زندہ حقیقتوں کو چھپایا نہ جائے گا

Vaqar Siddiqui (b. 1932)

زندہ حقیقتوں کو چھپایا نہ جائے گا

ہر واقعہ فسانہ بنایا نہ جائے گا

اے دور انقلاب کی آمد کے منتظر

سوچوں سے انقلاب تو لایا نہ جائے گا

الزام بے وفائی دیا جائے گا مگر

تفریق خار و گل کو مٹایا نہ جائے گا

لطف غم حیات اگر مٹ گیا تو کیا

نقش غم حیات مٹایا نہ جائے گا

سستی غزل سنا کے کسی بزم میں وقارؔ

اپنا وقار شعر گرایا نہ جائے گا