Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اب آئیں یا نہ آئیں ادھر پوچھتے چلوکیا چاہتی ہے ان کی نظر پوچھتے چلوSahir Ludhianvi (1921–1980)
  2. اب کوئی گلشن نہ اجڑے اب وطن آزاد ہےروح گنگا کی ہمالہ کا بدن آزاد ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  3. اپنا دل پیش کروں اپنی وفا پیش کروںکچھ سمجھ میں نہیں آتا تجھے کیا پیش کروںSahir Ludhianvi (1921–1980)
  4. اتنی حسین اتنی جواں رات کیا کریںجاگے ہیں کچھ عجیب سے جذبات کیا کریںSahir Ludhianvi (1921–1980)
  5. اس طرف سے گزرے تھے قافلے بہاروں کےآج تک سلگتے ہیں زخم رہ گزاروں کےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  6. اہل دل اور بھی ہیں اہل وفا اور بھی ہیںایک ہم ہی نہیں دنیا سے خفا اور بھی ہیںSahir Ludhianvi (1921–1980)
  7. بجھا دیے ہیں خود اپنے ہاتھوں محبتوں کے دیے جلا کےمری وفا نے اجاڑ دی ہیں امید کی بستیاں بسا کےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  8. برباد محبت کی دعا ساتھ لیے جاٹوٹا ہوا اقرار وفا ساتھ لیے جاSahir Ludhianvi (1921–1980)
  9. بھڑکا رہے ہیں آگ لب نغمہ گر سے ہمخاموش کیا رہیں گے زمانے کے ڈر سے ہمSahir Ludhianvi (1921–1980)
  10. بھولے سے محبت کر بیٹھا، ناداں تھا بچارا، دل ہی تو ہےہر دل سے خطا ہو جاتی ہے، بگڑو نہ خدارا، دل ہی تو ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  11. پربتوں کے پیڑوں پر شام کا بسیرا ہےسرمئی اجالا ہے چمپئی اندھیرا ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  12. پونچھ کر اشک اپنی آنکھوں سے مسکراؤ تو کوئی بات بنےسر جھکانے سے کچھ نہیں ہوتا سر اٹھاؤ تو کوئی بات بنےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  13. تری دنیا میں جینے سے تو بہتر ہے کہ مر جائیںوہی آنسو وہی آہیں وہی غم ہے جدھر جائیںSahir Ludhianvi (1921–1980)
  14. تم اپنا رنج و غم اپنی پریشانی مجھے دے دوتمہیں غم کی قسم اس دل کی ویرانی مجھے دے دوSahir Ludhianvi (1921–1980)
  15. تنگ آ چکے ہیں کشمکش زندگی سے ہمٹھکرا نہ دیں جہاں کو کہیں بے دلی سے ہمSahir Ludhianvi (1921–1980)
  16. توڑ لیں گے ہر اک شے سے رشتہ توڑ دینے کی نوبت تو آئےہم قیامت کے خود منتظر ہیں پر کسی دن قیامت تو آئےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  17. جب کبھی ان کی توجہ میں کمی پائی گئیاز سر نو داستان شوق دہرائی گئیSahir Ludhianvi (1921–1980)
  18. جرم الفت پہ ہمیں لوگ سزا دیتے ہیںکیسے نادان ہیں شعلوں کو ہوا دیتے ہیںSahir Ludhianvi (1921–1980)
  19. چہرے پہ خوشی چھا جاتی ہے آنکھوں میں سرور آ جاتا ہےجب تم مجھے اپنا کہتے ہو اپنے پہ غرور آ جاتا ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  20. چھو لینے دو نازک ہونٹوں کو کچھ اور نہیں ہے جام ہے یہقدرت نے جو ہم کو بخشا ہے وہ سب سے حسیں انعام ہے یہSahir Ludhianvi (1921–1980)
  21. خودداریوں کے خون کو ارزاں نہ کر سکےہم اپنے جوہروں کو نمایاں نہ کر سکےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  22. دور رہ کر نہ کرو بات قریب آ جاؤیاد رہ جائے گی یہ رات قریب آ جاؤSahir Ludhianvi (1921–1980)
  23. دیکھا تو تھا یوں ہی کسی غفلت شعار نےدیوانہ کر دیا دل بے اختیار نےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  24. دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنا قریب سےچہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  25. دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنے قریب سےچہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  26. سزا کا حال سنائیں جزا کی بات کریںخدا ملا ہو جنہیں وہ خدا کی بات کریںSahir Ludhianvi (1921–1980)
  27. سنسار سے بھاگے پھرتے ہو بھگوان کو تم کیا پاؤ گےاس لوک کو بھی اپنا نہ سکے اس لوک میں بھی پچھتاؤ گےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  28. سنسار کی ہر شے کا اتنا ہی فسانہ ہےاک دھند سے آنا ہے اک دھند میں جانا ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  29. شرما کے یوں نہ دیکھ ادا کے مقام سےاب بات بڑھ چکی ہے حیا کے مقام سےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  30. صدیوں سے انسان یہ سنتا آیا ہےدکھ کی دھوپ کے آگے سکھ کا سایا ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  31. طرب زاروں پہ کیا بیتی صنم خانوں پہ کیا گزریدل زندہ ترے مرحوم ارمانوں پہ کیا گزریSahir Ludhianvi (1921–1980)
  32. عقائد وہم ہیں مذہب خیال خام ہے ساقیازل سے ذہن انساں بستۂ اوہام ہے ساقیSahir Ludhianvi (1921–1980)
  33. فن جو نادار تک نہیں پہنچاابھی معیار تک نہیں پہنچاSahir Ludhianvi (1921–1980)
  34. کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیابات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیاSahir Ludhianvi (1921–1980)
  35. کیا جانیں تری امت کس حال کو پہنچے گیبڑھتی چلی جاتی ہے تعداد اماموں کیSahir Ludhianvi (1921–1980)
  36. گلشن گلشن پھولدامن دامن دھولSahir Ludhianvi (1921–1980)
  37. لب پہ پابندی تو ہے احساس پر پہرا تو ہےپھر بھی اہل دل کو احوال بشر کہنا تو ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  38. محبت ترک کی میں نے گریباں سی لیا میں نےزمانے اب تو خوش ہو زہر یہ بھی پی لیا میں نےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  39. مرے دل میں آج کیا ہے تو کہے تو میں بتا دوںتیری زلف پھر سنواروں تری مانگ پھر سجا دوںSahir Ludhianvi (1921–1980)
  40. ملتی ہے زندگی میں محبت کبھی کبھیہوتی ہے دلبروں کی عنایت کبھی کبھیSahir Ludhianvi (1921–1980)
  41. میری تقدیر میں جلنا ہے تو جل جاؤں گاتیرا وعدہ تو نہیں ہوں جو بدل جاؤں گاSahir Ludhianvi (1921–1980)
  42. میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیاہر فکر کو دھوئیں میں اڑاتا چلا گیاSahir Ludhianvi (1921–1980)
  43. میں زندہ ہوں یہ مشتہر کیجیےمرے قاتلوں کو خبر کیجیےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  44. نہ تو زمیں کے لئے ہے نہ آسماں کے لیےترا وجود ہے اب صرف داستاں کے لیےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  45. ہر چند مری قوت گفتار ہے محبوسخاموش مگر طبع خود آرا نہیں ہوتیSahir Ludhianvi (1921–1980)
  46. ہر طرح کے جذبات کا اعلان ہیں آنکھیںشبنم کبھی شعلہ کبھی طوفان ہیں آنکھیںSahir Ludhianvi (1921–1980)
  47. ہر قدم مرحلۂ دار و صلیب آج بھی ہےجو کبھی تھا وہی انساں کا نصیب آج بھی ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  48. ہم آپ کی آنکھوں میں اس دل کو بسا دیں توہم موند کے پلکوں کو اس دل کو سزا دیں توSahir Ludhianvi (1921–1980)
  49. ہوس نصیب نظر کو کہیں قرار نہیںمیں منتظر ہوں مگر تیرا انتظار نہیںSahir Ludhianvi (1921–1980)
  50. یہ زلف اگر کھل کے بکھر جائے تو اچھااس رات کی تقدیر سنور جائے تو اچھاSahir Ludhianvi (1921–1980)