Poetry
Bahr-e Hindi Mutaqarib Asram Maqbuz Mahzuf
بحرِ ہندی/ متقارب اثرم مقبوض محذوف- تو جب میرے گھر آیا تھامیں اک سپنا دیکھ رہا تھاNasir Kazmi (1925–1972)
- تھوڑی دیر کو جی بہلا تھاپھر تری یاد نے گھیر لیا تھاNasir Kazmi (1925–1972)
- دکھ کی لہر نے چھیڑا ہوگایاد نے کنکر پھینکا ہوگاNasir Kazmi (1925–1972)
- میں نے جب لکھنا سیکھا تھاپہلے تیرا نام لکھا تھاNasir Kazmi (1925–1972)
- میں ہوں رات کا ایک بجا ہےخالی رستہ بول رہا ہےNasir Kazmi (1925–1972)
- ٹوٹیں ظلم کی قیدیں ٹوٹیںپھوٹیں امن کی کرنیں پھوٹیںSaadat Nazeer (b. 1926)
- لہرا ترنگے لہرا ہوا میںبھر دے رنگ و نور فضا میںSaadat Nazeer (b. 1926)
- ہم سے ہی پھولوں کی پھبن ہےہم سے ہی شاداب چمن ہےSaadat Nazeer (b. 1926)
- تین ہماری بہنیں چھوٹیمل کر کھائیں آدھی روٹیIbn-e-Insha (1927–1978)
- دنیا بھر سے دور یہ نگرینگری دنیا بھر سے نرالیIbn-e-Insha (1927–1978)
- دیکھ تو گوری کسے پکارےبستی بستی دوارے دوارےIbn-e-Insha (1927–1978)
- اے رونے والے بادلچپ ہو جاQamar Jameel (1927–2000)
- ان سے نین ملا کے دیکھویہ دھوکا بھی کھا کے دیکھوMunir Niazi (1928–2006)
- چھوٹا سا اک گاؤں تھا جس میںدیئے تھے کم اور بہت اندھیراMunir Niazi (1928–2006)
- دور ہی دور رہی بس مجھ سےپاس وہ میرے آ نہ سکی تھیMunir Niazi (1928–2006)
- رات ہے کتنی گہری کالیدکھ کی بات سجھانے والیMunir Niazi (1928–2006)
- میں ہوں ایک عجیب سپیراناگ پالنا کام ہے میراMunir Niazi (1928–2006)
- تیرے مدھر گیتوں کے سہارےبیتے ہیں دن رین ہمارےHabib Jalib (1928–1993)
- کچھ تو تعلق کچھ تو لگاؤمیرے دشمن ہی کہلاؤIbn-e-Safi (1928–1980)
- کاش ہم لوگ لڑ گئے ہوتےآپ کی دوستی کا رونا ہےMustafa Zaidi (1930–1970)
- ریستوران میںMustafa Zaidi (1930–1970)
- تم تھے اور آلام بہت تھےاور وہ صبح و شام بہت تھےDaur Afridi (1930–1992)
- جاتی رت سے پیار کرو گےکر لو بات ادھار کرو گےGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- رہزن رہبر ہو جاتے ہیںکم تر برتر ہو جاتے ہیںYas Chandpuri (b. 1930)
- دل میں مرے ارمان بہت ہیںاس گھر میں مہمان بہت ہیںRaees Rampuri (b. 1930)
- دیکھو تو اس موڑ کے آگےچھوٹا سا اسکول ہماراVaqar Khaleel (b. 1930)
- تجھ سے بچھڑ کر بھی زندہ تھامر مر کر یہ زہر پیا ہےAhmad Faraz (1931–2008)
- بم برساؤآگ لگاؤVaqar Siddiqui (b. 1932)
- ایک پشیمانی رہتی ہےالجھن اور گرانی بھیGulzar (b. 1934)
- یاد ہے اک دنمیری میز پہ بیٹھے بیٹھےGulzar (b. 1934)
- کالا پتھرShakeb Jalali (1934–1966)
- درد کو درد سے نسبت ہوگیکیوں سوچیں کہ محبت ہوگیM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
- دھول میں لپٹے چہرے والامیرا سایہShahryar (1936–2012)
- پانی کو پتھر کہتے ہیںکیا کچھ دیدہ ور کہتے ہیںAdil Mansuri (1936–2008)
- جب بھی کسی نے خود کو صدا دیسناٹوں میں آگ لگا دیNida Fazli (1938–2016)
- تم کو چاہا تم کو پوجاکیا یہ میرا پاگل پن تھاPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- ایک اونٹ نے منت مانیاگر گیا میرا کوہانBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- جنگل میں جا کر کوے نےکوئل کا اک گیت چرایاBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- دبلا پتلا نازک دوراںؔشیشہ جیسا نازک دوراںؔOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- کھڑکی سے مہتاب نہ دیکھوایسے بھی تم خواب نہ دیکھوZafar Kaleem (b. 1938)
- میں بھی جھوٹا تم بھی جھوٹےآؤ چلو تنہا ہو جائیںObaidullah Aleem (1939–1998)
- رات بھر کتا اس کے پیٹ میں بھونک رہا تھاکیسی کیسی آوازیں تھیںTabassum Kashmiri (b. 1940)
- نکلے ہیں دیوار سے چہرےبجھے بجھے بیمار سے چہرےOm Prabhakar (b. 1941)
- میرے پاس نہیں ہے کچھ بھیسرد ہواؤں سے بچنے کوHafeez Aatish (b. 1942)
- سارے وطن کے راج دلارےصدر حکومت ذاکر پیارےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- اس دنیا میںچشم و زباں کےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- دھوپ میں جل کر راہ ہوا ہوںجب بھی پیڑ سے میں ٹوٹا ہوںEhtisham Akhtar (b. 1944)
- وہ جو کوئیں میں ڈوبا ہوگاشاید کوئی پیاسا ہوگاEhtisham Akhtar (b. 1944)
- جب بھی اس کی خواہش رکھنااچھا ہے کچھ دانش رکھناHabeeb Kaifi (b. 1945)
- کانٹے چننا پھول بچھانارستہ یوں آسان بناناHabeeb Kaifi (b. 1945)