Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اتنے آسودہ کنارے نہیں اچھے لگتےایک ہی جیسے نظارے نہیں اچھے لگتےYasmeen Hameed (b. 1951)
  2. افق تک میرا صحرا کھل رہا ہےکہیں دریا سے دریا مل رہا ہےYasmeen Hameed (b. 1951)
  3. اک بے پناہ رات کا تنہا جواب تھاچھوٹا سا اک دیا جو سر احتساب تھاYasmeen Hameed (b. 1951)
  4. ایک اک حرف سمیٹو مجھے تحریر کرومیری یکسوئی کو آمدۂ زنجیر کروYasmeen Hameed (b. 1951)
  5. پردہ آنکھوں سے ہٹانے میں بہت دیر لگیہمیں دنیا نظر آنے میں بہت دیر لگیYasmeen Hameed (b. 1951)
  6. تعلق کے بہاؤ کا مقدم استعارہ کس جگہ ہےمرے گہرے سمندر تیری وحشت کا کنارہ کس جگہ ہےYasmeen Hameed (b. 1951)
  7. جاگتے سوتے ہوئے لکھتے ہیںشعر ہم روتے ہوئے لکھتے ہیںYasmeen Hameed (b. 1951)
  8. خلش ہے خواب ہے آدھی کہانی ہےہماری بات تو بس آنی جانی ہےYasmeen Hameed (b. 1951)
  9. دریا کی روانی وہی دہشت بھی وہی ہےاور ڈوبتے لمحات کی صورت بھی وہی ہےYasmeen Hameed (b. 1951)
  10. دولت درد سمیٹو کہ بکھرنے کو ہےرات کا آخری لمحہ بھی گزرنے کو ہےYasmeen Hameed (b. 1951)
  11. راستے کی سمت اکثر دیکھتے رہتے ہیں کیوںخاک اپنے فیصلوں کی چھانتے رہتے ہیں کیوںYasmeen Hameed (b. 1951)
  12. رسائی کا قرینہ آنکھ میں ہےزہے قسمت مدینہ آنکھ میں ہےYasmeen Hameed (b. 1951)
  13. رہ بے سائباں سے کوئی رشتہ جوڑ کر دیکھوںمیں اپنے شہر کی ساری فصیلیں توڑ کر دیکھوںYasmeen Hameed (b. 1951)
  14. سانحہ قسمتوں کے دریچوں میں لپکے گا چھپ جائے گا بات ٹل جائے گیسب مسافر گھروں کو پلٹ جائیں گے غم کی وحشت خوشی میں بدل جائے گیYasmeen Hameed (b. 1951)
  15. سبک ہوتی ہوا سے تیز چلنا چاہتی ہوںمیں اک جلتے دیے کے ساتھ جلنا چاہتی ہوںYasmeen Hameed (b. 1951)
  16. شجر ہوں دھوپ کی زد پر کسی کا سائباں ہوںکسی بھی وقت مٹ سکتا ہے جو ایسا نشاں ہوںYasmeen Hameed (b. 1951)
  17. عطائے ابر سے انکار کرنا چاہیئے تھامیں صحرا تھی مجھے اقرار کرنا چاہیئے تھاYasmeen Hameed (b. 1951)
  18. قیاس و یاس کی حد سے نکل کرچلی جاؤں کہیں چہرہ بدل کرYasmeen Hameed (b. 1951)
  19. کتنا مشکل تھا یہ رستہ کون لکھے گاپوری بات اور پورا قصہ کون لکھے گاYasmeen Hameed (b. 1951)
  20. کوئی پوچھے مرے مہتاب سے میرے ستاروں سےچھلکتا کیوں نہیں سیلاب میں پانی کناروں سےYasmeen Hameed (b. 1951)
  21. کوئی سایہ سا لپٹ جاتا ہے دل سے آ کرکھڑکیاں کھولنی پڑتی ہیں مجھے گھبرا کرYasmeen Hameed (b. 1951)
  22. کیا ہوا کوئی سوچتا بھی نہیںاور کہنے کو کچھ ہوا بھی نہیںYasmeen Hameed (b. 1951)
  23. مثال عکس مرے آئنے میں ڈھلتا رہاوہ خد و خال بھی اپنے مگر بدلتا رہاYasmeen Hameed (b. 1951)
  24. مجھے آگہی کا نشاں سمجھ کے مٹاؤ متیہ چراغ جلنے لگا ہے اس کو بجھاؤ متYasmeen Hameed (b. 1951)
  25. مسلسل ایک ہی تصویر چشم تر میں رہیچراغ بجھ بھی گیا روشنی سفر میں رہیYasmeen Hameed (b. 1951)
  26. ہم نے کسی کو عہد وفا سے رہا کیااپنی رگوں سے جیسے لہو کو جدا کیاYasmeen Hameed (b. 1951)
  27. ہمیں خبر تھی بچانے کا اس میں یارا نہیںسو ہم بھی ڈوب گئے اور اسے پکارا نہیںYasmeen Hameed (b. 1951)
  28. یہ دنیا دور تک کا سلسلہ نئیںہمیں اس کے لئے کچھ سوچنا نئیںYasmeen Hameed (b. 1951)
  29. تمہارے پھول تازہ ہیںمری سب انگلیوں پر اگ رہے ہیںYasmeen Hameed (b. 1951)
  30. میں اپنی کھوج میں گم تھیکہ میں کیا ہوںYasmeen Hameed (b. 1951)
  31. وہ ہنس مکھ اور حسیں لڑکیجو اب تک مجھ میں زندہ ہےYasmeen Hameed (b. 1951)
  32. اندھیرے سےکشید صبح کیYasmeen Hameed (b. 1951)
  33. جو بار آور نہیں ہوتاوہ لمحہ کیسا ہوتا ہےYasmeen Hameed (b. 1951)
  34. گئی رتوں کی کہانیاں ہیںنشانیاں ہیںYasmeen Hameed (b. 1951)
  35. میں ہمیشہ سوچتی تھیآنسو اور دردYasmeen Hameed (b. 1951)