نور کی کرن اس سے خود نکلتی رہتی ہے
Ejaz Siddiqi (1913–1978)نور کی کرن اس سے خود نکلتی رہتی ہے
وقت کٹتا رہتا ہے رات ڈھلتی رہتی ہے
اور ذکر کیا کیجے اپنے دل کی حالت کا
کچھ بگڑتی رہتی ہے کچھ سنبھلتی رہتی ہے
ذہن ابھار دیتا ہے نقش حال و ماضی کے
ان دنوں طبیعت کچھ یوں بہلتی رہتی ہے
تہ نشین موجیں تو پر سکون رہتی ہیں
اور سطح دریا کی موج اچھلتی رہتی ہیں
زندگی عبارت ہے زندگی کے موڑوں سے
پیچ و خم ہوں کتنے ہی راہ چلتی رہتی ہے
چاہے اپنے غم کی ہو یا غم زمانہ کی
بات تو بہر صورت کچھ نکلتی رہتی ہے
زندگی ہے نام اس کا تازگی ہے کام اس کا
ایک موج خوں دل سے جو ابلتی رہتی ہے
کیف بھی ہے مستی بھی زہر بھی ہے امرت بھی
وہ جو جام ساقی سے روز ڈھلتی رہتی ہے
خود وجودیت ہو یہ یا ہو اس کی تنہائی
روح کو مگر کوئی شے مسلتی رہتی ہے
آج بھی بری کیا ہے کل بھی یہ بری کیا تھی
اس کا نام دنیا ہے یہ بدلتی رہتی ہے
ہوتی ہے وہ شعروں میں منعکس کبھی اعجازؔ
مدتوں گھٹن سی جو دل میں پلتی رہتی ہے