سرد موسم ہے بہت ہجر کا آزار بھی ہے

Aamir Shauqi (b. 1997)

سرد موسم ہے بہت ہجر کا آزار بھی ہے

کیا کہیں تجھ سے یہ دل غم میں گرفتار بھی ہے

کیسے کہہ دوں کی ترے بعد مجھے چین پڑا

صبح غمگین مری رات دل آزار بھی ہے

زندگی کہتی ہے ٹھہرو نہ بڑھو اور بڑھو

منزلیں دور ہیں اور راستہ دشوار بھی ہے

نئی تعمیر کا سودا ہے سر و دل میں مگر

سامنے صحن کی گرتی ہوئی دیوار بھی ہے

میرا مداح مرے فن سے نہیں شہر کا شہر

خود کی پہچان میں کردار کا کردار بھی ہے

ہر کسی سے نہیں ملتا ہوں میں جھک کر شوقیؔ

درمیاں اپنے کوئی چیز یہ معیار بھی ہے