Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf
مجتث مثمن مخبون محذوف- تمہارا ذوق پرستش مجھے عزیز مگرمیں اس زمین کی مٹی مجھے خدا نہ کہوParveen Fana Syed (1936–2010)
- اسے یہ حق ہے کہ وہ مجھ سے اختلاف کرےمگر وجود کا میرے بھی اعتراف کرےEjaz Rahmani (1936–2019)
- رواں دواں سوئے منزل ہے قافلہ کہ جو تھاوہی ہنوز ہے یک دشت فاصلہ کہ جو تھاUrfi Aafaqi (b. 1936)
- رہ حیات کو آساں بنا سکو تو چلوہمارا ساتھ اگر تم نبھا سکو تو چلوQaisar Siddiqi (1937–2018)
- یہ حادثوں کا نیا سلسلہ لگے ہے مجھےخود اپنے آپ میں کچھ ٹوٹتا لگے ہے مجھےUnwan Chishti (1937–2004)
- نفس نفس میں ہوں اک بوئے صد گلاب لیےمیں جاگتا ہوں نگاہوں میں تیرے خواب لیےKaif Azimabadi (b. 1937)
- ذہانتوں کو کہاں کرب سے فرار ملاجسے نگاہ ملی اس کو انتظار ملاNida Fazli (1938–2016)
- زمین دی ہے تو تھوڑا سا آسمان بھی دےمرے خدا مرے ہونے کا کچھ گمان بھی دےNida Fazli (1938–2016)
- سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلوسبھی ہیں بھیڑ میں تم بھی نکل سکو تو چلوNida Fazli (1938–2016)
- کسی بھی شہر میں جاؤ کہیں قیام کروکوئی فضا کوئی منظر کسی کے نام کروNida Fazli (1938–2016)
- ہر ایک گھر میں دیا بھی جلے اناج بھی ہواگر نہ ہو کہیں ایسا تو احتجاج بھی ہوNida Fazli (1938–2016)
- یقین چاند پہ سورج میں اعتبار بھی رکھمگر نگاہ میں تھوڑا سا انتظار بھی رکھNida Fazli (1938–2016)
- کھڑا تھا کون کہاں کچھ پتا چلا ہی نہیںمیں راستے میں کسی موڑ پر رکا ہی نہیںBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- مجھے مٹاتا رہا ہے یہ آسمان بہتمگر زمیں پہ ہیں اب بھی مرے نشان بہتBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- خبر نہیں کہ کوئی کس کے انتخاب میں ہےمگر جو شخص کل ابھرے گا میرے خواب میں ہےEhsan Akbar (b. 1938)
- نوائے حق پہ ہوں قاتل کا ڈر عزیز نہیںپڑے جہاد تو اپنا بھی سر عزیز نہیںZafar Kaleem (b. 1938)
- جو شور کرتے رہے شور ہی میں ڈوب گئےسب اپنے ذوق جنوں کی ندی میں ڈوب گئےZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- چمن میں خار ہی کیا گل بھی دل فگار ملےفریب خوردۂ رنگینیٔ بہار ملےJafar Abbas Safvi (b. 1938)
- زمین جب بھی ہوئی کربلا ہمارے لیےتو آسمان سے اترا خدا ہمارے لیےObaidullah Aleem (1939–1998)
- نگار صبح کی امید میں پگھلتے ہوئےچراغ خود کو نہیں دیکھتا ہے جلتے ہوئےObaidullah Aleem (1939–1998)
- جوانی کیا ہوئی اک رات کی کہانی ہوئیبدن پرانا ہوا روح بھی پرانی ہوئیObaidullah Aleem (1939–1998)
- میں اس کو بھول گیا ہوں وہ مجھ کو بھول گیاتو پھر یہ دل پہ کیوں دستک سی ناگہانی ہوئیObaidullah Aleem (1939–1998)
- ہزار راہ چلے پھر وہ رہ گزر آئیکہ اک سفر میں رہے اور ہر سفر سے گئےObaidullah Aleem (1939–1998)
- ہزار طرح کے صدمے اٹھانے والے لوگنہ جانے کیا ہوا اک آن میں بکھر سے گئےObaidullah Aleem (1939–1998)
- حدیث عشق کو عنوان لا جواب ملامجھے نگاہ ملی ہے اسے شباب ملاJafar Raza (1939–2022)
- کبھی تو دوستو اپنے وطن کی بات کریںکبھی تو چاک دل و پیرہن کی بات کریںJafar Raza (1939–2022)
- اٹھا بھی دل سے اگر میری چشم تر میں رہاخدا کا شکر ہے طوفان گھر کا گھر میں رہاEhtisham Bachhrayuni (b. 1939)
- دعا کرو کہ کوئی پیاس نذر جام نہ ہووہ زندگی ہی نہیں ہے جو ناتمام نہ ہوWaseem Barelvi (b. 1940)
- کچھ اتنا خوف کا مارا ہوا بھی پیار نہ ہووہ اعتبار دلائے اور اعتبار نہ ہوWaseem Barelvi (b. 1940)
- ہم اپنے آپ کو اک مسئلہ بنا نہ سکےاسی لئے تو کسی کی نظر میں آ نہ سکےWaseem Barelvi (b. 1940)
- اسی خیال سے پلکوں پہ رک گئے آنسوتری نگاہ کو شاید ثبوت غم نہ ملےWaseem Barelvi (b. 1940)
- کوئی اشارہ دلاسا نہ کوئی وعدہ مگرجب آئی شام ترا انتظار کرنے لگےWaseem Barelvi (b. 1940)
- میں جن دنوں ترے بارے میں سوچتا ہوں بہتانہیں دنوں تو یہ دنیا سمجھ میں آتی ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
- سفر کا سلسلہ آخر کہاں تمام کروںکہاں چراغ چلاؤں کہاں قیام کروںzafar iqbal zafar (b. 1940)
- قلم سے رابطۂ رنگ و آب ٹوٹ گیاکسی مصور فطرت کا خواب ٹوٹ گیاSaba Naqvi (b. 1940)
- لب خموش کو ارمان گفتگو ہی سہیجگر میں حوصلۂ عرض آرزو ہی سہیSaba Naqvi (b. 1940)
- زوال عمر کے پردے میں ہے حجاب کہاںوفور شوق سے لبریز اب گلاب کہاںJafar Sahni (1941–2018)
- سر فلک ہے کہ زیر زمیں پتہ نہ چلاترا وجود تو ہے پر کہیں پتہ نہ چلاBadnam Nazar (1941–2023)
- ہر ایک چہرہ یہاں درد کی کتاب لگےتمہارا شہر تو اک شہر اضطراب لگےBadnam Nazar (1941–2023)
- یہ سنگ و خشت کی بارش یہ زندگی کا بدنلہو لہو نظر آتا ہے آدمی کا بدنBadnam Nazar (1941–2023)
- میں اپنے آپ کو آواز دے رہا ہوں ابھیاک ایک حرف مری تشنگی کا ضامن ہےLutf-ur-rahman (b. 1941)
- میں ٹوٹتا رہوں ایسی تری رضا تو نہیںہوائے تند میں شامل تری ادا تو نہیںLutf-ur-rahman (b. 1941)
- میں دور ہو کے بھی اس سے کبھی جدا نہ ہواکہ اس کے بعد کسی کا بھی آشنا نہ ہواLutf-ur-rahman (b. 1941)
- غرور و ناز و تکبر کے دن تو کب کے گئےظہیرؔ اب وہ زمانے حسب نسب کے گئےZaheer Ahmad Zaheer (b. 1941)
- یہ امتحاں کی گھڑی ہے غزل کا ساز اٹھاانا پہ آن پڑی ہے غزل کا ساز اٹھاV. C. Rai Naya (b. 1941)
- چلے تھے گھر سے تو ہم درد کی دوا کے لئےپڑے ہیں رستے میں تیرے مگر دعا کے لئےEjaz Ahmad Ejaz (b. 1942)
- سوال تجھ سے شب و روز میرا چلتا رہاجواب تیرا ہواؤں میں مجھ کو ملتا رہاEjaz Ahmad Ejaz (b. 1942)
- صداقتوں کے پیمبر گئے رسول گئےخودی کی حرمت افضل گئی اصول گئےEjaz Ahmad Ejaz (b. 1942)
- امید و بیم کے محور سے ہٹ کے دیکھتے ہیںذرا سی دیر کو دنیا سے کٹ کے دیکھتے ہیںIftikhar Arif (b. 1943)
- خزانۂ زر و گوہر پہ خاک ڈال کے رکھہم اہل مہر و محبت ہیں دل نکال کے رکھIftikhar Arif (b. 1943)