ہائے کیسا جان سے بیزار ہے
Yas Tonki (b. 1870)ہائے کیسا جان سے بیزار ہے
جو تمہارے ہجر کا بیمار ہے
لب پہ وعدہ دل میں صاف انکار ہے
واہ کیا انکار کیا اقرار ہے
سد رہ یہ پردۂ پندار ہے
آپ سے گزرے تو بیڑا پار ہے
جان پر کھیلا کئے ہم عشق میں
یہ نہ دیکھا جیت ہے یا ہار ہے
کیوں نہ نکلے بوالہوس کی آرزو
اس کے دل سے آرزو بیزار ہے
آپ میں آنے نہ دے اے بے خودی
ڈوب ہی جاؤں تو بیڑا پار ہے
دیکھ لیں گے آج برپا کرکے حشر
حشر کے دن وعدۂ دیدار ہے
تیرے درمانوں کی بندش ہے غضب
در بھی میرے واسطے دیوار ہے