جھوٹی حقیقتوں کی طرح لوگ مر گئے

Parkash Fikri (1931–2008)

جھوٹی حقیقتوں کی طرح لوگ مر گئے

لیکن دلوں پہ نقش وہ تصویر کر گئے

سمجھیں گے اپنی عمر کا قصہ تمام ہے

رنگ خزاں کو دیکھ کے جس روز ڈر گئے

سب کو جلا کے راکھ ہوئی موسموں کی آگ

سب کو ڈبو کے دیکھیے دریا اتر گئے

چڑیوں نے جس پہ آس کے ڈیرے جمائے تھے

ننگی ہیں اس کی ڈالیاں پتے بکھر گئے

فکریؔ برستی شام سی ہے دوپہر مگر

نکلی ذرا سی دھوپ تو چہرے نکھر گئے