چھیڑتی ہیں کبھی لب کو کبھی رخساروں کو

Ghaus Khah makhah Hyderabadi (1929–2017)

چھیڑتی ہیں کبھی لب کو کبھی رخساروں کو

تم نے زلفوں کو بہت سر پہ چڑھا رکھا ہے