صبح تک رقص کناں بنت عنب دیکھیں گے
Abid Ali Abid (1906–1971)صبح تک رقص کناں بنت عنب دیکھیں گے
آج وہ طرفہ تماشا ہے کہ سب دیکھیں گے
غم جاناں کے اشاروں کا تقاضا ہے یہی
غم دوراں نہیں دیکھا تھا تو اب دیکھیں گے
ہمدمو باغ میں ہر سال بہار آئے گی
اب نہیں دیکھنے پائیں گے تو جب دیکھیں گے
سب ہمیں آئنۂ حسن بتاں کہتے ہیں
دیکھنا یہ ہے کہ اس سمت وہ کب دیکھیں گے
یوں نہ دیکھیں گے وہ ہم نغمہ گروں کی جانب
ساز میں تیغ کی جھنکار ہو جب دیکھیں گے
رات کو جشن چراغاں میں مگر پروانے
دن گزاریں گے تو ہنگامۂ شب دیکھیں گے
رکھ دیا آج در یار پہ سر عابدؔ نے
آج وہ طرفہ تماشہ ہے کہ سب دیکھیں گے