Poetry
Ramal Musamman Salim Makhbun Mahzuf
رمل مثمن سالم مخبون محذوف- چٹکیاں لی ہی کہ اٹھ بیٹھ جو مر جائے کوئیاے ستم گر ترے ہاتھوں سے کدھر جائے کوئیعبدالرحمان احسان دہلوی
- دل تو حاضر ہے اگر کیجئے پھر ناز سے رمزہیں ترے ناز کے صدقے اسی انداز سے رمزعبدالرحمان احسان دہلوی
- مرتے دم نام ترا لب کے جو آ جائے قریبجی کو ٹھنڈک ہو تپ غم نہ مرے آئے قریبعبدالرحمان احسان دہلوی
- نہ ادا مجھ سے ہوا اس ستم ایجاد کا حقمیری گردن پہ رہا خنجر بیداد کا حقعبدالرحمان احسان دہلوی
- دوست خوش ہوتے ہیں جب دوست کا غم دیکھتے ہیںکیسی دنیا ہے الٰہی جسے ہم دیکھتے ہیںصفی اورنگ آبادی
- ربط ہر بزم سے ٹوٹے تری محفل کے سوارنجشیں سب کی گوارا ہیں ترے دل کے سواBashar Nawaz
- دے نشانی کوئی ایسی کہ سدا یاد رہےزخم کی بات ہے کیا زخم تو بھر جائیں گےBashar Nawaz
- صبر سے ٹوٹا ہوا ضبط سے ہارا ہوا میںجتنا باقی بچا ہوں اتنا تمہارا ہوا میںIdris Azad
- مصر سے ریت چلی آتی ہے تکرار کے ساتھحسن کا نام لیا جاتا ہے بازار کے ساتھIdris Azad
- یوں بظاہر تو پس پشت نہ ڈالو گے ہمیںجانتے ہیں بڑی عزت سے نکالو گے ہمیںIdris Azad
- بجتا رہتا ہے مسلسل کسی بربط کی طرحکس کی دستک پہ لگا ہے مرا دروازۂ دلIdris Azad
- چشم خونبار میں کیوں لخت جگر جمع کریںغنچۂ گل کی طرح کا ہے کو زر جمع کریںکشن کمار وقار
- دوستو حال دل زار ذرا اس سے کہوکم نہ ہو اس میں ذرا بلکہ سوا اس سے کہوکشن کمار وقار
- بت پرستی کے صنم خانے کا آثار نہ توڑکعبۂ دل مرا مست مئے پندار نہ توڑساحر دہلوی
- حوصلہ وجہ تپش ہائے دل و جاں نہ ہواشعلۂ شمع تری بزم میں رقصاں نہ ہواساحر دہلوی
- پردے پردے میں بہت مجھ پہ ترے وار چلےصاف اب حلق پہ خنجر چلے تلوار چلےمبارک عظیم آبادی
- پوچھی تقصیر تو بولے کوئی تقصیر نہیںہاتھ جوڑے تو کہا یہ کوئی تعزیر نہیںمبارک عظیم آبادی
- درد دل یار رہا درد سے یاری نہ گئیزندگی ہم سے تو بے لطف گزاری نہ گئیمبارک عظیم آبادی
- اس قدر غرق لہو میں یہ دل زار نہ تھاجب حنا سے ترے پاؤں کو سروکار نہ تھاانعام اللہ خاں یقین
- شہر میں تھا نہ ترے حسن کا یہ شور کبھومصر اس جنس سے اتنا نہ تھا معمور کبھوانعام اللہ خاں یقین
- عشق تیرے سے لگاوے نہ خدا عار مجھےنہ کرے دام رہائی میں گرفتار مجھےانعام اللہ خاں یقین
- مصر میں حسن کی وہ گرمئ بازار کہاںجنس تو ہے پہ زلیخا سا خریدار کہاںانعام اللہ خاں یقین
- منہ پہ کھاتا ہے یہ اس طرح سے تلوار کہ بسدل مرا عشق میں ایسا ہے جگر دار کہ بسانعام اللہ خاں یقین
- دل وہ شے ہے کہ جو دیکھے تو کھچے یار کے ساتھیہ دکاں وہ ہے کہ چلتی ہے خریدار کے ساتھقربان علی سالک بیگ
- جان آ بر میں کہ پھر کچھ غم و وسواس نہیںتو نہیں پاس تو پھر کچھ بھی مرے پاس نہیںمرزا اظفری
- اس قدر دور سمجھنے لگے وہ دل سے مجھےموت کیا نیند بھی اب آئے گی مشکل سے مجھےصفدر مرزا پوری
- اس پہ کرنا مرے نالوں نے اثر چھوڑ دیامجھ کو ایک لطف کی کر کے جو نظر چھوڑ دیازین العابدین خاں عارف
- ان کی اور میری کسی روز لڑائی نہ گئیبات بگڑی ہے کچھ ایسی کہ بنائی نہ گئیزین العابدین خاں عارف
- کیا کہیں ہم تھے کہ یا دیدۂ تر بیٹھ گئےقلزم اشک میں جوں لخت جگر بیٹھ گئےزین العابدین خاں عارف
- ہم کو اس شوخ نے کل در تلک آنے نہ دیادر و دیوار کو بھی حال سنانے نہ دیازین العابدین خاں عارف
- ہوویں برعکس بھلا کیوں نہ وہ اغیار سے خوشکسی معشوق کو دیکھا نہ وفادار سے خوشزین العابدین خاں عارف
- یاں چلا آئے جو وہ سیم بدن آپ سے آپدفع ہو دل سے مرے رنج و محن آپ سے آپزین العابدین خاں عارف
- اپنے جانان کو اے جان اسی جان میں ڈھونڈڈھونڈ مت اور جگہ پر دل حیران میں ڈھونڈقاسم علی خان آفریدی
- عشق کی کوئی اگر سیکھ لے گر مجھ سے تمیزدین دنیا میں ہوا اپنے پرایوں کو عزیزقاسم علی خان آفریدی
- آگے تم ہو تو جفاؤں کا قلق یاد نہیںدل وہ بچہ ہے جسے پہلا سبق یاد نہیںR P Shokh
- اس نے پوچھا تو فقط درد کا افسانہ کھلاکسی صورت بھی نہ راز دل دیوانہ کھلاR P Shokh
- درد اٹھ اٹھ کے یہ کہتا ہے رگ جاں کے قریبابھی زنداں میں ہوں لیکن در زنداں کے قریبR P Shokh
- کبھی ہونے سے کبھی دکھ کے نہ ہونے سے ہوااے محبت تجھے بس کام ہی رونے سے ہواR P Shokh
- دل سے محرومیٔ احساس مٹانے کے لیےگل کھلے ہیں مرے زخموں کو دکھانے کے لیےAabid Jafri
- دل پرستار ہیں سب خلق کے مورت کی تریدیدہ ہیں قبلہ نما کعبۂ صورت کی تریمرزا جواں بخت جہاں دار
- کون سی بات تری ہم سے اٹھائی نہ گئیپر جفا جو تری یہ نت کی لڑائی نہ گئیمرزا جواں بخت جہاں دار
- دھیان میں لاتے ہیں یوں بھی تری باتوں کے چراغدیکھنا چاہتے ہیں ہم تری راتوں کے چراغNadeem Najid
- صرف سایہ ہی نہیں پاؤں میں رکھا ہوا ہےایک سورج بھی مری چھاؤں میں رکھا ہوا ہےNadeem Najid
- خوں کے پیاسے ہیں وہاں ابروئے خم دار جداتیز کرتی ہے چھری یاں مژۂ یار جداشاہ اکبر داناپوری
- خیمہ ڈالے ہوئے رہرو ہے پڑا ایک سے ایککس تکلف کی ہے دنیا میں سرا ایک سے ایکشاہ اکبر داناپوری
- کوئی ارمان مرے دل کا نکلنے نہ دیاشوخیوں نے تری فقرہ بھی تو چلنے نہ دیاشاہ اکبر داناپوری
- یہ محبت کی جوانی کا سماں ہے کہ نہیںاب مرے زیر قدم کاہکشاں ہے کہ نہیںاختر انصاری اکبرآبادی
- بات کہنے کے لئے بات بنائی نہ گئیہم سے بارات فریبوں کی سجائی نہ گئیCharkh Chinioti
- تیری زلفوں نے کیا کس پہ کرم رات گئےکس کے ہاتھوں سے نکالے گئے خم رات گئےCharkh Chinioti
- جلوۂ حسن سے ہے صورت اوقات نئیدن نیا صبح نئی شام نئی رات نئیCharkh Chinioti