Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. مرے جوش غم کی ہے عجب کہانیکبھی اٹھتا شعلہ کبھی بہتا پانیArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  2. میر محفل نہ ہوئے گرمئ محفل تو ہوئےشمع تاباں نہ سہی جلتا ہوا دل تو ہوئےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  3. نالے مجبوروں کے خالی نہیں جانے والےہیں یہ سوتا ہوا انصاف جگانے والےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  4. نظر اس چشم پہ ہے جام لیے بیٹھا ہوںہے نہ پینے کا یہ مطلب کہ پیے بیٹھا ہوںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  5. نہ کر تلاش اثر تیر ہے لگا نہ لگاجو اپنے بس کا نہیں اس کا آسرا نہ لگاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  6. وہ بن کر بے زباں لینے کو بیٹھے ہیں زباں مجھ سےکہ خود کہتے نہیں کچھ اور کہلواتے ہیں ہاں مجھ سےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  7. وہ سر بام کب نہیں آتاجب میں ہوتا ہوں تب نہیں آتاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  8. وہ کیا لکھتا جسے انکار کرتے بھی حجاب آیاجواب خط نہیں آیا تو یہ سمجھو جواب آیاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  9. ہاں دید کا اقرار اگر ہو تو ابھی ہواور یوں ہو کہ دیدار اگر ہو تو ابھی ہوArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  10. ہر سانس ہے اک نغمہ ہر نغمہ ہے مستانہکس درجہ دکھے دل کا رنگین ہے افسانہArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  11. ہم آج کھائیں گے اک تیر امتحاں کے لیےکہ وقف کرنا ہے دل ناز جاں ستاں کے لیےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  12. ہیں دیس بدیس ایک گزر اور بسر میںبے آس کو کب چین ملا ہے کسی گھر میںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  13. یوں دور دور دل سے ہو ہو کے دل نشیں بھیہیں تو اسی جہاں میں ملتے نہیں کہیں بھیArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  14. یہ داستان دل ہے کیا ہو ادا زباں سےآنسو ٹپک رہے ہیں لفظیں ملیں کہاں سےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  15. یہی اک نباہ کی شکل ہے وہ جفا کریں میں وفا کروںاگر اس پہ بھی نہ نبھی تو پھر مرے کردگار میں کیا کروںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  16. اس پار سے یوں ڈوب کے اس پار گئےسوتی قسمت کو کر کے بیدار گئےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  17. تو کہتا ہے خالق شر و خیر نہیںمیں کہتا ہوں خالی حرم و دیر نہیںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  18. تو نے اے انقلاب کیا خلق کیاالٹا ہوا جو نکتہ نیا خلق کیاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  19. جب تک تکلیف دل نہیں پاتا ہےکیا کیا مانگوں سمجھ میں کب آتا ہےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  20. کانوں کی غرض کلام بتلاتا ہےآنکھیں کیوں ہیں نظر خود جاتا ہےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  21. آرام کے تھے ساتھی کیا کیا جب وقت پڑا تو کوئی نہیںسب دوست ہیں اپنے مطلب کے دنیا میں کسی کا کوئی نہیںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  22. اول شب وہ بزم کی رونق شمع بھی تھی پروانہ بھیرات کے آخر ہوتے ہوتے ختم تھا یہ افسانہ بھیArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  23. قومی گیتArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  24. جو بت ہے یہاں اپنی جا ایک ہی ہےدوئی چھوڑ بندے خدا ایک ہی ہےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  25. جو دل ساتھ چھٹنے سے گھبرا رہا ہےوہ چھٹتا نہیں اور پاس آ رہا ہےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  26. دیکھیں محشر میں ان سے کیا ٹھہرےتھے وہی بت وہی خدا ٹھہرےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  27. رس ان آنکھوں کا ہے کہنے کو ذرا سا پانیسینکڑوں ڈوب گئے پھر بھی ہے اتنا پانیArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  28. قربت بڑھا بڑھا کر بے خود بنا رہے ہیںمیں دور ہٹ رہا ہوں وہ پاس آ رہے ہیںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  29. کس مست ادا سے آنکھ لڑی متوالا بنا لہرا کے گراآگے تو ہیں راہیں اور کٹھن دل پہلے ہی ٹھوکر کھا کے گراArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  30. معصوم نظر کا بھولا پن للچا کے لبھانا کیا جانےدل آپ نشانہ بنتا ہے وہ تیر چلانا کیا جانےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  31. وعدہ سچا ہے کہ جھوٹا مجھے معلوم نہ تھاکل بدل جائے گی دنیا مجھے معلوم نہ تھاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  32. نہ کوئی جلوتی نہ کوئی خلوتی نہ کوئی خاص تھا نہ کوئی عام تھانہ کوئی حسن تھا نہ کوئی عشق تھا نہ یہی نام تھا نہ وہی نام تھاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  33. وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میںاک روز چمکنے والی تھی سب دنیا کے درباروں میںZafar Ali Khan (1873–1956)
  34. چو کی لفظی تحقیقZafar Ali Khan (1873–1956)
  35. سخنورانِ عہد سے خطابZafar Ali Khan (1873–1956)
  36. انقلاب ہندZafar Ali Khan (1873–1956)
  37. سال نو کا ہنگامہZafar Ali Khan (1873–1956)
  38. سنگمZafar Ali Khan (1873–1956)
  39. خمستانِ ازل کا ساقیZafar Ali Khan (1873–1956)
  40. فرض اور قرضZafar Ali Khan (1873–1956)
  41. حقائقZafar Ali Khan (1873–1956)
  42. فانوس ہند کا شعلہZafar Ali Khan (1873–1956)
  43. محبتZafar Ali Khan (1873–1956)
  44. کلکتہZafar Ali Khan (1873–1956)
  45. ہندوستانZafar Ali Khan (1873–1956)
  46. جنم اسٹمیZafar Ali Khan (1873–1956)
  47. سوراجZafar Ali Khan (1873–1956)
  48. کانپورZafar Ali Khan (1873–1956)
  49. خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلینہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کاZafar Ali Khan (1873–1956)
  50. آپ نے قدر کچھ نہ کی دل کیاڑ گئی مفت میں ہنسی دل کیHasrat Mohani (1875–1951)