اپنی تجلیوں سے معمور ہو گئے ہم

Abid Ali Abid (1906–1971)

آئی سحر قریب تو میں نے پڑھی غزل

جلنے لگے ستاروں کے بجھتے ہوئے کنول

بیتاب ہے جنوں کہ غزل خوانیاں کروں

خاموش ہے خرد کہ نہیں بات کا محل

راہوں میں جوئے خوں ہے رواں مثل موج مے

ساقی یقیں نہ ہو تو ذرا میرے ساتھ چل

ہم رند خاک و خوں میں اٹے ہاتھ بھی کٹے

نکلے نہ اے بہار ترے گیسوؤں کے بل

کچھ بجلیوں کا شور ہے کچھ آندھیوں کا زور

دل ہے مقام پر تو ذرا بام پر نکل

اب ترک دوستی ہی تقاضا ہے وقت کا

اے یار چارہ ساز مری آگ میں نہ جل

اے التفات یار مجھے سوچنے تو دے

جینے کا ہے مقام کہ مرنے کا ہے محل

دل پر ہے ایسا بوجھ کہ کھلتی نہیں زباں

آندھی ہے ایسی تیز کہ جلتا نہیں کنول

کیسے دئے جلائے غم روزگار نے

کچھ اور جگمگاتے غم یار کے محل

فرمان شہریار کی پروا نہیں مجھے

ایمائے عاشقاں ہو تو عابدؔ پڑھے غزل