Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Hazaj Musamman Ashtar

ہزج مثمن اشتر
Poet
Meter
Clear
  1. ایک تو تری دولت تھا ہی دل یہ سودائیتس اوپر قیامت ہے بے کسی و تنہائیShah Hatim (1699–1783)
  2. عیش سب خوش آتے ہیں جب تلک جوانی ہےمردہ دل وہ ہوتا ہے جو کہ شیح فانی ہےTaban Abdul Hai (1715–1749)
  3. فرصت ایک دم کی ہے جوں حباب پانی یاںخاک سیر ہو کیجے سیر زندگانی یاںShah Naseer (1756–1838)
  4. میر مجلس رنداں آج وہ شرابی ہےخون دل جسے میرا بادۂ گلابی ہےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
  5. کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایادل کہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایاMirza Ghalib (1797–1869)
  6. ذکر اس پری وش کا، اور پھر بیاں اپنابن گیا رقیب آخر۔ تھا جو رازداں اپناMirza Ghalib (1797–1869)
  7. کار گاہ ہستی میں لالہ داغ ساماں ہےبرقِ خرمنِ راحت خونِ گرمِ دہقاں ہےMirza Ghalib (1797–1869)
  8. کثرت تماشا کو وحدت آشنا پایاہستیٔ فنا میں بھی جلوۂ بقا پایاMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  9. پردہ دار ہستی تھی ذات کے سمندر میںحسن خوب کھل کھیلا اس صفت کے منظر میںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  10. بے خودی پہ تھا فانیؔ کچھ نہ اختیار اپناعمر بھر کیا ناحق ہم نے انتظار اپناFani Badayuni (1879–1941)
  11. عشق عشق ہو شاید حسن میں فنا ہو کرانتہا ہوئی غم کی دل کی ابتدا ہو کرFani Badayuni (1879–1941)
  12. سب ترے سوا کافر آخر اس کا مطلب کیاسر پھرا دے انساں کا ایسا خبط مذہب کیاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  13. کارگاہ دنیا کی نیستی بھی ہستی ہےاک طرف اجڑتی ہے ایک سمت بستی ہےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  14. بھیس میں مسرت کے غم کہیں نہ آیا ہواس سبب سے ڈر ڈر کر ہم خوشی سے ملتے ہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  15. سازگار ہے ہم دم ان دنوں جہاں اپناعشق شادماں اپنا شوق کامراں اپناMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  16. بربط شکستہMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  17. زیر لب رہا نالہ درد کی دوا ہو کرآہ نے سکوں بخشا آہ نارسا ہو کرTabish Dehlvi (1911–2004)
  18. اشک پر گداز‌ دل حاشیہ چڑھاتا ہےاک ذرا سے قصہ کو داستاں بناتا ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  19. صبح ہر اجالے پہ رات کا گماں کیوں ہےجل رہی ہے کیا دھرتی عرش پہ دھواں کیوں ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  20. نور کی کرن اس سے خود نکلتی رہتی ہےوقت کٹتا رہتا ہے رات ڈھلتی رہتی ہےEjaz Siddiqi (1913–1978)
  21. فاصلے کے معنی کا کیوں فریب کھاتے ہوجتنے دور جاتے ہو اتنے پاس آتے ہوAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  22. آدمی نہ اتنا بھی دور ہو زمانے سےصبح کو جدا سمجھے شام کے فسانے سےShakeel Badayuni (1916–1970)
  23. غم کہ تھا حریف جاں اب حریف جاناں ہےاب وہ زلف برہم ہے اب وہ چشم گریاں ہےRaaz Muradabadi (1916–1982)
  24. اس طرح محبت میں دل پہ حکمرانی ہےدل نہیں مرا گویا ان کی راجدھانی ہےKaif Bhopali (1917–1991)
  25. خانقاہ میں صوفی منہ چھپائے بیٹھا ہےغالباً زمانے سے مات کھائے بیٹھا ہےKaif Bhopali (1917–1991)
  26. میرے دل نے دیکھا ہے یوں بھی ان کو الجھن میںبار بار کمرے میں بار بار آنگن میںKaif Bhopali (1917–1991)
  27. اک نظر ہی دیکھا تھا شوق نے شباب ان کادن کو یاد ہے ان کی رات کو ہے خواب ان کاJagan Nath Azad (1918–2004)
  28. زندگی کے غم لاکھوں اور چشم نم تنہاحسرتوں کی میت پر رو رہے ہیں ہم تنہاQateel Shifai (1919–2001)
  29. یار کیوں گریزاں ہے سیدھی راہ چلنے سےمنزلیں نہیں ملتیں راستے بدلنے سےQateel Shifai (1919–2001)
  30. جب بھی چوم لیتا ہوں ان حسین آنکھوں کوسو چراغ اندھیرے میں جھلملانے لگتے ہیںKaifi Azmi (1919–2002)
  31. آ نکل کے میداں میں دو رخی کے خانے سےکام چل نہیں سکتا اب کسی بہانے سےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  32. ختم شور طوفاں تھا دور تھی سیاہی بھیدم کے دم میں افسانہ تھی مری تباہی بھیMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  33. جان ایسے خوابوں سے کس طرح چھڑاؤں میںشہر سو گیا سارا اب کسے جگاؤں میںJafar Shirazi (b. 1920)
  34. عکس جا بہ جا اپنی ذات کے گراتا ہےکون آسمانوں سے آئنے گراتا ہےJafar Shirazi (b. 1920)
  35. اس طرف سے گزرے تھے قافلے بہاروں کےآج تک سلگتے ہیں زخم رہ گزاروں کےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  36. پربتوں کے پیڑوں پر شام کا بسیرا ہےسرمئی اجالا ہے چمپئی اندھیرا ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  37. راز ہے بہت گہرا بات اک ذرا سی ہےوہ میں سامنے پھر بھی چشم شوق پیاسی ہےSaba Afghani (1922–1976)
  38. با وقار لہجے میں پر اثر کہا جائےدل کا حال کچھ بھی ہو مختصر کہا جائےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
  39. اب مری نگاہوں میں اوج ہے نہ پستی ہےایک سیل مدہوشی اک ہجوم مستی ہےBaldev Raaj (b. 1924)
  40. زندگی نکھر آئی جھیل کر ستم تنہاتیرے در سے ہاتھ آیا بس یہی کرم تنہاIffat Zeba Kakorvi (1924–2002)
  41. جو مجھے بھلا دیں گے میں انہیں بھلا دوں گاسب غرور ان کا میں خاک میں ملا دوں گاMunir Niazi (1928–2006)
  42. ان دنوں یہ حالت ہے میری خواب ہستی میںپھر رہا ہوں میں جیسے اک خراب بستی میںMunir Niazi (1928–2006)
  43. بے وفا کے وعدہ پر اعتبار کرتے ہیںوہ نہ آئے گا پھر بھی انتظار کرتے ہیںGhani Ejaz (1929–2010)
  44. یہ عطا بھی ہے ساقی واہ کیا نرالی ہےایک جام چھلکا ہے ایک جام خالی ہےRaaz Allahabadi (1929–1996)
  45. دل تمام آئینے تیرہ کون روشن کوناب یہ آنکھ ہی جانے دوستوں میں دشمن کونGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
  46. اپنے رنج و غم بانٹے ہم سے با خبر نکلےساتھ چلنے والوں میں کوئی ہم سفر نکلےBalraj Hairat (1930–1995)
  47. اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کیآج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کیAhmad Faraz (1931–2008)
  48. رات کے اندھیرے میں کتنے پاپ پلتے ہیںپوچھتا پھرے کوئی کس سے کون پاپی ہےDaud Ghazi (1932–1963)
  49. ہر چمکتی قربت میں ایک فاصلہ دیکھوںکون آنے والا ہے کس کا راستہ دیکھوںNida Fazli (1938–2016)
  50. چل پڑے تو پھر اپنی دھن میں بے خبر برسوںلوٹ کر نہیں دیکھا ہم نے اپنا گھر برسوںZafar Kaleem (b. 1938)