Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf

مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. روٹھا تھا تجھ سے یعنی خود اپنی خوشی سے میںپھر اس کے بعد جان نہ روٹھا کسی سے میںJaun Elia (1931–2002)
  2. سینہ دہک رہا ہو تو کیا چپ رہے کوئیکیوں چیخ چیخ کر نہ گلا چھیل لے کوئیJaun Elia (1931–2002)
  3. شرمندگی ہے ہم کو بہت ہم ملے تمہیںتم سر بہ سر خوشی تھے مگر غم ملے تمہیںJaun Elia (1931–2002)
  4. طفلان کوچہ گرد کے پتھر بھی کچھ نہیںسودا بھی ایک وہم ہے اور سر بھی کچھ نہیںJaun Elia (1931–2002)
  5. کیا ہو گیا ہے گیسوئے خم دار کو ترےآزاد کر رہے ہیں گرفتار کو ترےJaun Elia (1931–2002)
  6. لازم ہے اپنے آپ کی امداد کچھ کروںسینے میں وہ خلا ہے کہ ایجاد کچھ کروںJaun Elia (1931–2002)
  7. ہم آندھیوں کے بن میں کسی کارواں کے تھےجانے کہاں سے آئے ہیں جانے کہاں کے تھےJaun Elia (1931–2002)
  8. ہم جی رہے ہیں کوئی بہانہ کیے بغیراس کے بغیر اس کی تمنا کئے بغیرJaun Elia (1931–2002)
  9. ہر بار میرے سامنے آتی رہی ہو تمہر بار تم سے مل کے بچھڑتا رہا ہوں میںJaun Elia (1931–2002)
  10. اشکوں میں حسن دوست دکھاتی ہے چاندنیشبنم کو چار چاند لگاتی ہے چاندنیQabil Ajmeri (1931–1962)
  11. غم چھیڑتا ہے ساز رگ جاں کبھی کبھیہوتی ہے کائنات غزل خواں کبھی کبھیQabil Ajmeri (1931–1962)
  12. ہستی کو اپنی شعلہ بداماں کریں گے ہمزنداں میں بھی گئے تو چراغاں کریں گے ہمQabil Ajmeri (1931–1962)
  13. جس کا بدن گلاب تھا وہ یار بھی نہیںاب کے برس بہار کے آثار بھی نہیںParkash Fikri (1931–2008)
  14. جھوٹی حقیقتوں کی طرح لوگ مر گئےلیکن دلوں پہ نقش وہ تصویر کر گئےParkash Fikri (1931–2008)
  15. رنگین خواب آس کے نقشے جلا بھی دےجاں پہ بنی ہے روشنی اس کو بجھا بھی دےParkash Fikri (1931–2008)
  16. مردہ پڑے تھے لوگ گھروں کی پناہ میںدریا وفور غیظ سے بپھرا تھا چار سوParkash Fikri (1931–2008)
  17. ہنگامہ کس لیے ہے بپا تیرے شہر میںکیا پھر کوئی غریب لٹا تیرے شہر میںDanish Aligarhi (b. 1931)
  18. نوک قلم کو جرأت اظہار دے گیایہ کون میرے ہاتھ میں تلوار دے گیاZafar Naseemi (b. 1931)
  19. میں ایک بار زہر بھی پی لوں گا شوق سےقسطوں میں زہر پینے کی زحمت مگر نہ دےZafar Naseemi (b. 1931)
  20. پتھر میں فن کے پھول کھلا کر چلا گیاکیسے امٹ نقوش کوئی چھوڑتا گیاHafiz Taib (1931–2004)
  21. الزام ایک یہ بھی اٹھا لینا چاہیئےاس شہر بے اماں کو بچا لینا چاہیئےZafar Iqbal (b. 1932)
  22. ایسا وہ بے شمار و قطار انتظار تھاپہلی ہی بار دوسری بار انتظار تھاZafar Iqbal (b. 1932)
  23. بجلی گری ہے کل کسی اجڑے مکان پررونے لگوں کہ ہنس پڑوں اس داستان پرZafar Iqbal (b. 1932)
  24. جو بندۂ خدا تھا خدا ہونے والا ہےکیا کچھ ابھی تو جلوہ نما ہونے والا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  25. حد ہو چکی ہے شرم شکیبائی ختم ہوبہتر ہے اب دعا کی پذیرائی ختم ہوZafar Iqbal (b. 1932)
  26. دل کا یہ دشت عرصۂ محشر لگا مجھےمیں کیا بلا ہوں رات بڑا ڈر لگا مجھےZafar Iqbal (b. 1932)
  27. دل کو رہین بند قبا مت کیا کروہے لا علاج اس کی دوا مت کیا کروZafar Iqbal (b. 1932)
  28. دیکھو تو کچھ زیاں نہیں کھونے کے باوجودہوتا ہے اب بھی عشق نہ ہونے کے باوجودZafar Iqbal (b. 1932)
  29. زندہ بھی خلق میں ہوں مرا بھی ہوا ہوں میںہوں مختلف بھی اس میں پھنسا بھی ہوا ہوں میںZafar Iqbal (b. 1932)
  30. کچھ بھی نہ اس کی زینت و زیبائی سے ہواجتنا فساد ہے مری یکتائی سے ہواZafar Iqbal (b. 1932)
  31. کیسی رکی ہوئی تھی روانی مری طرفٹھہرا ہوا تھا اپنا ہی پانی مری طرفZafar Iqbal (b. 1932)
  32. موسم کا ہاتھ ہے نہ ہوا ہے خلاؤں میںپھر اس نے کیا طلسم رکھا ہے خلاؤں میںZafar Iqbal (b. 1932)
  33. میں بھی شریک مرگ ہوں مر میرے سامنےمیری صدا کے پھول بکھر میرے سامنےZafar Iqbal (b. 1932)
  34. ویراں تھی رات چاند کا پتھر سیاہ تھایا پردۂ نگاہ سراسر سیاہ تھاZafar Iqbal (b. 1932)
  35. یکسو بھی لگ رہا ہوں بکھرنے کے باوجودپوری طرح مرا نہیں مرنے کے باوجودZafar Iqbal (b. 1932)
  36. یوں بھی نہیں کہ شام و سحر انتظار تھاکہتے نہیں تھے منہ سے مگر انتظار تھاZafar Iqbal (b. 1932)
  37. پھر جا رکے گی بجھتے خرابوں کے دیس میںسونی سلگتی سوچتی سنسان سی سڑکZafar Iqbal (b. 1932)
  38. رخ پھیر کر جو ابر شبانہ میں چھپ گیاجی میں پھرا کرے گی اسی چاند کی چمکZafar Iqbal (b. 1932)
  39. زندہ حقیقتوں کو چھپایا نہ جائے گاہر واقعہ فسانہ بنایا نہ جائے گاVaqar Siddiqui (b. 1932)
  40. ماحول سازگار کرو میں نشے میں ہوںذکر نگاہ یار کرو میں نشے میں ہوںGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
  41. احباب میرے درد سے کچھ بے خبر نہ تھےیہ اور بات ہے وہ کوئی چارہ گر نہ تھےJ. P. Saeed (b. 1932)
  42. گمراہ کہہ کے پہلے جو مجھ سے خفا ہوئےآخر وہ میرے نقش قدم پر فدا ہوئےHafeez Banarasi (1933–2008)
  43. مانگی ہے جان آپ نے ایمان لیجئےاب تو خدا کے واسطے پہچان لیجئےRafeeq Pilibhiti (b. 1933)
  44. آنکھوں میں جل رہا ہے پہ بجھتا نہیں دھواںاٹھتا تو ہے گھٹا سا برستا نہیں دھواںGulzar (b. 1934)
  45. ہر ایک غم نچوڑ کے ہر اک برس جیےدو دن کی زندگی میں ہزاروں برس جیےGulzar (b. 1934)
  46. آیا ہے ہر چڑھائی کے بعد اک اتار بھیپستی سے ہم کنار ملے کوہسار بھیShakeb Jalali (1934–1966)
  47. اس بت کدے میں تو جو حسیں تر لگا مجھےاپنے ہی اک خیال کا پیکر لگا مجھےShakeb Jalali (1934–1966)
  48. بس اک شعاع نور سے سایہ سمٹ گیاوہ پاس آ رہا تھا کہ میں دور ہٹ گیاShakeb Jalali (1934–1966)
  49. بے جا نوازشات کا بار گراں نہیںمیں خوش ہوں اس لیے کہ کوئی مہرباں نہیںShakeb Jalali (1934–1966)
  50. پھر سن رہا ہوں گزرے زمانے کی چاپ کوبھولا ہوا تھا دیر سے میں اپنے آپ کوShakeb Jalali (1934–1966)