نہ پا سکے ان کے قریب جا کے بھیKaif Moradaabadi (1907–1976)
  39. دل غم سے بھی بیزار ہے معلوم نہیں کیوںیہ عیش بھی اب یار ہے معلوم نہیں کیوںKaif Moradaabadi (1907–1976)
  40. دل میں ہے اک راز جو ہونٹوں تک آ سکتا نہیںیعنی میں جس حال میں بھی ہوں بتا سکتا نہیںKaif Moradaabadi (1907–1976)
  41. رسائی سعئ نا مشکور ہو جائے تو کیا ہوگاقدم رکھتے ہی منزل دور ہو جائے تو کیا ہوگاKaif Moradaabadi (1907–1976)
  42. زندگی کا کوئی حس کیسے ادا کرتے ہیںجو محبت نہیں کرتے ہیں وہ کیا کرتے ہیںKaif Moradaabadi (1907–1976)
  43. سب جسے کہتے ہیں وقف غم جاناں ہونااولیں شرط ہے اس کے لئے انساں ہوناKaif Moradaabadi (1907–1976)
  44. غم نے دلوں کو رام کیا اور گزر گیاظالم نے اپنا کام کیا اور گزر گیاKaif Moradaabadi (1907–1976)
  45. غم ہستی نہ کچھ فکر دل و جاں ہے جہاں میں ہوںکہ ہر ہر گام پر کوئی نگہباں ہے جہاں میں ہوںKaif Moradaabadi (1907–1976)
  46. کبھی گریاں کبھی خنداں کبھی حیراں ہوں میںمختصر ہے مری روداد کہ انساں ہوں میںKaif Moradaabadi (1907–1976)
  47. کیا خبر تھی عشق میں ایسا بھی اک دور آئے ہےبات کیسی سانس لیتا ہوں تو جی گھبرائے ہےKaif Moradaabadi (1907–1976)
  48. نظر نظر سے ملائی کیوں تھی نفس نفس میں سمائے کیوں تھےانہیں تھا منظور مجھ سے پردہ تو سامنے میرے آئے کیوں تھےKaif Moradaabadi (1907–1976)
  49. وہ غم دے رہے ہیں خوشی ہو رہی ہےحقیقت میں اب عاشقی ہو رہی ہےKaif Moradaabadi (1907–1976)
  50. وہ قریب بھی ہیں تو کیا ہوا ہمیں اپنے کام سے کام ہےوہی جستجو وہی بے خودی وہی زندگی کا نظام ہےKaif Moradaabadi (1907–1976)