Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musamman Salim Makhbun Mahzuf

رمل مثمن سالم مخبون محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. اہل دل اور بھی ہیں اہل وفا اور بھی ہیںایک ہم ہی نہیں دنیا سے خفا اور بھی ہیںSahir Ludhianvi (1921–1980)
  2. اپنے ماضی کے تصور سے ہراساں ہوں میںاپنے گزرے ہوئے ایام سے نفرت ہے مجھےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  3. پہلوئے شاہ میں یہ دختر جمہور کی قبرکتنے گم گشتہ فسانوں کا پتہ دیتی ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  4. ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہےخون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گاSahir Ludhianvi (1921–1980)
  5. میری ناکام محبت کی کہانی مت چھیڑاپنی مایوس امنگوں کا فسانہ نہ سناSahir Ludhianvi (1921–1980)
  6. یہ وطن تیری مری نسل کی جاگیر نہیںسینکڑوں نسلوں کی محنت نے سنوارا ہے اسےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  7. پھر نہ کیجے مری گستاخ نگاہی کا گلادیکھیے آپ نے پھر پیار سے دیکھا مجھ کوSahir Ludhianvi (1921–1980)
  8. بیکلی درد میں شامل کبھی ایسی تو نہ تھیطبع پروانۂ محفل کبھی ایسی تو نہ تھیKaleem Saronji (b. 1921)
  9. زندگی وقف غم و حسرت و آلام سہیآپ دے دیں تو یہی عشق کا انعام سہیKaleem Saronji (b. 1921)
  10. کون کہتا ہے کہ محرومی کا شکوہ نہ کروہاں مگر ساقئ مے خانہ کو رسوا نہ کروHafeez Merathi (1922–2000)
  11. بارہا یورش افکار نے سونے نہ دیافکر آزاد ہے آزار نے سونے نہ دیاLais Quraishi (b. 1922)
  12. عمر بھر خواب محبت سے نہ بیدار ہوئےاسی کردار سے ہم صاحب کردار ہوئےLais Quraishi (b. 1922)
  13. کوئی خدشہ ہے نہ طوفان بلا کچھ بھی نہیںاب نہ غمزہ ہے نہ انداز و ادا کچھ بھی نہیںBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  14. اتنا پرجوش میرے درد کا دھارا تو نہ تھاکیا پس پردہ کہیں قرب تمہارا تو نہ تھاJalee Amrohvi (1922–2013)
  15. دل ہے وابستہ مرا حسرت ناکام کے ساتھتازہ ہو جاتے ہیں سب زخم ترے نام کے ساتھJalee Amrohvi (1922–2013)
  16. دونوں عالم سے عیاں تھا مجھے معلوم نہ تھاتو ہی تو جلوہ کناں تھا مجھے معلوم نہ تھاJalee Amrohvi (1922–2013)
  17. ہائے اک شخص جسے ہم نے بھلایا بھی نہیںیاد آنے کی طرح یاد وہ آیا بھی نہیںUmmeed Fazli (1923–2005)
  18. آدمیت کی کمی آج جس انسان میں ہےوہ نہ ہندو میں ہے شامل نہ مسلمان میں ہےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
  19. پیار کا آج چلن دوستو دشوار ہے کیوںآج انسان خود انسان سے بیزار ہے کیوںQadir Siddiqi (b. 1923)
  20. بوئے گل رنگ حنا ناز نسیم سحریترے افسوں کی سب اے دوست ہے افسانہ گریVafa Malikpuri (1923–2003)
  21. پیکر لالہ و گل ہے اسے پتھر نہ کہووہ ہے محبوب مرا اس کو ستم گر نہ کہوUmar Quraishi (1924–2010)
  22. درد کم ہونے لگا آؤ کہ کچھ رات کٹےغم کی میعاد بڑھا جاؤ کہ کچھ رات کٹےNasir Kazmi (1925–1972)
  23. داور حشر ذرا اور بڑھے بات کہ بسمجھ سے کچھ اور بھی پوچھیں گے سوالات کہ بسOm Krishn Rahat (b. 1925)
  24. آج برسوں میں تو قسمت سے ملاقات ہوئیآپ منہ پھیر کے بیٹھے ہیں یہ کیا بات ہوئیQaisarul Jafri (1926–2005)
  25. پھر مرے سر پہ کڑی دھوپ کی بوچھار گریمیں جہاں جا کے چھپا تھا وہیں دیوار گریQaisarul Jafri (1926–2005)
  26. ڈوبنے والو ہواؤں کا ہنر کیسا لگایہ کنارا یہ سمندر یہ بھنور کیسا لگاQaisarul Jafri (1926–2005)
  27. ذہن میں کون سے آسیب کا ڈر باندھ لیاتم نے پوچھا بھی نہیں رخت سفر باندھ لیاQaisarul Jafri (1926–2005)
  28. خاک پر گر کے لہو کون و مکاں تک پہنچاروشنی بن کے مہ و کاہکشاں تک پہنچاQaisarul Jafri (1926–2005)
  29. مت برا اس کو کہو گرچہ وہ اچھا بھی نہیںوہ نہ ہوتا تو غزل میں کبھی کہتا بھی نہیںKaleem Aajiz (1926–2015)
  30. کیا ستم ہے کہ وہ ظالم بھی ہے محبوب بھی ہےیاد کرتے نہ بنے اور بھلائے نہ بنےKaleem Aajiz (1926–2015)
  31. میں محبت نہ چھپاؤں تو عداوت نہ چھپانہ یہی راز میں اب ہے نہ وہی راز میں ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
  32. لاکھ ناداں ہیں مگر اتنی سزا بھی نہ ملےچارہ سازوں کو مری شام بلا بھی نہ ملےVaris Kirmani (1927–2012)
  33. فیضؔ اور فیضؔ کا غم بھولنے والا ہے کہیںموت یہ تیرا ستم بھولنے والا ہے کہیںHabib Jalib (1928–1993)
  34. اک تری یاد سے اک تیرے تصور سے ہمیںآ گئے یاد کئی نام حسیناؤں کےHabib Jalib (1928–1993)
  35. تاب فرقت بھی نہیں ضبط کا یارا بھی نہیںاسے گھبرا کے بھلا دیں یہ گوارا بھی نہیںKailash Mahir (b. 1928)
  36. کسی برگد کا سر راہ نہ احسان لیااپنا سایہ تھا کڑی دھوپ میں خود تان لیاKailash Mahir (b. 1928)
  37. یہ بھی کیا کم ہے کہ اس بزم سے ہشیار چلےپارسا آئے تھے ہم بن کے گنہ گار چلےKailash Mahir (b. 1928)
  38. ہم سفر تو نے ادھر کاش نہ دیکھا ہوتاکم نگاہی نے تری کیسی کشش چھلکا دیKailash Mahir (b. 1928)
  39. آہ مضراب محبت کے سوا کچھ بھی نہیںساز آہوں کی عبادت کے سوا کچھ بھی نہیںQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  40. تم نے کیوں ہنس کے مجھے ایک نظر دیکھ لیاآج کیا آ گئی جی میں جو ادھر دیکھ لیاQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  41. ہر طبیعت کو جہاں پیار بھری خو کہیےکون سے پھول کو اس باغ کی خوشبو کہیےQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  42. بزم عالم میں سدا ہم بھی نہیں تم بھی نہیںمنکر روز جزا تم بھی نہیں ہم بھی نہیںGhani Ejaz (1929–2010)
  43. کوئی ہم راہ نہیں راہ کی مشکل کے سواحاصل عمر بھی کیا ہے غم حاصل کے سواGhani Ejaz (1929–2010)
  44. جب حسینوں کی تصاویر کتابوں میں ملیںکورے کاغذ ہی سوالوں کے جوابوں میں ملیںGhaus Khah makhah Hyderabadi (1929–2017)
  45. چھیڑتی ہیں کبھی لب کو کبھی رخساروں کوتم نے زلفوں کو بہت سر پہ چڑھا رکھا ہےGhaus Khah makhah Hyderabadi (1929–2017)
  46. بجھ گئی شمع حرم باب کلیسا نہ کھلاکھل گئے زخم کے لب تیرا دریچہ نہ کھلاMustafa Zaidi (1930–1970)
  47. درد دل بھی غم دوراں کے برابر سے اٹھاآگ صحرا میں لگی اور دھواں گھر سے اٹھاMustafa Zaidi (1930–1970)
  48. ہوئی ایجاد نئی طرز خوشامد کہ نہیںکل کا آئین ہے اب تک سر مسند کہ نہیںMustafa Zaidi (1930–1970)
  49. ہم لوگMustafa Zaidi (1930–1970)
  50. آدمیMustafa Zaidi (1930–1970)