یہ سنگ و خشت کی بارش یہ زندگی کا بدن

Badnam Nazar (1941–2023)

یہ سنگ و خشت کی بارش یہ زندگی کا بدن

لہو لہو نظر آتا ہے آدمی کا بدن

کہو اندھیروں سے زلفیں بکھیر دیں اپنی

تھکا تھکا ہوا لگتا ہے روشنی کا بدن

وہ زخم ہیں کہ جو دیکھو تو آنکھ بجھ جائے

بہت حسین ہے یوں تو مری ہنسی کا بدن

یہ کس کا لمس ملا ہے زمین گلشن کو

تمہارے جسم کی صورت ہے ہر کلی کا بدن

دہکتے جسم پہ ہلکے سے نائلن کا لباس

ہو جیسے جھیل کے پانی میں چاندنی کا بدن

خطا معاف مگر اہل دل نے بھی اکثر

جنوں کے نام پہ نوچا ہے عاشقی کا بدن