Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. سیاحت ظریفZarif Lakhnavi (1870–1937)
  2. کریں گے سب یہ دعویٰ نقد دل جو ہار بیٹھے ہیںخفیفہ میں تمہارے عاشق نادار بیٹھے ہیںZarif Lakhnavi (1870–1937)
  3. سیاسی بینگنZarif Lakhnavi (1870–1937)
  4. شامت الیکشنZarif Lakhnavi (1870–1937)
  5. وحشت میں ہر اک نقشہ الٹا نظر آتا ہےمجنوں نظر آتی ہے لیلیٰ نظر آتا ہےZarif Lakhnavi (1870–1937)
  6. اب وہ آغوش تصور سے نہ جانے پائےبے خودی مجھ کو کبھی ہوش نہ آنے پائےYas Tonki (b. 1870)
  7. فہم و ادراک سے رتبہ ترا بالا دیکھاقافیہ تنگ بہت فکر رسا کا دیکھاYas Tonki (b. 1870)
  8. کروں کیوں نہ آہ و نالہ کہ مجھے تو کل نہ آئےترے خواب ناز میں بھی شب غم خلل نہ آئےYas Tonki (b. 1870)
  9. موت آتی ہے نہ کمبخت قرار آتا ہےتجھ پہ اب رحم بہت اے دل زار آتا ہےYas Tonki (b. 1870)
  10. نہ عشرت کی تمنا ہے نہ محفل کی تمنا ہےفقط اک خلوت غم آشنا دل کی تمنا ہےYas Tonki (b. 1870)
  11. ہائے کس انجمن ناز سے تو آتی ہےاے صبا تجھ سے مجھے رشک کی بو آتی ہےYas Tonki (b. 1870)
  12. ہائے کیسا جان سے بیزار ہےجو تمہارے ہجر کا بیمار ہےYas Tonki (b. 1870)
  13. آج بے آپ ہو گئے ہم بھیآپ کو پا کے کھو گئے ہم بھیArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  14. آنکھ سے دل میں آنے والادل سے نہیں اب جانے والاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  15. آنے میں جھجھک ملنے میں حیا تم اور کہیں ہم اور کہیںاب عہد وفا ٹوٹا کہ رہا تم اور کہیں ہم اور کہیںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  16. ازل سے نقش دل ہے ناز جانانہ محمد کاکیا ہے لوح نے محفوظ افسانہ محمد کاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  17. اس کی تو ایک دل لگی اپنا بنا کے چھوڑ دےجائے وہ اب کہاں جسے سب سے چھڑا کے چھوڑ دےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  18. اے جذب محبت تو ہی بتا کیوں کر نہ اثر لے دل ہی تو ہےسیدھی بھی چھری ٹیڑھی بھی چھری دل دوز نظر قاتل ہی تو ہےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  19. اے مرے زخم دل نواز غم کو خوشی بنائے جاآنکھوں سے خوں بہائے جا ہونٹوں سے مسکرائے جاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  20. بغور دیکھ رہا ہے ادا شناس مجھےبس اب ذلیل نہ کر اے نگاہ یاس مجھےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  21. بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دوجس سے بڑھے بے چینی دل کی ایسی تسلی رہنے دوArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  22. پانی میں آگ دھیان سے تیرے بھڑک گئیآنسو میں کوندتی ہوئی بجلی جھلک گئیArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  23. پھر چاہے تو نہ آنا او آن بان والےجھوٹا ہی وعدہ کر لے سچی زبان والےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  24. پھیر جو پڑنا تھا قسمت میں وہ حسب معمول پڑاخندۂ گل سے اڑا وہ شرارہ خرمن دل پر پھول پڑاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  25. پیوں ہی کیوں جو برا جانوں اور چھپا کے پیوںمیں وہ نہیں کہ نگاہیں بچا بچا کے پیوںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  26. تڑپتے دل کو نہ لے اضطراب لیتا جاپٹک دے ساغر خالی شراب لیتا جاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  27. تسکین دل کا یہ کیا قرینہروکوں جو نالہ پھٹ جائے سینہArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  28. تقدیر پہ شاکر رہ کر بھی یہ کون کہے تدبیر نہ کروا باب اجابت ہو کہ نہ ہو زنجیر ہلا تاخیر نہ کرArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  29. تلاش رنگ میں آوارہ مثل بو ہوں میںگزر کے آپ سے اپنی ہی جستجو ہوں میںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  30. تمہیں کیا کام نالوں سے تمہیں کیا کام آہوں سےچھپایا ہو گناہ عشق تو پوچھو گواہوں سےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  31. جتنا تھا سرگرم کار اتنا ہی دل ناکام تھاہوش جس کا نام ہے وہ بھی جنون خام تھاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  32. جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیںدروازوں سے ٹکرا جاتے ہیں دیواروں سے باتیں ہوتی ہیںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  33. جہاں کہ ہے جرم ایک نگاہ کرناوہیں ہے گنہ پہ ڈٹ کے گناہ کرناArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  34. حسن سے شرح ہوئی عشق کے افسانے کیشمع لو دے کے زباں بن گئی پروانے کیArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  35. خالی بیٹھے کیوں دن کاٹیں آؤ رے جی اک کام کریںوہ تو ہیں راجہ ہم بنیں پرجا اور جھک جھک کے سلام کریںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  36. دل دے رہا تھا جو اسے بے دل بنا دیاآسان کام آپ نے مشکل بنا دیاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  37. دل مکدر ہے آئینہ رو کانہ ملا رنگ سے پتا بو کاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  38. دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوںیعنی اک ظلم کی تصویر لیے بیٹھا ہوںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  39. دم بخود بیٹھ کے خود جیسے زباں گیلی ہےسانس کیا لوں کہ ہوا دہر کی زہریلی ہےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  40. دور تھے ہوش و حواس اپنے سے بھی بیگانہ تھاان کو بزم ناز تھی اور مجھ کو خلوت خانہ تھاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  41. عیاں ہے بے رخی چتون سے اور غصہ نگاہوں سےپیام خامشی اور وہ بھی دو دو نشر گاہوں سےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  42. کچھ میں نے کہی ہے نہ ابھی اس نے سنی ہےچتون ہے کہ تلوار لئے سر پہ کھڑی ہےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  43. کرم ان کا خود ہے بڑھ کر مری حد التجا سےمجھے سوء ظن نہیں ہے کہ دعا کروں خدا سےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  44. کسی گمان و یقین کی حد میں وہ شوخ پردہ نشیں نہیں ہےجہاں نہ سمجھو اسی جگہ ہے جہاں سمجھ لو وہیں نہیں ہےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  45. کہیں سر پٹکتے دیوانے کہیں پر جھلستے پروانےجو ہو بے شعور کیا جانے یہ ہیں زندگی کے افسانےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  46. کیوں کسی رہرو سے پوچھوں اپنی منزل کا پتاموج دریا خود لگا لیتی ہے ساحل کا پتاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  47. گنوا کے دل سا گہر درد سر خرید لیابہت گراں تھا یہ سودا مگر خرید لیاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  48. گورے گورے چاند سے منہ پر کالی کالی آنکھیں ہیںدیکھ کے جن کو نیند آ جائے وہ متوالی آنکھیں ہیںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  49. مجھ کو دل قسمت نے اس کو حسن غارت گر دیاچور کر دے کیوں نہ وہ شیشہ جسے پتھر دیاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  50. مری نگاہ کہاں دید حسن یار کہاںہو اعتبار تو پھر تاب انتظار کہاںArzoo Lakhnavi (1873–1951)