اب وہ آغوش تصور سے نہ جانے پائے

Yas Tonki (b. 1870)

اب وہ آغوش تصور سے نہ جانے پائے

بے خودی مجھ کو کبھی ہوش نہ آنے پائے

ہوش اس بزم کا پردہ نہ اٹھانے پائے

آنے والا کوئی آپے میں نہ آنے پائے

مجھ پہ تاکید مرا راز نہ افشا کرنا

خود یہ کوشش کہ یہ ہرگز نہ چھپانے پائے

لب پہ ہو ذکر بتاں دل میں ہو اللہ اللہ

جان جائے مگر ایمان نہ جانے پائے

بے خودی نے ترا افسانہ وہیں چھیڑ دیا

تیرے دیوانے کے جب ہوش ٹھکانے پائے

فتنے برپا ہوں قیامت اٹھی طوفاں اٹھے

تیرے در سے مجھے کوئی نہ اٹھانے پائے

تیری عزت کی قسم تیرے ستم بھی ہیں کرم

تو ستا غیر مرا دل نہ دکھانے پائے

شوق کہتا ہے بلانے کی ہے یہ خاص ادا

وہ جو کہتے ہیں یہاں کوئی نہ آنے پائے

دعوائے عشق حقیقی تو کیا ہے اے یاسؔ

آرزو غیر کی اب دل میں نہ آنے پائے