Poetry
Poet
Meter
- مرے جوش غم کی ہے عجب کہانیکبھی اٹھتا شعلہ کبھی بہتا پانیArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- میر محفل نہ ہوئے گرمئ محفل تو ہوئےشمع تاباں نہ سہی جلتا ہوا دل تو ہوئےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- نالے مجبوروں کے خالی نہیں جانے والےہیں یہ سوتا ہوا انصاف جگانے والےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- نظر اس چشم پہ ہے جام لیے بیٹھا ہوںہے نہ پینے کا یہ مطلب کہ پیے بیٹھا ہوںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- نہ کر تلاش اثر تیر ہے لگا نہ لگاجو اپنے بس کا نہیں اس کا آسرا نہ لگاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- وہ بن کر بے زباں لینے کو بیٹھے ہیں زباں مجھ سےکہ خود کہتے نہیں کچھ اور کہلواتے ہیں ہاں مجھ سےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- وہ سر بام کب نہیں آتاجب میں ہوتا ہوں تب نہیں آتاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- وہ کیا لکھتا جسے انکار کرتے بھی حجاب آیاجواب خط نہیں آیا تو یہ سمجھو جواب آیاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- ہاں دید کا اقرار اگر ہو تو ابھی ہواور یوں ہو کہ دیدار اگر ہو تو ابھی ہوArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- ہر سانس ہے اک نغمہ ہر نغمہ ہے مستانہکس درجہ دکھے دل کا رنگین ہے افسانہArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- ہم آج کھائیں گے اک تیر امتحاں کے لیےکہ وقف کرنا ہے دل ناز جاں ستاں کے لیےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- ہیں دیس بدیس ایک گزر اور بسر میںبے آس کو کب چین ملا ہے کسی گھر میںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- یوں دور دور دل سے ہو ہو کے دل نشیں بھیہیں تو اسی جہاں میں ملتے نہیں کہیں بھیArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- یہ داستان دل ہے کیا ہو ادا زباں سےآنسو ٹپک رہے ہیں لفظیں ملیں کہاں سےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- یہی اک نباہ کی شکل ہے وہ جفا کریں میں وفا کروںاگر اس پہ بھی نہ نبھی تو پھر مرے کردگار میں کیا کروںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- اس پار سے یوں ڈوب کے اس پار گئےسوتی قسمت کو کر کے بیدار گئےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- تو کہتا ہے خالق شر و خیر نہیںمیں کہتا ہوں خالی حرم و دیر نہیںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- تو نے اے انقلاب کیا خلق کیاالٹا ہوا جو نکتہ نیا خلق کیاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- جب تک تکلیف دل نہیں پاتا ہےکیا کیا مانگوں سمجھ میں کب آتا ہےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- کانوں کی غرض کلام بتلاتا ہےآنکھیں کیوں ہیں نظر خود جاتا ہےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- آرام کے تھے ساتھی کیا کیا جب وقت پڑا تو کوئی نہیںسب دوست ہیں اپنے مطلب کے دنیا میں کسی کا کوئی نہیںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- اول شب وہ بزم کی رونق شمع بھی تھی پروانہ بھیرات کے آخر ہوتے ہوتے ختم تھا یہ افسانہ بھیArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- قومی گیتArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- جو بت ہے یہاں اپنی جا ایک ہی ہےدوئی چھوڑ بندے خدا ایک ہی ہےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- جو دل ساتھ چھٹنے سے گھبرا رہا ہےوہ چھٹتا نہیں اور پاس آ رہا ہےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- دیکھیں محشر میں ان سے کیا ٹھہرےتھے وہی بت وہی خدا ٹھہرےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- رس ان آنکھوں کا ہے کہنے کو ذرا سا پانیسینکڑوں ڈوب گئے پھر بھی ہے اتنا پانیArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- قربت بڑھا بڑھا کر بے خود بنا رہے ہیںمیں دور ہٹ رہا ہوں وہ پاس آ رہے ہیںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- کس مست ادا سے آنکھ لڑی متوالا بنا لہرا کے گراآگے تو ہیں راہیں اور کٹھن دل پہلے ہی ٹھوکر کھا کے گراArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- معصوم نظر کا بھولا پن للچا کے لبھانا کیا جانےدل آپ نشانہ بنتا ہے وہ تیر چلانا کیا جانےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- وعدہ سچا ہے کہ جھوٹا مجھے معلوم نہ تھاکل بدل جائے گی دنیا مجھے معلوم نہ تھاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- نہ کوئی جلوتی نہ کوئی خلوتی نہ کوئی خاص تھا نہ کوئی عام تھانہ کوئی حسن تھا نہ کوئی عشق تھا نہ یہی نام تھا نہ وہی نام تھاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میںاک روز چمکنے والی تھی سب دنیا کے درباروں میںZafar Ali Khan (1873–1956)
- چو کی لفظی تحقیقZafar Ali Khan (1873–1956)
- سخنورانِ عہد سے خطابZafar Ali Khan (1873–1956)
- انقلاب ہندZafar Ali Khan (1873–1956)
- سال نو کا ہنگامہZafar Ali Khan (1873–1956)
- سنگمZafar Ali Khan (1873–1956)
- خمستانِ ازل کا ساقیZafar Ali Khan (1873–1956)
- فرض اور قرضZafar Ali Khan (1873–1956)
- حقائقZafar Ali Khan (1873–1956)
- فانوس ہند کا شعلہZafar Ali Khan (1873–1956)
- محبتZafar Ali Khan (1873–1956)
- کلکتہZafar Ali Khan (1873–1956)
- ہندوستانZafar Ali Khan (1873–1956)
- جنم اسٹمیZafar Ali Khan (1873–1956)
- سوراجZafar Ali Khan (1873–1956)
- کانپورZafar Ali Khan (1873–1956)
- خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلینہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کاZafar Ali Khan (1873–1956)
- آپ نے قدر کچھ نہ کی دل کیاڑ گئی مفت میں ہنسی دل کیHasrat Mohani (1875–1951)