Poetry
- اپنا اپنا رنگ دکھلاتی ہیں جانی چوڑیاںآسمانی ارغوانی زعفرانی چوڑیاںسید یوسف علی خاں ناظم
- اس توقع پہ کہ دیکھوں کبھی آتے جاتےگھس گئے پاؤں رہ دوست میں جاتے جاتےسید یوسف علی خاں ناظم
- بر سر لطف آج چشم دل ربا تھی میں نہ تھاڈھونڈھتی مجھ کو نگاہ آشنا تھی میں نہ تھاسید یوسف علی خاں ناظم
- بے دیے لے اڑا کبوتر خطیوں پہنچتا ہے اوپر اوپر خطسید یوسف علی خاں ناظم
- تھی آسماں پہ میری چڑھائی تمام راتپھینکا کیا ہوں تیر ہوائی تمام راتسید یوسف علی خاں ناظم
- تیرے در سے میں اٹھا لیکن نہ میرا دل اٹھاچھوڑ کر ہو جس طرح کاسہ کوئی سائل اٹھاسید یوسف علی خاں ناظم
- جاں فشانی کا واں حساب عبثجو کہو اس کا ہے جواب عبثسید یوسف علی خاں ناظم
- جب کہو کیوں ہو خفا کیا باعثکہتے ہیں پوچھنے کا کیا باعثسید یوسف علی خاں ناظم
- دل میں اتری ہے نگہ رہ گئیں باہر پلکیںکیا خدنگ نگہ یار کی ہیں پر پلکیںسید یوسف علی خاں ناظم
- عاشق حق ہیں ہمیں شکوۂ تقدیر نہیںپیچ قسمت کا کم از زلف گرہ گیر نہیںسید یوسف علی خاں ناظم
- قاضی کے منہ پہ ماری ہے بوتل شراب کییہ عمر بھر میں ایک ہوئی ہے ثواب کیسید یوسف علی خاں ناظم
- کبھی خوں ہوتی ہوئے اور کبھی جلتے دیکھادل کو ہر بار نیا رنگ بدلتے دیکھاسید یوسف علی خاں ناظم
- کلام سخت کہہ کہہ کر وہ کیا ہم پر برستے ہیںلب ان کے لعل ہیں پر لعل سے پتھر برستے ہیںسید یوسف علی خاں ناظم
- کہاں ہے تو کہاں ہے اور میں ہوںانا الحق کا بیاں ہے اور میں ہوںسید یوسف علی خاں ناظم
- لے کے اپنی زلف کو وہ پیارے پیارے ہاتھ میںکہتے ہیں فتنوں کی چوٹی ہے ہمارے ہاتھ میںسید یوسف علی خاں ناظم
- محتاج نہیں قافلہ آواز درا کاسیدھی ہے رہ بت کدہ احسان خدا کاسید یوسف علی خاں ناظم
- مل جائیں ازدحام میں ہم ہی یہ ہم سے دوراک گھر جدا بنائیں گے دیر و حرم سے دورسید یوسف علی خاں ناظم
- میں نے کہا کہ دعویٔ الفت مگر غلطکہنے لگے کہ ہاں غلط اور کس قدر غلطسید یوسف علی خاں ناظم
- وہ جب آپ سے اپنا پردا کریںتو بند قبا کس طرح وا کریںسید یوسف علی خاں ناظم
- وہی گل ہے گلستاں میں وہی ہے شمع محفل میںوہی یوسف ہے زنداں میں وہی لیلیٰ ہے محمل میںسید یوسف علی خاں ناظم
- ہم ان کی نظر میں سمانے لگےمگر جب نظر بھی نہ آنے لگےسید یوسف علی خاں ناظم
- ہم کو ہوس جلوہ گاہ طور نہیں ہےاس حسن کی کیا قدر جو مستور نہیں ہےسید یوسف علی خاں ناظم
- ہم نے سو سو طرح بنائی باتسامنے اس کے بن نہ آئی باتسید یوسف علی خاں ناظم
- ہے آئینہ خانے میں ترا ذوق فزا رقصکرتے ہیں بہت سے ترے ہم شکل جدا رقصسید یوسف علی خاں ناظم
- اخلاص کی دھوکے پر ہوں مائل تیراسچ تو یہ ہے کہ جانتا ہے مشکل تیراسید یوسف علی خاں ناظم
- انداز و ادا سے کچھ اگر پہچانوںالبتہ اسے خدا قائل جانوںسید یوسف علی خاں ناظم
- اے نوش لب و ماہ رخ و زہرہ جبیںآئنہ ہی ترے رخ پہ حیران نہیںسید یوسف علی خاں ناظم
- باقی نہ رہی ہاتھ میں جب قوت و زوربن جائے نہ کیوں عقدۂ خاطر ہر پورسید یوسف علی خاں ناظم
- جاناں کو سر مہر و وفا ہے جھوٹ سبکچھ اس نے کہا ہے یا لکھا ہے جھوٹ سبسید یوسف علی خاں ناظم
- سجادہ ہے میرا فلک نیلی فامتسبیح کواکب آفتاب اس کا امامسید یوسف علی خاں ناظم
- صورت وہ بھلی کہ ہو مگر ماہ تمامسیرت وہ بری کہ ہو مگر والیٔ شامسید یوسف علی خاں ناظم
- ناظمؔ اسے خط میں کہتے ہو کیا لکھیےہم کیا کہیں حال زار اپنا لکھیےسید یوسف علی خاں ناظم
- ہر چند لطف و مہربانی پیش آئےہرگز کوئی اس شوخ کو ساقی نہ بنائےسید یوسف علی خاں ناظم
- ہو ہند کا مدح خواں برس میں دو بارہے عشرت رائیگاں برس میں دو بارسید یوسف علی خاں ناظم
- آ جائے اگر حکم فلک سے ناظمؔاس حکم کو ہم سنیں ملک سے ناظمؔسید یوسف علی خاں ناظم
- الجھے جو رقیب سے وہ کل پی کے شرابکہتے ہیں ہوا چاک کشاکش میں نقابسید یوسف علی خاں ناظم
- پھیلا کے تصور کے اثر کو میں نےمشہور کیا سعیٔ نظر کو میں نےسید یوسف علی خاں ناظم
- ظاہر میں اگرچہ یار غم خوار نہیںپر عشق کی تاثیر بھی بے کار نہیںسید یوسف علی خاں ناظم
- عاشق جو ہوا ہے تو کسے پر ناگاہہے میری طرح سے حال تیرا بھی تباہسید یوسف علی خاں ناظم
- کیا بات ہے کارساز تیری میں کونکیا شان ہے بے نیاز تیری میں کونسید یوسف علی خاں ناظم
- گر عقل و شعور کی رسائی ہوتےواعظ کی سمجھ میں بات آئی ہوتیسید یوسف علی خاں ناظم
- گر کہے حلول ہے وہ اک امر قبیحایسا ہے کچھ اتحاد باطل ہے صریحسید یوسف علی خاں ناظم
- گو اس کی نہیں لطف و عنایت باقیہے اس سے ہمیں ایک حکایت باقیسید یوسف علی خاں ناظم
- گو کچھ بھی وہ منہ سی نہیں فرماتے ہیںشیریں سخنی کا ہم مزا پاتے ہیںسید یوسف علی خاں ناظم
- ناگاہ مجھے دکھا کے تاب رخساردین و دل و ہوش لے گئے وہ یکبارسید یوسف علی خاں ناظم
- وہ چشمہ دلا کہاں سے پیدا ہوگاپیدا بھی ہوا تو تو ہی کہہ کیا ہوگاسید یوسف علی خاں ناظم
- یہاں کال سے ہے طرح طرح کی تکلیففاقوں سے ہوئے ہیں آدمی زار نحیفسید یوسف علی خاں ناظم
- یہ بندۂ خاکسار یعنی ناظمؔعاصی و گناہ گار یعنی ناظمؔسید یوسف علی خاں ناظم
- رونے کی یہ شدت ہے کہ گھبرا گئیں آنکھیںاشکوں کی یہ کثرت ہے کہ تنگ آ گئیں آنکھیںسید یوسف علی خاں ناظم