Poetry
Khafif Musaddas Makhbun Mahzuf Maqtu'
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع- ہم تو کتنوں کو مہ جبیں کہتےآپ ہیں اس لیے نہیں کہتےGulzar (b. 1934)
- آدمی بلبلہ ہے پانی کااور پانی کی بہتی سطح پرGulzar (b. 1934)
- چار تنکے اٹھا کے جنگل سےایک بالی اناج کی لے کرGulzar (b. 1934)
- سانس لینا بھی کیسی عادت ہےجئے جانا بھی کیا روایت ہےGulzar (b. 1934)
- نظم الجھی ہوئی ہے سینے میںمصرعے اٹکے ہوئے ہیں ہونٹوں پرGulzar (b. 1934)
- وہ جو شاعر تھا، چپ سا رہتا تھابہکی بہکی سی باتیں کرتا تھاGulzar (b. 1934)
- آگ کے درمیان سے نکلامیں بھی کس امتحان سے نکلاShakeb Jalali (1934–1966)
- دوستی کا فریب ہی کھائیںآؤ کاغذ کی ناؤ تیرائیںShakeb Jalali (1934–1966)
- عشق کے غم گسار ہیں ہم لوگحسن کے رازدار ہیں ہم لوگShakeb Jalali (1934–1966)
- کوئی اس دل کا حال کیا جانےایک خواہش ہزار تہہ خانےShakeb Jalali (1934–1966)
- یاد (شکیب جلالی)Shakeb Jalali (1934–1966)
- دعوت فکرShakeb Jalali (1934–1966)
- سایۂ بے اماں سے کیا حاصلزندگی اس جہاں سے کیا حاصلKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
- ہم سے یوں بے رخی سے ملتے ہیںجس طرح ہر کسی سے ملتے ہیںChaman Lal Chaman (1934–2019)
- اک پرانی شراب جیسا عشقمجھ سے خانہ خراب جیسا عشقJagdish Prakash (b. 1935)
- جو بھی ہونا تھا وہ ہوا اچھاتو ہے اچھا ترا خدا اچھاJagdish Prakash (b. 1935)
- راہ کو آزما کے دیکھو تواک قدم پھر بڑھا کے دیکھو توJagdish Prakash (b. 1935)
- شاہراہیں نہیں ڈگر تو ہےمنزلیں نا سہی سفر تو ہےJagdish Prakash (b. 1935)
- پہلے احباب کی کہانی لکھپھر ہر اک لفظ کے معانی لکھG R Kanwal (b. 1935)
- جس کی بنیاد ہو جوانی پردیر لگتی ہے اس کہانی پرG R Kanwal (b. 1935)
- گھر نہیں رہ گزر میں رہتا ہےپاؤں میرا سفر میں رہتا ہےG R Kanwal (b. 1935)
- ماہ کتنے ہیں سال کتنے ہیںہجر کتنے وصال کتنے ہیںG R Kanwal (b. 1935)
- وہ ستم گر جدھر گیا ہوگااک زمانہ ادھر گیا ہوگاG R Kanwal (b. 1935)
- اک انجان راہ پر دونوںمل گئے آج بے خطر دونوںM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
- ایک دھوکہ ہے دل کشی کیا ہےہم سمجھتے ہیں دوستی کیا ہےRaees Akhtar (b. 1935)
- عشق رسم و رواج کیا سمجھےدل کی باتیں سماج کیا سمجھےDarshan Dayal Parwaz (b. 1935)
- کیا کرے یا نہ کیا کرے کوئیچپ رہے یا گلہ کرے کوئیDarshan Dayal Parwaz (b. 1935)
- دن کے صحرا سے جب بنی جاں پرایک مبہم سا آسرا پا کرShahryar (1936–2012)
- زرد بلبوں کے بازوؤں میں اسیرسخت بے جان لمبی کالی سڑکShahryar (1936–2012)
- نغمگی آرزو کی بکھری ہےرات شرما رہی ہے اپنے سےShahryar (1936–2012)
- بھول کر بھی نہ پھر ملے گا توجانتا ہوں یہی کرے گا توAdil Mansuri (1936–2008)
- ہاتھ میں آفتاب پگھلا کررات بھر روشنی سے کھیلا کرAdil Mansuri (1936–2008)
- بند مٹھی میں ہونٹ کے ٹکڑےاور ٹکڑوں میں ہانپتے سورجAdil Mansuri (1936–2008)
- پتھروں پر جمی ہوئی نظریںگاڑھا سیال لمحہ لمحہ رواںAdil Mansuri (1936–2008)
- تنگ تاریک گلی میں کتامیلا میلا سا تھرتھراتا چاندAdil Mansuri (1936–2008)
- رات اور دن کے درمیاں کوئیریڑھ کی ہڈی توڑ کر نکلاAdil Mansuri (1936–2008)
- ایسے لمحات بھی گزرتے ہیںجب نہ جیتے ہیں ہم نہ مرتے ہیںParveen Fana Syed (1936–2010)
- تم نے دل کے دیے بجھائے ہیںہم غموں کے چراغ لائے ہیںParveen Fana Syed (1936–2010)
- دم بخود گلشنوں کی رعنائیکیسی کھوئی ہوئی بہار آئیParveen Fana Syed (1936–2010)
- زہر شیریں ہے سچ پیے جاؤہمدمو مر کے بھی جیے جاؤParveen Fana Syed (1936–2010)
- خشک دریا پڑا ہے خواہش کاخواب دیکھا تھا ہم نے بارش کاEjaz Rahmani (1936–2019)
- رنگ موسم کے ساتھ لائے ہیںیہ پرندے کہاں سے آئے ہیںEjaz Rahmani (1936–2019)
- کتنے باہوش ہو گئے ہم لوگخود فراموش ہو گئے ہم لوگEjaz Rahmani (1936–2019)
- مٹ گیا غم ترے تکلم سےلب ہوئے آشنا تبسم سےEjaz Rahmani (1936–2019)
- نقش بر آب ہو گیا ہوں میںکتنا کم یاب ہو گیا ہوں میںEjaz Rahmani (1936–2019)
- آدمی کا وقار علم سے ہےزندگی کی بہار علم سے ہےEjaz Rahmani (1936–2019)
- میں مسافر صبا کی راہوں کابوجھ اٹھائے ہوئے گناہوں کاQaisar Shameem (1936–2021)
- وہ جو سب کا بہت چہیتا تھاقبر کی ساعتوں میں تنہا تھاQaisar Shameem (1936–2021)
- جتنی تیزی سے آ رہا تھا وہلوٹ کر دور جا رہا تھا وہAajiz Hengan Ghati (1936–2008)
- حسن کو بے نقاب دیکھا ہےجیوں کھلی آنکھ خواب دیکھا ہےBal Swaroop Rahi (b. 1936)