کیا قصور اے عرض مطلب حسرت پرجوش کا

Ummeed Amethvi (1878–1950)

کیا قصور اے عرض مطلب حسرت پرجوش کا

چشم حیراں کا گلہ ہے یا لب خاموش کا

حیرت آباد تجلی میں نہیں اس دل کا کام

صدمہ پروردہ ہو جو محنت سرائے ہوش کا

تیغ قاتل میں ترے قرباں بڑا احساں کیا

جسم بار اک روح کا تھا سر وبال اک دوش کا

پائے نازک کو ذرا دے رخصت مشق خرام

کب سے تکتی ہے قیامت منہ تری پاپوش کا

ہستیٔ حسن و تغافل پیشگی کا ہے گواہ

جاں بہ لب ہونا تمہارے عاشق مدہوش کا

کم نہ ہوگا شور نوشا نوش صہبا واعظو

دم سلامت چاہیئے امید صہبا نوش کا