دنیا کے ہر ایک ذرے سے گھبراتا ہوں

Amjad Hyderabadi (1878–1961)

دنیا کے ہر ایک ذرے سے گھبراتا ہوں

غم سامنے آتا ہے جدھر جاتا ہوں

رہتے ہوئے اس جہاں میں مدت گزری

پھر بھی اپنے کو اجنبی پاتا ہوں