Poetry
- آج دستا ہے حال کچھ کا کچھکیوں نہ گزرے خیال کچھ کا کچھWali Dakani (1667–1707)
- آج سر سبز کوہ و صحرا ہےہر طرف سیر ہے تماشا ہےWali Dakani (1667–1707)
- اگر گلشن طرف وو نو خط رنگیں ادا نکلےگل و ریحاں سوں رنگ و بو شتابی پیشوا نکلےWali Dakani (1667–1707)
- بھڑکے ہے دل کی آتش تجھ نیہ کی ہوا سوںشعلہ نمط جلا دل تجھ حسن شعلہ زا سوںWali Dakani (1667–1707)
- تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں سوں کہوں گاجادو ہیں ترے نین غزالاں سوں کہوں گاWali Dakani (1667–1707)
- تخت جس بے خانماں کا دشت ویرانی ہواسر اپر اس کے بگولا تاج سلطانی ہواWali Dakani (1667–1707)
- ترا لب دیکھ حیواں یاد آوےترا مکھ دیکھ کنعاں یاد آوےWali Dakani (1667–1707)
- ترا مجنوں ہوں صحرا کی قسم ہےطلب میں ہوں تمنا کی قسم ہےWali Dakani (1667–1707)
- جب تجھ عرق کے وصف میں جاری قلم ہواعالم میں اس کا ناؤں جواہر رقم ہواWali Dakani (1667–1707)
- جب صنم کوں خیال باغ ہواطالب نشۂ فراغ ہواWali Dakani (1667–1707)
- جس دل ربا سوں دل کوں مرے اتحاد ہےدیدار اس کا میری انکھاں کی مراد ہےWali Dakani (1667–1707)
- جسے عشق کا تیر کاری لگےاسے زندگی کیوں نہ بھاری لگےWali Dakani (1667–1707)
- چھپا ہوں میں صدائے بانسلی میںکہ تا جاؤں پری رو کی گلی میںWali Dakani (1667–1707)
- خوب رو خوب کام کرتے ہیںیک نگہ میں غلام کرتے ہیںWali Dakani (1667–1707)
- دل طلب گار ناز مہوش ہےلطف اس کا اگرچہ دل کش ہےWali Dakani (1667–1707)
- دل کوں تجھ باج بے قراری ہےچشم کا کام اشک باری ہےWali Dakani (1667–1707)
- دل ہوا ہے مرا خراب سخندیکھ کر حسن بے حجاب سخنWali Dakani (1667–1707)
- دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کاہے مطالعہ مطلع انوار کاWali Dakani (1667–1707)
- روح بخشی ہے کام تجھ لب کادم عیسیٰ ہے نام تجھ لب کاWali Dakani (1667–1707)
- سجن ٹک ناز سوں مجھ پاس آ آہستہ آہستہچھپی باتیں اپس دل کی سنا آہستہ آہستہWali Dakani (1667–1707)
- شراب شوق سیں سرشار ہیں ہمکبھو بے خود کبھو ہشیار ہیں ہمWali Dakani (1667–1707)
- شغل بہتر ہے عشق بازی کاکیا حقیقی و کیا مجازی کاWali Dakani (1667–1707)
- صحبت غیر موں جایا نہ کرودرد منداں کوں کڑھایا نہ کروWali Dakani (1667–1707)
- عاشق کے مکھ پہ نین کے پانی کو دیکھ توںاس آرسی میں راز نہانی کوں دیکھ توںWali Dakani (1667–1707)
- عشق بیتاب جاں گدازی ہےحسن مشتاق دل نوازی ہےWali Dakani (1667–1707)
- عشق میں صبر و رضا درکار ہےفکر اسباب وفا درکار ہےWali Dakani (1667–1707)
- فدائے دلبر رنگیں ادا ہوںشہید شاہد گل گوں قبا ہوںWali Dakani (1667–1707)
- کمر اس دل ربا کی دل ربا ہےنگہ اس خوش ادا کی خوش ادا ہےWali Dakani (1667–1707)
- کوچۂ یار عین کاسی ہےجوگئی دل وہاں کا باسی ہےWali Dakani (1667–1707)
- کیا مجھ عشق نے ظالم کوں آب آہستہ آہستہکہ آتش گل کوں کرتی ہے گلاب آہستہ آہستہWali Dakani (1667–1707)
- مت غصہ کے شعلے سوں جلتے کوں جلاتی جاٹک مہر کے پانی سوں تو آگ بجھاتی جاWali Dakani (1667–1707)
- مشتاق ہیں عشاق تری بانکی ادا کےزخمی ہیں محباں تری شمشیر جفا کےWali Dakani (1667–1707)
- مفلسی سب بہار کھوتی ہےمرد کا اعتبار کھوتی ہےWali Dakani (1667–1707)
- میں تجھے آیا ہوں ایماں بوجھ کرباعث جمعیت جاں بوجھ کرWali Dakani (1667–1707)
- میں عاشقی میں تب سوں افسانہ ہو رہا ہوںتیری نگہ کا جب سوں دیوانہ ہو رہا ہوںWali Dakani (1667–1707)
- وو صنم جب سوں بسا دیدۂ حیران میں آآتش عشق پڑی عقل کے سامان میں آWali Dakani (1667–1707)
- وہ نازنیں ادا میں اعجاز ہے سراپاخوبی میں گل رخاں سوں ممتاز ہے سراپاWali Dakani (1667–1707)
- ہوا ظاہر خط روئے نگار آہستہ آہستہکہ جیوں گلشن میں آتی ہے بہار آہستہ آہستہWali Dakani (1667–1707)
- ہوئے ہیں رام پیتم کے نین آہستہ آہستہکہ جیوں پھاندے میں آتے ہیں ہرن آہستہ آہستہWali Dakani (1667–1707)
- یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کاہے وظیفہ مجھ دل بیمار کاWali Dakani (1667–1707)