کروں کیوں نہ آہ و نالہ کہ مجھے تو کل نہ آئے

Yas Tonki (b. 1870)

کروں کیوں نہ آہ و نالہ کہ مجھے تو کل نہ آئے

ترے خواب ناز میں بھی شب غم خلل نہ آئے

رہے بیکسی سلامت مجھے کیا کسی کی حاجت

شب وعدہ تم نہ آؤ شب غم اجل نہ آئے

وہ ہماری آرزو تھی یہ خوشی تھی اپنے جی کی

کہ عزا میں آج آئے دم نزع کل نہ آئے

اثر فغاں تو جب ہے وہ کہے کہ اب تو دم لے

کہیں سینہ پھٹ نہ جائے کہیں دل نکل نہ آئے

پھلے پھولے یاسؔ لاکھوں شجر خزاں رسیدہ

مرے نخل آرزو میں کبھی پھول پھل نہ آئے