Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musamman Salim Makhbun Mahzuf

رمل مثمن سالم مخبون محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. سرد موسم ہے بہت ہجر کا آزار بھی ہےکیا کہیں تجھ سے یہ دل غم میں گرفتار بھی ہےAamir Shauqi (b. 1997)
  2. مسئلے اور بھی ہیں عشق کے آزار کے ساتھصرف اک کرب نہیں عمر کی رفتار کے ساتھAamir Shauqi (b. 1997)
  3. پاؤں کا دھیان تو ہے راہ کا ڈر کوئی نہیںمجھ کو لگتا ہے مرا زاد سفر کوئی نہیںOsama Khalid (b. 1998)
  4. رات جھٹکے سے مری نیند کھلی ٹوٹ گئیکانچ کی چیز تھی ٹیبل سے گری ٹوٹ گئیOsama Khalid (b. 1998)
  5. مختصر وقت میں بربادی کا اندازہ کرواس تعلق سے پرانے تو مرے کپڑے ہیںOsama Khalid (b. 1998)
  6. وہ نشہ ہے کے زباں عقل سے کرتی ہے فریبتو مری بات کے مفہوم پہ جاتا ہے کہاںPallav Mishra (b. 1998)
  7. زخم کھلتے ہیں تو اک درد نہاں کھینچتا ہےایسا لگتا ہے کوئی جسم سے جاں کھینچتا ہےUbaid Najibabadi (b. 1998)
  8. لوگ دریاؤں کی جھیلوں کی طرف دیکھتے ہیںہم مگر آپ کی آنکھوں کی طرف دیکھتے ہیںUbaid Najibabadi (b. 1998)
  9. چار سو رقص کناں حسرت مسمار کے ساتھعمر ڈھل جائے تری یاد کی دیوار کے ساتھJaani Lakhnavi (b. 1998)
  10. تشنگی وہ تھی کہ جو روح تک آئی نہ گئیجسم کی پیاس لبوں سے بھی بجھائی نہ گئیUmood Abrar Ahmad (b. 1999)
  11. کہاں اے پردہ نشیں خود کو چھپایا ہوا ہےتیرا دیوانہ ترے شہر میں آیا ہوا ہےVakeel Ahmad Hayat (b. 2001)
  12. ہم نے خود اپنی محبت کا گلا گھونٹ دیادل سے اٹھتی ہوئی چاہت کا گلا گھونٹ دیاDard Faiz Khan (b. 2003)
  13. ایسا لگتا ہے کہ کر دے گا اب آزاد مجھےمیری مرضی سے اڑانے لگا صیاد مجھےMunawwar Rana
  14. اب جدائی کے سفر کو مرے آسان کروتم مجھے خواب میں آ کر نہ پریشان کروMunawwar Rana
  15. کس کی تحویل میں تھے کس کے حوالے ہوئے لوگچشم گریہ میں رہے دل سے نکالے ہوئے لوگSaleem Kausar
  16. وہاں محفل نہ سجائی جہاں خلوت نہیں کیاس کو سوچا ہی نہیں جس سے محبت نہیں کیSaleem Kausar
  17. وہ جو آئے تھے بہت منصب و جاگیر کے ساتھکیسے چپ چاپ کھڑے ہیں تری تصویر کے ساتھSaleem Kausar
  18. اس کی خواہش ہے یہی حرف وضاحت کے بغیراب کوئی خواب بھی دیکھے نہ اجازت کے بغیرPirzada Qasim
  19. خرمن جاں کے لیے خود ہی شرر ہو گئے ہمخاکساری جو بڑھی خاک بسر ہو گئے ہمPirzada Qasim
  20. لڑکھڑاتے ہوئے بھی اور سنبھلتے ہوئے بھیاس کے در پر ہی گئے خواب میں چلتے ہوئے بھیPirzada Qasim
  21. لمحہ لمحہ مرا ہر اک سے سوا جاگتا ہےمیں الگ جاگتا ہوں درد جدا جاگتا ہےPirzada Qasim
  22. یاد کیا دست ہنر ہے کہ سنورتا گیا میںاس کو سوچا تو اسے یاد ہی کرتا گیا میںPirzada Qasim
  23. شام غم یاد ہے کب شمع جلی یاد نہیںکب وہ رخصت ہوئے کب رات ڈھلی یاد نہیںAhmad Mushtaq
  24. منظر صبح دکھانے اسے لایا نہ گیاآتی جاتی رہیں شامیں کوئی آیا نہ گیاAhmad Mushtaq
  25. اس قدر ظلم و ستم اے ستم ایجاد نہ کرخاک ہم خاک نشینوں کی تو برباد نہ کرجمیلہ خدا بخش
  26. خالی عاشق سے کبھی کوچۂ جاناں نہ رہاکون سی شب وہ تھی جس میں کوئی گریاں نہ رہاجمیلہ خدا بخش
  27. اپنی باتوں میں جو سادہ نظر آتا ہے مجھےخود میں وہ حد سے زیادہ نظر آتا ہے مجھےBadr Muneer
  28. بھیڑ ہے بر سر بازار کہیں اور چلیںآ مرے دل مرے غم خوار کہیں اور چلیںAitbar Sajid
  29. چھوٹے چھوٹے کئی بے فیض مفادات کے ساتھلوگ زندہ ہیں عجب صورت حالات کے ساتھAitbar Sajid
  30. مجھ سے مخلص تھا نہ واقف مرے جذبات سے تھااس کا رشتہ تو فقط اپنے مفادات سے تھاAitbar Sajid
  31. ایک ہی شہر میں رہنا ہے مگر ملنا نہیںدیکھتے ہیں یہ اذیت بھی گوارہ کر کےAitbar Sajid
  32. بند کمرے میں ترا درد نہ بجھ جائے کہیںکھڑکیاں کھول کہ یہ آگ ہوا چاہتی ہےFaheem Jogapuri
  33. عاشق‌ حق ہیں ہمیں شکوۂ تقدیر نہیںپیچ‌ قسمت کا کم از زلف گرہ گیر نہیںسید یوسف علی خاں ناظم
  34. جو مریض عشق کے ہیں ان کو شفا ہے کہ نہیںاے طبیب ان کی بھی دنیا میں دوا ہے کہ نہیںWaliullah Muhib
  35. باعث ترک ملاقات بتاؤ تو سہیچاہنے والا کوئی ہم سا دکھاؤ تو سہیمرزا آسمان جاہ انجم
  36. چھیڑ منظور ہے کیا عاشق دلگیر کے ساتھخط بھی آیا کبھی تو غیر کی تحریر کے ساتھنظام رامپوری
  37. حال دل تم سے مری جاں نہ کہا کون سے دنمیرے کہنے کو بھلا تم نے سنا کون سے دننظام رامپوری
  38. یاں کسے غم ہے جو گریہ نے اثر چھوڑ دیاہم نے تو شغل ہی اے دیدۂ تر چھوڑ دیانظام رامپوری
  39. جل گیا خاک ہوا کب کا وہ پروانۂ دلختم ہوتا نہیں اب تک مگر افسانۂ دلثاقب لکھنوی
  40. خود فراموش قفس ہم ہیں چمن یاد نہیںغیر کے ہو گئے ایسے کہ وطن یاد نہیںثاقب لکھنوی
  41. میں وہ ہوں جس کا زمانے نے سبق یاد کیاغم نے شاگرد کیا پھر مجھے استاد کیاثاقب لکھنوی
  42. تیرا چپ رہنا مرے ذہن میں کیا بیٹھ گیااتنی آوازیں تجھے دیں کہ گلا بیٹھ گیاTahzeeb Hafi
  43. خود پہ جب دشت کی وحشت کو مسلط کروں گااس قدر خاک اڑاؤں گا قیامت کروں گاTahzeeb Hafi
  44. مجھ سے اب صاف بھی ہو جا یوں ہی یار آپ سے آپجس طرح ہے تری خاطر میں غبار آپ سے آپبخش ناسخ
  45. مجھ کو اب ساقیٔ گلفام سے کچھ کام نہیںمے سے کچھ کام نہیں جام سے کچھ کام نہیںبخش ناسخ
  46. ہوئے رونے سے مرے دیدۂ بے دار سفیدبلکہ اشکوں نے کیا رنگ شب تار سفیدبخش ناسخ
  47. آشنا کب ہو ہے یہ ذکر دل شاد کے ساتھلب کو نسبت ہے مرے زمزمۂ داد کے ساتھحسرت عظیم آبادی
  48. ایک دم خشک مرا دیدۂ تر ہے کہ نہیںماجرے سے مرے تجھ کو بھی خبر ہے کہ نہیںحسرت عظیم آبادی
  49. نہ غرض ننگ سے رکھتے ہیں نہ کچھ نام سے کامخواریٔ عشق میں اپنی ہے ہمیں کام سے کامحسرت عظیم آبادی
  50. تجھ کو برباد تو ہونا تھا بہرحال خمارؔناز کر ناز کہ اس نے تجھے برباد کیاKhumar Barabankavi