عام ہو فیض بہاراں تو مزا آ جائے

Abid Ali Abid (1906–1971)

عام ہو فیض بہاراں تو مزا آ جائے

چاک ہوں سب کے گریباں تو مزا آ جائے

واعظو میں بھی تمہاری ہی طرح مسجد میں

بیچ دوں دولت ایماں تو مزا آ جائے

کیسی کیسی ہے شب تار یہاں چیں بہ جبیں

صبح اک روز ہو خنداں تو مزا آ جائے

ساقیا ہے تری محفل میں خداؤں کا ہجوم

محفل افروز ہو انساں تو مزا آ جائے