Poetry
Hazaj Musamman Ashtar
ہزج مثمن اشتر- ایک تو تری دولت تھا ہی دل یہ سودائیتس اوپر قیامت ہے بے کسی و تنہائیShah Hatim (1699–1783)
- عیش سب خوش آتے ہیں جب تلک جوانی ہےمردہ دل وہ ہوتا ہے جو کہ شیح فانی ہےTaban Abdul Hai (1715–1749)
- فرصت ایک دم کی ہے جوں حباب پانی یاںخاک سیر ہو کیجے سیر زندگانی یاںShah Naseer (1756–1838)
- میر مجلس رنداں آج وہ شرابی ہےخون دل جسے میرا بادۂ گلابی ہےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایادل کہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایاMirza Ghalib (1797–1869)
- ذکر اس پری وش کا، اور پھر بیاں اپنابن گیا رقیب آخر۔ تھا جو رازداں اپناMirza Ghalib (1797–1869)
- کار گاہ ہستی میں لالہ داغ ساماں ہےبرقِ خرمنِ راحت خونِ گرمِ دہقاں ہےMirza Ghalib (1797–1869)
- کثرت تماشا کو وحدت آشنا پایاہستیٔ فنا میں بھی جلوۂ بقا پایاMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
- پردہ دار ہستی تھی ذات کے سمندر میںحسن خوب کھل کھیلا اس صفت کے منظر میںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- بے خودی پہ تھا فانیؔ کچھ نہ اختیار اپناعمر بھر کیا ناحق ہم نے انتظار اپناFani Badayuni (1879–1941)
- عشق عشق ہو شاید حسن میں فنا ہو کرانتہا ہوئی غم کی دل کی ابتدا ہو کرFani Badayuni (1879–1941)
- سب ترے سوا کافر آخر اس کا مطلب کیاسر پھرا دے انساں کا ایسا خبط مذہب کیاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- کارگاہ دنیا کی نیستی بھی ہستی ہےاک طرف اجڑتی ہے ایک سمت بستی ہےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- بھیس میں مسرت کے غم کہیں نہ آیا ہواس سبب سے ڈر ڈر کر ہم خوشی سے ملتے ہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- سازگار ہے ہم دم ان دنوں جہاں اپناعشق شادماں اپنا شوق کامراں اپناMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- بربط شکستہMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- زیر لب رہا نالہ درد کی دوا ہو کرآہ نے سکوں بخشا آہ نارسا ہو کرTabish Dehlvi (1911–2004)
- اشک پر گداز دل حاشیہ چڑھاتا ہےاک ذرا سے قصہ کو داستاں بناتا ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- صبح ہر اجالے پہ رات کا گماں کیوں ہےجل رہی ہے کیا دھرتی عرش پہ دھواں کیوں ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- نور کی کرن اس سے خود نکلتی رہتی ہےوقت کٹتا رہتا ہے رات ڈھلتی رہتی ہےEjaz Siddiqi (1913–1978)
- فاصلے کے معنی کا کیوں فریب کھاتے ہوجتنے دور جاتے ہو اتنے پاس آتے ہوAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- آدمی نہ اتنا بھی دور ہو زمانے سےصبح کو جدا سمجھے شام کے فسانے سےShakeel Badayuni (1916–1970)
- غم کہ تھا حریف جاں اب حریف جاناں ہےاب وہ زلف برہم ہے اب وہ چشم گریاں ہےRaaz Muradabadi (1916–1982)
- اس طرح محبت میں دل پہ حکمرانی ہےدل نہیں مرا گویا ان کی راجدھانی ہےKaif Bhopali (1917–1991)
- خانقاہ میں صوفی منہ چھپائے بیٹھا ہےغالباً زمانے سے مات کھائے بیٹھا ہےKaif Bhopali (1917–1991)
- میرے دل نے دیکھا ہے یوں بھی ان کو الجھن میںبار بار کمرے میں بار بار آنگن میںKaif Bhopali (1917–1991)
- اک نظر ہی دیکھا تھا شوق نے شباب ان کادن کو یاد ہے ان کی رات کو ہے خواب ان کاJagan Nath Azad (1918–2004)
- زندگی کے غم لاکھوں اور چشم نم تنہاحسرتوں کی میت پر رو رہے ہیں ہم تنہاQateel Shifai (1919–2001)
- یار کیوں گریزاں ہے سیدھی راہ چلنے سےمنزلیں نہیں ملتیں راستے بدلنے سےQateel Shifai (1919–2001)
- جب بھی چوم لیتا ہوں ان حسین آنکھوں کوسو چراغ اندھیرے میں جھلملانے لگتے ہیںKaifi Azmi (1919–2002)
- آ نکل کے میداں میں دو رخی کے خانے سےکام چل نہیں سکتا اب کسی بہانے سےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- ختم شور طوفاں تھا دور تھی سیاہی بھیدم کے دم میں افسانہ تھی مری تباہی بھیMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- جان ایسے خوابوں سے کس طرح چھڑاؤں میںشہر سو گیا سارا اب کسے جگاؤں میںJafar Shirazi (b. 1920)
- عکس جا بہ جا اپنی ذات کے گراتا ہےکون آسمانوں سے آئنے گراتا ہےJafar Shirazi (b. 1920)
- اس طرف سے گزرے تھے قافلے بہاروں کےآج تک سلگتے ہیں زخم رہ گزاروں کےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- پربتوں کے پیڑوں پر شام کا بسیرا ہےسرمئی اجالا ہے چمپئی اندھیرا ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- راز ہے بہت گہرا بات اک ذرا سی ہےوہ میں سامنے پھر بھی چشم شوق پیاسی ہےSaba Afghani (1922–1976)
- با وقار لہجے میں پر اثر کہا جائےدل کا حال کچھ بھی ہو مختصر کہا جائےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- اب مری نگاہوں میں اوج ہے نہ پستی ہےایک سیل مدہوشی اک ہجوم مستی ہےBaldev Raaj (b. 1924)
- زندگی نکھر آئی جھیل کر ستم تنہاتیرے در سے ہاتھ آیا بس یہی کرم تنہاIffat Zeba Kakorvi (1924–2002)
- جو مجھے بھلا دیں گے میں انہیں بھلا دوں گاسب غرور ان کا میں خاک میں ملا دوں گاMunir Niazi (1928–2006)
- ان دنوں یہ حالت ہے میری خواب ہستی میںپھر رہا ہوں میں جیسے اک خراب بستی میںMunir Niazi (1928–2006)
- بے وفا کے وعدہ پر اعتبار کرتے ہیںوہ نہ آئے گا پھر بھی انتظار کرتے ہیںGhani Ejaz (1929–2010)
- یہ عطا بھی ہے ساقی واہ کیا نرالی ہےایک جام چھلکا ہے ایک جام خالی ہےRaaz Allahabadi (1929–1996)
- دل تمام آئینے تیرہ کون روشن کوناب یہ آنکھ ہی جانے دوستوں میں دشمن کونGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- اپنے رنج و غم بانٹے ہم سے با خبر نکلےساتھ چلنے والوں میں کوئی ہم سفر نکلےBalraj Hairat (1930–1995)
- اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کیآج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کیAhmad Faraz (1931–2008)
- رات کے اندھیرے میں کتنے پاپ پلتے ہیںپوچھتا پھرے کوئی کس سے کون پاپی ہےDaud Ghazi (1932–1963)
- ہر چمکتی قربت میں ایک فاصلہ دیکھوںکون آنے والا ہے کس کا راستہ دیکھوںNida Fazli (1938–2016)
- چل پڑے تو پھر اپنی دھن میں بے خبر برسوںلوٹ کر نہیں دیکھا ہم نے اپنا گھر برسوںZafar Kaleem (b. 1938)