سر فلک ہے کہ زیر زمیں پتہ نہ چلا

Badnam Nazar (1941–2023)

سر فلک ہے کہ زیر زمیں پتہ نہ چلا

ترا وجود تو ہے پر کہیں پتہ نہ چلا

کہاں چلے گئے وہ بوریا نشیں آخر

تمہیں تو کچھ بھی اے مسند نشیں پتہ نہ چلا

فلک کا بوجھ زمیں نے اٹھا لیا لیکن

فلک سے بھی ہے اٹھی یہ زمیں پتہ نہ چلا

تمہارے کوچے تک آیا تھا ایک آوارہ

پھر اس کے بعد تو اس کا کہیں پتہ نہ چلا

وہ تیرا در تھا کہ کاشی کہ خانۂ کعبہ

کہاں جھکائی تھی میں نے جبیں پتہ نہ چلا

عجیب تھی وہ شب وصل بھی نظرؔ جس میں

وہ میرے پاس بھی تھا یا نہیں پتہ نہ چلا

سڑک کی بھیڑ نے اس طرح مجھ کو نوچا تھا

کہاں تھی جیب کہاں آستیں پتہ نہ چلا