Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اپنا اپنا رنگ دکھلاتی ہیں جانی چوڑیاںآسمانی ارغوانی زعفرانی چوڑیاںسید یوسف علی خاں ناظم
  2. اس توقع پہ کہ دیکھوں کبھی آتے جاتےگھس گئے پاؤں رہ‌ دوست میں جاتے جاتےسید یوسف علی خاں ناظم
  3. بر سر لطف آج چشم دل ربا تھی میں نہ تھاڈھونڈھتی مجھ کو نگاہ آشنا تھی میں نہ تھاسید یوسف علی خاں ناظم
  4. بے دیے لے اڑا کبوتر خطیوں پہنچتا ہے اوپر اوپر خطسید یوسف علی خاں ناظم
  5. تھی آسماں پہ میری چڑھائی تمام راتپھینکا کیا ہوں تیر ہوائی تمام راتسید یوسف علی خاں ناظم
  6. تیرے در سے میں اٹھا لیکن نہ میرا دل اٹھاچھوڑ کر ہو جس طرح کاسہ کوئی سائل اٹھاسید یوسف علی خاں ناظم
  7. جاں فشانی کا واں حساب عبثجو کہو اس کا ہے جواب عبثسید یوسف علی خاں ناظم
  8. جب کہو کیوں ہو خفا کیا باعثکہتے ہیں پوچھنے کا کیا باعثسید یوسف علی خاں ناظم
  9. دل میں اتری ہے نگہ رہ گئیں باہر پلکیںکیا خدنگ نگہ یار کی ہیں پر پلکیںسید یوسف علی خاں ناظم
  10. عاشق‌ حق ہیں ہمیں شکوۂ تقدیر نہیںپیچ‌ قسمت کا کم از زلف گرہ گیر نہیںسید یوسف علی خاں ناظم
  11. قاضی کے منہ پہ ماری ہے بوتل شراب کییہ عمر بھر میں ایک ہوئی ہے ثواب کیسید یوسف علی خاں ناظم
  12. کبھی خوں ہوتی ہوئے اور کبھی جلتے دیکھادل کو ہر بار نیا رنگ بدلتے دیکھاسید یوسف علی خاں ناظم
  13. کلام سخت کہہ کہہ کر وہ کیا ہم پر برستے ہیںلب ان کے لعل ہیں پر لعل سے پتھر برستے ہیںسید یوسف علی خاں ناظم
  14. کہاں ہے تو کہاں ہے اور میں ہوںانا الحق کا بیاں ہے اور میں ہوںسید یوسف علی خاں ناظم
  15. لے کے اپنی زلف کو وہ پیارے پیارے ہاتھ میںکہتے ہیں فتنوں کی چوٹی ہے ہمارے ہاتھ میںسید یوسف علی خاں ناظم
  16. محتاج نہیں قافلہ آواز درا کاسیدھی ہے رہ بت کدہ احسان خدا کاسید یوسف علی خاں ناظم
  17. مل جائیں ازدحام میں ہم ہی یہ ہم سے دوراک گھر جدا بنائیں گے دیر و حرم سے دورسید یوسف علی خاں ناظم
  18. میں نے کہا کہ دعوی‌ٔ الفت مگر غلطکہنے لگے کہ ہاں غلط اور کس قدر غلطسید یوسف علی خاں ناظم
  19. وہ جب آپ سے اپنا پردا کریںتو بند قبا کس طرح وا کریںسید یوسف علی خاں ناظم
  20. وہی گل ہے گلستاں میں وہی ہے شمع محفل میںوہی یوسف ہے زنداں میں وہی لیلیٰ ہے محمل میںسید یوسف علی خاں ناظم
  21. ہم ان کی نظر میں سمانے لگےمگر جب نظر بھی نہ آنے لگےسید یوسف علی خاں ناظم
  22. ہم کو ہوس جلوہ گاہ طور نہیں ہےاس حسن کی کیا قدر جو مستور نہیں ہےسید یوسف علی خاں ناظم
  23. ہم نے سو سو طرح بنائی باتسامنے اس کے بن نہ آئی باتسید یوسف علی خاں ناظم
  24. ہے آئینہ خانے میں ترا ذوق فزا رقصکرتے ہیں بہت سے ترے ہم شکل جدا رقصسید یوسف علی خاں ناظم
  25. اخلاص کی دھوکے پر ہوں مائل تیراسچ تو یہ ہے کہ جانتا ہے مشکل تیراسید یوسف علی خاں ناظم
  26. انداز و ادا سے کچھ اگر پہچانوںالبتہ اسے خدا قائل جانوںسید یوسف علی خاں ناظم
  27. اے نوش لب و ماہ رخ و زہرہ جبیںآئنہ ہی ترے رخ پہ حیران نہیںسید یوسف علی خاں ناظم
  28. باقی نہ رہی ہاتھ میں جب قوت و زوربن جائے نہ کیوں عقدۂ خاطر ہر پورسید یوسف علی خاں ناظم
  29. جاناں کو سر مہر و وفا ہے جھوٹ سبکچھ اس نے کہا ہے یا لکھا ہے جھوٹ سبسید یوسف علی خاں ناظم
  30. سجادہ ہے میرا فلک نیلی فامتسبیح کواکب آفتاب اس کا امامسید یوسف علی خاں ناظم
  31. صورت وہ بھلی کہ ہو مگر ماہ تمامسیرت وہ بری کہ ہو مگر والیٔ شامسید یوسف علی خاں ناظم
  32. ناظمؔ اسے خط میں کہتے ہو کیا لکھیےہم کیا کہیں حال زار اپنا لکھیےسید یوسف علی خاں ناظم
  33. ہر چند لطف و مہربانی پیش آئےہرگز کوئی اس شوخ کو ساقی نہ بنائےسید یوسف علی خاں ناظم
  34. ہو ہند کا مدح خواں برس میں دو بارہے عشرت رائیگاں برس میں دو بارسید یوسف علی خاں ناظم
  35. آ جائے اگر حکم فلک سے ناظمؔاس حکم کو ہم سنیں ملک سے ناظمؔسید یوسف علی خاں ناظم
  36. الجھے جو رقیب سے وہ کل پی کے شرابکہتے ہیں ہوا چاک کشاکش میں نقابسید یوسف علی خاں ناظم
  37. پھیلا کے تصور کے اثر کو میں نےمشہور کیا سعیٔ نظر کو میں نےسید یوسف علی خاں ناظم
  38. ظاہر میں اگرچہ یار غم خوار نہیںپر عشق کی تاثیر بھی بے کار نہیںسید یوسف علی خاں ناظم
  39. عاشق جو ہوا ہے تو کسے پر ناگاہہے میری طرح سے حال تیرا بھی تباہسید یوسف علی خاں ناظم
  40. کیا بات ہے کارساز تیری میں کونکیا شان ہے بے نیاز تیری میں کونسید یوسف علی خاں ناظم
  41. گر عقل و شعور کی رسائی ہوتےواعظ کی سمجھ میں بات آئی ہوتیسید یوسف علی خاں ناظم
  42. گر کہے حلول ہے وہ اک امر قبیحایسا ہے کچھ اتحاد باطل ہے صریحسید یوسف علی خاں ناظم
  43. گو اس کی نہیں لطف و عنایت باقیہے اس سے ہمیں ایک حکایت باقیسید یوسف علی خاں ناظم
  44. گو کچھ بھی وہ منہ سی نہیں فرماتے ہیںشیریں سخنی کا ہم مزا پاتے ہیںسید یوسف علی خاں ناظم
  45. ناگاہ مجھے دکھا کے تاب رخساردین و دل و ہوش لے گئے وہ یکبارسید یوسف علی خاں ناظم
  46. وہ چشمہ دلا کہاں سے پیدا ہوگاپیدا بھی ہوا تو تو ہی کہہ کیا ہوگاسید یوسف علی خاں ناظم
  47. یہاں کال سے ہے طرح طرح کی تکلیففاقوں سے ہوئے ہیں آدمی زار نحیفسید یوسف علی خاں ناظم
  48. یہ بندۂ خاکسار یعنی ناظمؔعاصی و گناہ گار یعنی ناظمؔسید یوسف علی خاں ناظم
  49. رونے کی یہ شدت ہے کہ گھبرا گئیں آنکھیںاشکوں کی یہ کثرت ہے کہ تنگ آ گئیں آنکھیںسید یوسف علی خاں ناظم