سرمایۂ علم و فضل کھویا میں نے

Amjad Hyderabadi (1878–1961)

سرمایۂ علم و فضل کھویا میں نے

سب دفتر پارینہ ڈبویا میں نے

بس ہے تری خاک پا تیمم کے لیے

اے دوست وضو سے ہاتھ دھویا میں نے