Poetry
Ramal Musamman Salim Makhbun Mahzuf
رمل مثمن سالم مخبون محذوف- سرد موسم ہے بہت ہجر کا آزار بھی ہےکیا کہیں تجھ سے یہ دل غم میں گرفتار بھی ہےAamir Shauqi (b. 1997)
- مسئلے اور بھی ہیں عشق کے آزار کے ساتھصرف اک کرب نہیں عمر کی رفتار کے ساتھAamir Shauqi (b. 1997)
- پاؤں کا دھیان تو ہے راہ کا ڈر کوئی نہیںمجھ کو لگتا ہے مرا زاد سفر کوئی نہیںOsama Khalid (b. 1998)
- رات جھٹکے سے مری نیند کھلی ٹوٹ گئیکانچ کی چیز تھی ٹیبل سے گری ٹوٹ گئیOsama Khalid (b. 1998)
- مختصر وقت میں بربادی کا اندازہ کرواس تعلق سے پرانے تو مرے کپڑے ہیںOsama Khalid (b. 1998)
- وہ نشہ ہے کے زباں عقل سے کرتی ہے فریبتو مری بات کے مفہوم پہ جاتا ہے کہاںPallav Mishra (b. 1998)
- زخم کھلتے ہیں تو اک درد نہاں کھینچتا ہےایسا لگتا ہے کوئی جسم سے جاں کھینچتا ہےUbaid Najibabadi (b. 1998)
- لوگ دریاؤں کی جھیلوں کی طرف دیکھتے ہیںہم مگر آپ کی آنکھوں کی طرف دیکھتے ہیںUbaid Najibabadi (b. 1998)
- چار سو رقص کناں حسرت مسمار کے ساتھعمر ڈھل جائے تری یاد کی دیوار کے ساتھJaani Lakhnavi (b. 1998)
- تشنگی وہ تھی کہ جو روح تک آئی نہ گئیجسم کی پیاس لبوں سے بھی بجھائی نہ گئیUmood Abrar Ahmad (b. 1999)
- کہاں اے پردہ نشیں خود کو چھپایا ہوا ہےتیرا دیوانہ ترے شہر میں آیا ہوا ہےVakeel Ahmad Hayat (b. 2001)
- ہم نے خود اپنی محبت کا گلا گھونٹ دیادل سے اٹھتی ہوئی چاہت کا گلا گھونٹ دیاDard Faiz Khan (b. 2003)
- ایسا لگتا ہے کہ کر دے گا اب آزاد مجھےمیری مرضی سے اڑانے لگا صیاد مجھےMunawwar Rana
- اب جدائی کے سفر کو مرے آسان کروتم مجھے خواب میں آ کر نہ پریشان کروMunawwar Rana
- کس کی تحویل میں تھے کس کے حوالے ہوئے لوگچشم گریہ میں رہے دل سے نکالے ہوئے لوگSaleem Kausar
- وہاں محفل نہ سجائی جہاں خلوت نہیں کیاس کو سوچا ہی نہیں جس سے محبت نہیں کیSaleem Kausar
- وہ جو آئے تھے بہت منصب و جاگیر کے ساتھکیسے چپ چاپ کھڑے ہیں تری تصویر کے ساتھSaleem Kausar
- اس کی خواہش ہے یہی حرف وضاحت کے بغیراب کوئی خواب بھی دیکھے نہ اجازت کے بغیرPirzada Qasim
- خرمن جاں کے لیے خود ہی شرر ہو گئے ہمخاکساری جو بڑھی خاک بسر ہو گئے ہمPirzada Qasim
- لڑکھڑاتے ہوئے بھی اور سنبھلتے ہوئے بھیاس کے در پر ہی گئے خواب میں چلتے ہوئے بھیPirzada Qasim
- لمحہ لمحہ مرا ہر اک سے سوا جاگتا ہےمیں الگ جاگتا ہوں درد جدا جاگتا ہےPirzada Qasim
- یاد کیا دست ہنر ہے کہ سنورتا گیا میںاس کو سوچا تو اسے یاد ہی کرتا گیا میںPirzada Qasim
- شام غم یاد ہے کب شمع جلی یاد نہیںکب وہ رخصت ہوئے کب رات ڈھلی یاد نہیںAhmad Mushtaq
- منظر صبح دکھانے اسے لایا نہ گیاآتی جاتی رہیں شامیں کوئی آیا نہ گیاAhmad Mushtaq
- اس قدر ظلم و ستم اے ستم ایجاد نہ کرخاک ہم خاک نشینوں کی تو برباد نہ کرجمیلہ خدا بخش
- خالی عاشق سے کبھی کوچۂ جاناں نہ رہاکون سی شب وہ تھی جس میں کوئی گریاں نہ رہاجمیلہ خدا بخش
- اپنی باتوں میں جو سادہ نظر آتا ہے مجھےخود میں وہ حد سے زیادہ نظر آتا ہے مجھےBadr Muneer
- بھیڑ ہے بر سر بازار کہیں اور چلیںآ مرے دل مرے غم خوار کہیں اور چلیںAitbar Sajid
- چھوٹے چھوٹے کئی بے فیض مفادات کے ساتھلوگ زندہ ہیں عجب صورت حالات کے ساتھAitbar Sajid
- مجھ سے مخلص تھا نہ واقف مرے جذبات سے تھااس کا رشتہ تو فقط اپنے مفادات سے تھاAitbar Sajid
- ایک ہی شہر میں رہنا ہے مگر ملنا نہیںدیکھتے ہیں یہ اذیت بھی گوارہ کر کےAitbar Sajid
- بند کمرے میں ترا درد نہ بجھ جائے کہیںکھڑکیاں کھول کہ یہ آگ ہوا چاہتی ہےFaheem Jogapuri
- عاشق حق ہیں ہمیں شکوۂ تقدیر نہیںپیچ قسمت کا کم از زلف گرہ گیر نہیںسید یوسف علی خاں ناظم
- جو مریض عشق کے ہیں ان کو شفا ہے کہ نہیںاے طبیب ان کی بھی دنیا میں دوا ہے کہ نہیںWaliullah Muhib
- باعث ترک ملاقات بتاؤ تو سہیچاہنے والا کوئی ہم سا دکھاؤ تو سہیمرزا آسمان جاہ انجم
- چھیڑ منظور ہے کیا عاشق دلگیر کے ساتھخط بھی آیا کبھی تو غیر کی تحریر کے ساتھنظام رامپوری
- حال دل تم سے مری جاں نہ کہا کون سے دنمیرے کہنے کو بھلا تم نے سنا کون سے دننظام رامپوری
- یاں کسے غم ہے جو گریہ نے اثر چھوڑ دیاہم نے تو شغل ہی اے دیدۂ تر چھوڑ دیانظام رامپوری
- جل گیا خاک ہوا کب کا وہ پروانۂ دلختم ہوتا نہیں اب تک مگر افسانۂ دلثاقب لکھنوی
- خود فراموش قفس ہم ہیں چمن یاد نہیںغیر کے ہو گئے ایسے کہ وطن یاد نہیںثاقب لکھنوی
- میں وہ ہوں جس کا زمانے نے سبق یاد کیاغم نے شاگرد کیا پھر مجھے استاد کیاثاقب لکھنوی
- تیرا چپ رہنا مرے ذہن میں کیا بیٹھ گیااتنی آوازیں تجھے دیں کہ گلا بیٹھ گیاTahzeeb Hafi
- خود پہ جب دشت کی وحشت کو مسلط کروں گااس قدر خاک اڑاؤں گا قیامت کروں گاTahzeeb Hafi
- مجھ سے اب صاف بھی ہو جا یوں ہی یار آپ سے آپجس طرح ہے تری خاطر میں غبار آپ سے آپبخش ناسخ
- مجھ کو اب ساقیٔ گلفام سے کچھ کام نہیںمے سے کچھ کام نہیں جام سے کچھ کام نہیںبخش ناسخ
- ہوئے رونے سے مرے دیدۂ بے دار سفیدبلکہ اشکوں نے کیا رنگ شب تار سفیدبخش ناسخ
- آشنا کب ہو ہے یہ ذکر دل شاد کے ساتھلب کو نسبت ہے مرے زمزمۂ داد کے ساتھحسرت عظیم آبادی
- ایک دم خشک مرا دیدۂ تر ہے کہ نہیںماجرے سے مرے تجھ کو بھی خبر ہے کہ نہیںحسرت عظیم آبادی
- نہ غرض ننگ سے رکھتے ہیں نہ کچھ نام سے کامخواریٔ عشق میں اپنی ہے ہمیں کام سے کامحسرت عظیم آبادی
- تجھ کو برباد تو ہونا تھا بہرحال خمارؔناز کر ناز کہ اس نے تجھے برباد کیاKhumar Barabankavi