ایک اک حرف سمیٹو مجھے تحریر کرو

Yasmeen Hameed (b. 1951)

ایک اک حرف سمیٹو مجھے تحریر کرو

میری یکسوئی کو آمدۂ زنجیر کرو

سب خد و خال مرے دھند ہوئے جاتے ہیں

صبح کے رنگ سے آؤ مجھے تصویر کرو

جیتنا میرے لیے کرب ہوا جاتا ہے

میرے پندار کو توڑو مجھے تسخیر کرو

اس عمارت کو گرا دو جو نظر آتی ہے

مرے اندر جو کھنڈر ہے اسے تعمیر کرو

اب میری آنکھ سے لے لو خلش بینائی

یا مرے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرو