فہم و ادراک سے رتبہ ترا بالا دیکھا
Yas Tonki (b. 1870)فہم و ادراک سے رتبہ ترا بالا دیکھا
قافیہ تنگ بہت فکر رسا کا دیکھا
جان و دل ہوش خرد سمع و بصر ہیں ششدر
کس نے پایا تجھے جانا تجھے سمجھا دیکھا
دیکھنے والے ترے ہوش میں کب ہوتے ہیں
آپ ہی تو نے مگر اپنا تماشا دیکھا
لن ترانی تو سنا صاف جواب ارنی
آپ سے جا کے بھی کچھ حضرت موسیٰ دیکھا
جلوۂ ہوش ربا خوب اٹھایا پردہ
کیا کہے دیدۂ دیدار طلب کیا دیکھا
جانے کس حال میں ہے کچھ نہیں عالم کی خبر
تیرے دیوانے کا عالم ہی نرالا دیکھا
تیرے پردوں ہی میں پنہان نہ ہو نور نظر
تو نے اب تک بھی نہ کچھ دیدۂ بینا دیکھا
ذرے ذرے کو ترے عکس سے پایا خورشید
قطرے قطرے کو ترے فیض سے دریا دیکھا
غنچے غنچے میں ہیں سربستہ رموز حکمت
دل عارف کی طرح پھول بھی کھلتا دیکھا
ٹھوکریں کھاتے ہیں کیا کیا نہ ابھرنے والے
مٹنے والوں ہی کو اس راہ میں اچھا دیکھا