یہ امتحاں کی گھڑی ہے غزل کا ساز اٹھا

V. C. Rai Naya (b. 1941)

یہ امتحاں کی گھڑی ہے غزل کا ساز اٹھا

انا پہ آن پڑی ہے غزل کا ساز اٹھا

گھٹا امڑ کے جو برسوں تھمی تھی آنکھوں میں

برس وہ آج پڑی ہے غزل کا ساز اٹھا

پرو کے اشک گنتھے شعر ہو گئی لو غزل

یہ موتیوں کی لڑی ہے غزل کا ساز اٹھا

جسے تلاش نہ پایا کوئی تصور میں

اسی سے آنکھ لڑی ہے غزل کا ساز اٹھا

سفر میں زیست کے سائے غزل کے ساتھ رہیں

اگرچہ دھوپ کڑی ہے غزل کا ساز اٹھا

تھکا ہے لاکھ مسافر سفر تمام سہی

ابھی بھی عمر پڑی ہے غزل کا ساز اٹھا

تجھے جہان کی ہر اک خوشی ملے گی نیاؔ

غموں کی بھیڑ کھڑی ہے غزل کا ساز اٹھا