ہر قطرے میں بحر معرفت مضمر ہے

Amjad Hyderabadi (1878–1961)

ہر قطرے میں بحر معرفت مضمر ہے

ہر اک ذرے میں کچھ نہ کچھ جوہر ہے

ہو چشم بصیرت تو ہر چیز اچھی

گر آنکھ نہ ہو تو لعل بھی پتھر ہے